روہ، روہی، تھل، دامان خطہ سرائیکستان کی پہچان

(Imran Zaffar Bhatti, Muzzafar Garh)

سب سے پہلے میں اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ کافی دیر سے یہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اسکی وجہ یہ رہی کہ کچھ دن راقم کی طبعیت ناساز رہی اور کچھ چھٹیاں اور محرم کے ایام بھی تھے جس وجہ سے تحریر آپ دوستوں تک نہ پہنچ سکی اس وقفہ کے دوران مجھے ایک فون موصول ہوامیرے ایک سرائیکی دوست نے مجھے کہا کہ بس اتنا ہی لکھنا تھا۔ کیا آپ تھک گئے ہیں اتنی ہی محبت تھی دھرتی ماں سے اور بھی بہت کچھ کہا جو میں یہاں تحریر نہیں کر سکتا اس دوست کیلئے عرض ہے کہ جب انسان لکھتا ہے تو الفاظ تو ایک جیسے ہی ہوتے ہیں بس الفاظ میں تبدیلی کی وجہ سے اور موضوع کیوجہ سے مطلب تبدیل ہو جاتے ہیں قصے، کہانیاں اور راستے بدل جاتے ہیں سب کچھ بدل جاتا ہے میں ایک شخص جو ماں دھرتی سے محبت کرتا ہے اس کا مقصد تبدیل نہیں ہوتا میں الفاظ ختم ہو جائیں، تحریریں بند ہو جائیں مگر میری محبت میرے خطہ سرائیکستان سے کم نہ ہوگی ۔

چلئے جناب ہم اپنے آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں ہم جب بچے تھے تو ریڈیو پاکستان سے ایک پروگرام کو خورشید ملک سئیں میزبان کے طور پر چلاتے تھے جسے بچے، بوڑھے، خواتین سب شوق سے سنتے تھے اور جیسے ہی روہ، روہی، تھل دامان کا میوزک بجتا سب ریڈیو کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ روہ ، روہی ، تھل ، دامان اسی پر مختصراً بات کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے ،کہاں واقع ہے جی جناب روہ سے مراد پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں پر بسنے والے لوگوں کو روہیلے کہا جاتا ہے یہ علاقہ راجن پور، ڈیرہ غازیخان،ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک جیسے علاقوں پر مشتمل ہے یہاں کے لوگ بھیڑ بکریاں پال کر گزر بسر کرتے ہیں اور انتہائی سادہ زندگی گزارنے والے لوگ ہیں یہاں کے لوگ اونٹوں پرزیادہ سفر کرتے ہیں یہاں کے پہاڑ، معدنیاتجس میں سنگ مرمر، یورینیم، روڑہ، پتھر، بجری اور بہت سارے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اسی علاقہ میں دو تفریحی مقام ہیں جن میں ایک فورٹ منرو کے نام سے مشہور ہے یہاں سہولیات کا فقدان ہے جبکہ دوسرا مقام کوہ ماڑی ہے جسے اس خطہ کا مری کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے مگر افسوس اس پر بھی آج تک کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔

روہی ، روہی کا نام سنتے ہی حضرت خواجہ غلام فرید ؒ آف کوٹ مٹھن شریف ذہن میں گھر کر جاتے ہیں کیونکہ آپ کا روہی سے بہت گہرا تعلق تھا روہی کا علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں ریت ہی ریت نظر آتی ہے اور یہاں پر مشہور اور قدیم پھل پیلہوں کا پھل ہے جس کا پھل چننا آسان کام نہیں اور اس پھل کو روہی کی خواتین ٹولیوں کی شکل میں ملکر چنتی ہیں یہ پھل بازار میں بہت کم دستیاب ہوتا ہے اس پھل کیلئے حضرت خواجہ غلام فرید ؒ نے فرمایا کہ" پیلہوں پکیاں نی…… آ چنڑوں رل یار" حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کو روہی سے بے حد لگاؤ تھا۔ اس لیے آپ نے اپنے کلام میں ایک جگہ فرمایا کہ" ساکوں روہی یار ملاوڑی اے ……شالا ہووے ہر دم ساوڑی اے" ۔روہی کا ذکر ہو اور ٹوبھے کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہ جاتی ہے ٹوبھا ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اور لوگ یہاں سے پانی بھر کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں یہ علاقہ بہاولپور سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے جو کہ بارڈر پار راجھستان سے جا ملتا ہے اس خطہ میں ہر سال چنن پیر کا کا میلہ بھی سجتا ہے جو کہ اس خطہ میں بہت مشہور ہے۔

تھل کا صحرا بھی اس خطہ کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور یہ قدیمی اور تاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ضلع خوشاب کے علاقہ جوہر آباد سے پھر میانوالی کے مقام ہرنولی کے قریب سے شروع ہوتا ہے اور مظفر گڑھ آ کر ختم ہوتا ہے ۔تھل کا صحرا میانوالی، بھکر، خوشاب، جھنگ، لیہ اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں ایک مثلث کی شکل میں موجود ہے اس تھل کی ثقافت بھی دیگر صحراؤں کی طرح انتہائی خوبصورت ہے مگر افسوس کہ عدم توجہی کیوجہ سے یہاں کی ثقافت روبہ زوال ہے یہاں ہر طرف ریت کے ٹیلے، ٹبے موجود ہیں پانی اور آبادی دیگر صحراؤں کی طرح کم ہے جبکہ یہاں بھی صحرائی پودے اور جانور ہیں دریائے سندھ سے ایک نہر نکالی گئی جو کہ اس علاقہ کو پانی فراہم کرنے میں اہم ہے۔ یہاں مختلف میلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جیسے جیپ ریلی اور اونٹوں کے میلے جیسے تہوار شامل ہیں۔

دامان سے مراد میدانی علاقہ ہے جہاں پر کاشت کاری و دیگر کاروبار زندگی اور سہولیات زندگی آسانی سے میسر آتی ہوں دامانی علاقہ کہا جاتا ہے خطہ سرائیکستان میں ایسے بہت سارے اضلاع ہیں جن میں چکوال، ملتان، مظفر گڑھ ، خانیوال و دیگر شامل ہیں اس خطہ میں روہ، روہی اور تھل کی رسم و رواج ہلکی پھلی جھلک نظر آتی ہے ۔ ان علاقوں میں سرائیکی زبان کے کئی لہجے بھی شامل ہیں جن کو ابھیچڑی یا اوبھے دا لہجہ(شمالی لہجہ، لموچڑی یا لمے دا لہجہ (جنوب کا لہجہ)،ڈبھاری یا رچناوی لہجہ،سرولی یا سندھی سرائیکی لہجہ ، دامانی لہجہ، جٹکی، کیرالی، جھنگوی، اوچوی و دیگر شامل ہیں مگر ان تمام لہجوں میں جو معیاری لہجہ سمجھا اور مانا جاتا ہے وہ ملتانی لہجہ ہے جو کہ ضلع ملتان اور مظفر گڑھ میں بولا جاتا ہے۔دامان کے علاقے میں تاریخی طور پر مظفر گڑھ کو جو اہمیت حاصل تھی وہ کسی علاقہ یا ضلع کو نہ تھی اس ضلع سے متعلق ایک ضرب المثل مشہور تھی کہ " مظفر گڑھ کی کتنی تحصیل ، سن میرے بھیا، علی پور مظفر گڑھ کوٹ ادو تے لیہ" یہ چار تحصیلیں کیوں مشہور تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ علی پور کے انار، مظفر گڑھ کے ڈوکے(کھجور)، لیہ کے کھیس اور کوٹ ادو کے ہنے(گُھڑ سواری پر بیٹھنے کیلئے بنائی جانے والی کرسی) شامل ہیں۔اب لیہ مظفر گڑھ سے علیحدہ ہو کر ضلع بن چکا اور علی پور سے جتوئی علیحدہ ہو کر تحصیل بن گئی ہے مگر ان علاقوں میں یہ چاروں چیزیں آج بھی اسی طرح برقرار ہیں اس کے علاوہ بھی دامان کے علاقہ میں گنا، کھجور، گندم، کپاس، چاول ، آم و دیگر اشیاء آج بھی یہاں سے لہور و باہر کے ممالک میں بھیجی جاتی ہیں جو کہ پاکستان کی بہترین اجناس میں شامل ہیں۔

خطہ سرائیکستان قدرت کی طرف سے مالا مال خطہ ہے یہاں، پہاڑ، دریا، میدانی علاقہ، کھیت کھلیان سب کچھ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ خطہ پورے پاکستان کی تقریباً 45 سے 55فیصد ضروریات زندگی پوری کرتا ہے۔ یہ خطہ ایک طرح سے یوں بھی قابل عزت ہے کہ ایک تو یہاں کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں جبکہ دیگر اقوام کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت میں آباد ہوئی ہیں جب پاکستان بنا تو پاکستان کے پاس کچھ بھی نہ تھا حتیٰ کہ پاکستان کی کرنسی کی ضمانت دینے والے بھی نواب عباسی ہی تھے پاکستان کا پہلے بجٹ کی رقم بھی انہوں نے ہی دی تھی جبکہ پاکستان کے ملازمین کی پہلی تنخواہ بھی ریاست بہاولپور نے ادا کی جس کے آج بھی کئی ثبوت موجود ہیں مگر افسوس کہ حکمرانوں نے اس بہت ہی خوبصورت خطے کو ہمیشہ نظر انداز کیا حتی کہ یہاں کے لوگوں کو ان پڑھ اور دیگر القابات سے بھی نوازا جاتا ہے یہاں کے باسی بیوقوف نہیں بلکہ وہ اس ملک کے خیر خواہ ہیں اور خود کو اس ملک کے حقیقی وارث سمجھتے ہیں اس لیے بار بار قربانیاں دیتے ہیں حالانکہ دوسری اقوام سرائیکیوں کی ثقافت کو بھی مسخ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ میری دعا ہے کہ رب کریم ہم سب کو سچ ماننے اور سمجھنے کی توفیق عطا کرے ۔ اﷲ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Zaffar Bhatti

Read More Articles by Imran Zaffar Bhatti: 24 Articles with 7244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2018 Views: 418

Comments

آپ کی رائے
Thanks to hamariweb.com
By: عمران, Jatoi, Muzaffar Garh on Sep, 28 2018
Reply Reply
0 Like