ہمارا پاکستان اور ہم۔۔۔

(Engr.Mazhar Khan, )

پاکستان ایک سونے کی چڑیا ہے اکثر لوگوں سے ُسنا ہے لیکن میں اسے سونے کی نہیں ہیرے کی چڑیا کہتا ہوں بدقسمتی سے یہ حرص میں اندھے سناروں کی حواس کا نشانہ بن گئی اور عرصہِ دراز سے بنی ہوئی ہے پاکستان سونے کی چڑیا کیسے ہے آو ذرا متعارف کراوٗں۔ اس ارض ِ پاک کو خدا نے کونسی نعمت سے نہیں نوازا۔؟؟ معدنیات کی بات کروں تو یہاں سونے کے پہاڑ ہیں،قدرتی گیس کا بہت بڑا ذخیرہ بلوچستان میں ہے اور حال ہی میں KPK میں بھی گیس کے وسیع ذخائیر کا انکشاف ہوا ہے وہاں سے نکالنے کی بجائے ذاتی مفاد پرستی کی وجہ سے ایران سے گیس کا معائدہ ہوا ہے، بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی کوئلہ ، انتھراسائٹ، یورینیم،لوہا اور تانبا موجود ہے رجوعہ چنیوٹ میں لوہا اور تانبا کافی مقدار کی تحقیق ہوئی ہے لیکن بعض وجوہ کی بنا پر وہ بس کاغذی کاروائی کی نظر ہے چنیو ٹ والے ذ خائیر کے موقع پر وزیراعظم صاحب تو کہ رہے تھے کہ اب کشکول ٹوٹ جائے گا لیکن کشکول پھر بھی نہ ٹوٹا، بات قدرت کے انعامات کی ہو رہی تھی جو خدا نے اس دھرتی کو نوازے معدنیات کے بعد موسموں کو دیکھیں تو قدرت نے ہمیں چار موسموں سے نوازا ہے ہم کسی بھی ماہ میں کسی بھی موسم سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں میدانی علاقوں میں مئی جون میں جب سخت گرمی پڑتی ہے تو آپ شمالی علاقہ جات میں معتدل موسم کے مزے لے سکتے ہیں اور سردیوں میں جب شمالی علاقہ میں سخت سردی ہو تو سبی اور ملتان والے علاقہ میں قدرے کم سردی ہوتی ہے آپ وہاں راحت محسوس کر سکتے ہیں لیکن اگر دنیا کے کسی اور ملک کو دیکھیں تو وہاں جہاں سردی پڑتی ہے وہاں سردی کا دورانیہ بہت ذیادہ ہوتا ہے اور گرمی کا بھی یہی حال ہے۔ سطح زمین کی بات کریں تو اس ارض ِپاک کے شمال میں بلندو بالا برف سے ڈھکی پہاڑیاں ، جنوب میں گرم پانی والا بحیرہ عرب، مغرب میں معدنیات سے مالامال پہاڑی سلسلہ اور مشرق میں وادی ِ سندھ جس میں پہاڑ ،سرسبز جنگل ،کھیت اور صحرا شامل ہے اور وادی ِ سندھ جو کہ قدیم تہذیب کا گڑھ ہے ۔ پاکستان سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے جس کے ذریعے پوری دنیا تک رسائی ہے،اور سنٹرل ایشا کی ساری درآمدات اور برآمدات پاکستان کی بندرگاہوں سے ہو سکتی ہے اور پاکستان کا کراچی شہر دبئی سے زیادہ کاروباری مرکز بن سکتا ہے۔ یہاں کے باغات کے پھل پوری دنیا میں مقبول ہیں،۔پاکستان کا نہری نظام پوری دنیا مین سب سے ذیادہ موثر ہے۔ یہاں کے جنگلوں میں شیر ، خوبصورت پرندے،چیتے اور ہرن پائے جاتے ہیں وہ کون سی نعمت ہے جو خدا وند ِکریم نے اس وطن ِ پاک کو نہیں دی۔۔۔؟؟ پہاڑ ، سمندر،میدان،جنگلات،معدنیات ،چاروں موسم اور دریا۔کیا کیا اﷲ نے ہمیں اور اس ارض ِ پاک کو دیا ہے۔ اﷲ کی اتنی نعمتیں ہونے کے باوجود ہم زوال پذیر اوراس زوال کی اصل وجہ کوئی اور نہیں ہم خود ہیں ہم نے اس وطن ِ عزیز کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا۔۔؟؟ہم نے اس کی کشتی کو دبونے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے جس کے پاس سوئی ہے وہ سوئی سے اور جس کے پاس سوا ہے وہ سوئے سے پاکستان کی کشتی کو سوراخ کرنے میں لگا ہوا ہے الغرض اوپر سے لے کر نیچے چپڑاسی تک اس ملک کو لوٹنے پہ لگا ہوا ہے جس کا جتنا داؤ لگتا ہے وہ بلا خوف و خطر لوٹ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں جس ملک کا انٹی کرپشن کا محکمہ خود کرپشن کی آخری حدوں کو عبور کر چکا ہو، جس ملک میں انصاف فراہم کرنے والے ادارے بکاؤ ہوں اور قانون جاگیرداروں کی لونڈی بن جائے، جس ُملک میں احتساب کرنے والے اداروں کو چور اور لٹیرے خود اپنی مرضی سے منتخب کریں اس ُملک کا اﷲ ہی حافظ ہے۔ اکثر سوچتا ہوں کہ اگر اس وطن ِ عزیز کو رب ِ قائنات کی کرم نوازی ہے ورنہ جو حشر ہم سب نے مل کر کیا ہے اگر کوئی اور ُملک ہوتاتو نام و نشان تک نہ ملتا۔ اس میں کوئی مضحکہ نہیں کہ اس مُلک کو مسائل کی سر زمین کہا جائے یہ دھرتی صرٖف اور صرف مسائل سے گھری ہوئی ہے اور حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی مسائل پر مسائل اور حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں اور مسائل اتنے کے شمار نہیں۔پانی ،گیس اور کوئلہ ہونے کے باوجود بجلی کے بحرانوں کو شکار، زرعی مُلک ہونے کے باوجود زرعی اجناس کی قلت، انصاف نام کی کوئی چیز نہیں، ادارے کمزور سے کمزور تر، آدھی سے زیادہ عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، نظامِ ِ تعلیم جہالت کی تھوک منڈی، مہنگائی آسمان سے باتیں کرتے ہوئے، ہسپتالوں کی حالت ابتر، کوئی بھی چیز ملاوٹ سے پاک نہیں، قبضہ گروپس کا راج، ڈسپلن کا فقدان، میرٹ نہ ہونے کے برابر، بے روزگاری انتہا تک، جعلی ڈاکٹر، جعلی پیر،جعلی عامل،جعلی ڈگریاں اور سب سے بڑی افسوس ناک صورتِ حال یہ کہ جعلی ادویات، عوام کی محافظ پولیس دہشت کا نشان اور چوروں ڈاکوں کی حصہ دار،سفارش اور پٹواری کلچراور تھانہ کلچر، رشوت کا بازار گرم، حکمرانوں کے جھوٹے وعدے اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں، فتوئے اور فتوئے بیچنے والے ملّاں، ہسپتالوں میں علاج نہ ہونے کے برابر، دہشتگردی اور فرقہ واریت بلندیوں کو چھوتے ہوئے، پی آئی اے بیڑا غرق، سٹیل مل عبرت کا نشان، ریلوئے سبحان اﷲ، جمہوریت کے نام پر فراڈ، دھونس اور دھاندلی، حرص و حواس، وڈیرہ شاہی، پ5,5سال کے بچوں کے ساتھ جنسی زیاتی، تھر میں قحط سالی، بلوچستان میں خشک سالی، نااہل اور جعلی ڈگری ہولڈر حکمران ، بیرونی قرضوں کا یہ حال کہ جو نسلیں ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی وہ بھی مقروض اور سچ ناپیدہے۔یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کی جڑیں ہم خود اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہے ہیں اور کٹوا رہے ہیں کبھی کبھی تو بہت دکھی اور شرمسار ہوتا ہوں جب اپنی قوم کی بے حسی کو دیکھتا ہوں وہ ایک پاکستانی جو پاکستان میں رہ کر قانون توڑنا فخر محسوس کرتا ہے، ٹیکس نہیں دیتا، بے ایمانی اورفراڈ کرتا ہے، اپنی ذ مہ داری احسن طریقے سے سرانجام نہیں دیتاغرض کہ ہر غیرقانونی اور غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملاوث ہوتا ہے لیکن جب وہ کسی دوسرے مُلک جاتا ہے تو ایک قانون کا پاسدار، بے ایمانی ، کام چوری اور رشوت سے پاک، ہر قسم کے غیرقانونی کام سے اور ایک مہذب شہری بن جاتا ہے اس کا مطلب ہے ہم اپنے ہی مُلک ،اپنی ہی قوم اپنے ہی خاندان اور اپنے کے ہی دشمن ہیں اور ہم جس شاخ پہ بیٹھے ہیں اُسی کو ہی کاٹ رہے ہیں۔جب ہم خود ہی اس مُلک کی افسوسناک حالت کے ذمہ دار ہیں تو پھر کسی اور کہ کیا دوش دینا کہ فلاں سازش کر رہا ہے سازششیں تو ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہی ہیں

تو ادھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔۔۔مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
یہ سوچنا بلکل فضول ہے کہ کوئی حکمران ہمارے حالات ٹھیک کرے گا کیونکہ وہ ہمارے حالات ٹھیک کرنے نہیں اپنے حالات ٹھیک کرنے آتے ہیں اور پھر جاہل اور ناسمجھ قوم نے جاہل اور ناسمجھ حکمرانوں کو ہی منتخب کرنا ہوتا ہے،اس سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہو گاجب ہم خود ٹھیک ہو جائیں گے تو پھر ہم اچھے ، نیک اور قابل حکمران بھی منتخب کریں گے۔جب ہم نے ووٹ ہی یہی سوچ کے دینا ہے کہ یہ سیاستدان میرے کسی غیرقانونی کام میں مدد کرے گا یا سفارش سے نوکری لگوائے گا وغیرہ وغیرہ جب ہم خود ہی چور ، قانون شکن،بداخلاق اور غیرمہذب ہیں تو پھر ہمارا منتخب کیا ہوا بندہ اچھا اور پاکیزہ کیسے ہو گا۔؟؟ ذرا سوچیے غلطی ہماری ہے اور ہم ہی اسے ٹھیک کر سکتے ہیں اگر ہمیں پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا ہے تو پھر ہمیں پہلے خود اپنی صفوں کو سیدھا کرنا ہو گا اور ایک قانون پسند اور مہذب شہری بننا ہو گا اور اس ارض ِ پاک کو ایک قابل ِ رشک مملکت بنانا ہو گا اور وہ صرف اُسی وقت ممکن ہے جب ہم ایمانداری، حب وطنی،سچی لگن، قانون کی پاسداری ،علم و ادب،قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل اور اﷲ پر بھروسہ کریں گے۔اﷲ ہماری اندرونی اور بیرونی افتوں اور سازشوں سے بچائے۔۔آمین!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr.Mazhar Khan

Read More Articles by Engr.Mazhar Khan: 11 Articles with 5078 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2018 Views: 369

Comments

آپ کی رائے