8اکتوبر ۔۔۔ محسنوں شہداء کو سلام اور کرپشن نااہلی پر ماتم کا دِن

(Tahir Ahmad Farooqi, Muzaffarabad ajk)
8اکتوبر ۔۔۔ محسنوں شہداء کو سلام اور کرپشن نااہلی پر ماتم کا دِن

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کا دِن آزادکشمیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے حوالے سے ساری دنیا میں قیامت کے ایک پرچھائی منظر کے طور پر دیکھا اور سنا گیا گو کہ رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں اور رواں صدی کے پانچویں سال اس کا وہم گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا مگر چند لمحوں میں زلزلہ نام کی یہاں زمینی انگڑائی نے سب کچھ کھنڈرات میں بدل دیا اور گزشتہ پوری صدی کی محنت ریاضت تعمیر و ترقی ‘ خوشحالی خاک میں مل کر رہ گئی ‘ خصوصاً بزرگ مرد عورت اور سب سے بڑی تعداد میں نوجوانوں و معصوم بچوں کے جنازے اُٹھائے گئے یہ وہ اپنے خاندانوں کے سرمایہ حیات تھے جو واپس نہ آئیں گے
ہوئے نام ور بے نشان کیسے کیے
زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے
ہزاروں برس کی بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

اس عالم میں قبرستان سے لیکر آثار قدیمہ جیسے کلمات سے ان علاقوں کا حال و مستقبل تعبیر کیا گیا ایسا ہی تھا زلزلہ کی طرح اس کے بعد غلط فہمی کے طور پر بھی کسی کے ذہن میں یہ خیال تک نہ تھا کہ اب یہ شہر دیہات دوبارہ آباد ہوں گے اور ان کی تباہی بربادی بے بسی رنج و غم تکالیف بہت بڑے عرصے تبدیل ہوں سکیں گی ‘ اللہ رب العزت کی شان و کرم پر قربان جائیں جس کا خاص کرم ملت پاکستان پر ہے جو جذبہ انسانیت کے مسیحائی کردار کے حوالے سے ساری دنیا میں پہلے سات نمبرات میں شمار ہوتی ہے جس کے امیر سے امیر تر اور غریب سے غریب تر بزرگ مرد عورت ‘نوجوان حتیٰ کہ پانچویں کلاس کے معصوم بچوں نے بھی سخاوت و درد دِل کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے انصار مدینہ کے وارث و غم خوار ہونے کا باب عظیم رقم کیا ‘ سکول جیب خرچ کے لیے پانچ روپے دینے سے لے کر ماؤں نے کانوں سے سونے چاندی کی بالیاں اُتار کر امدادی قافلوں کا تانتا باندھ دیا اور ناصرف امداد و بحالی بلکہ ساری دنیا سے قرضوں کے بوجھ کو اپنے کاندھوں پر اُٹھائے ہوئے یہاں پہلے سے زیادہ ناقابل تصورگھروں سے لیکر ہسپتالوں ،تعلیمی اداروں کے منصوبہ جات یقینی بنائے جو معمول کے حالات میں اور دو سو سال ممکن نہ تھے بلکہ دستیاب وسائل اسباب کا خوف خدا کے ساتھ بروقت درست استعمال کیا جاتا تو ترقی یافتہ شہروں و آبادیوں کا شاہکار بن جاتے اور وہ سب باقی منصوبہ جات خصوصاً تعلیمی اداروں کی عمارات ہوں یا آج نیلم جہلم خاص کر دارالحکومت کو درپیش آزمائش کا ہر گز سامنا نہ ہوتا جو قدرت کی طرف سے ہے نہ حادثات کا نتیجہ ہے بلکہ کرپشن اور نااہلی کا خمیازہ ہے ‘ اس آگ کی چنگاریاں سفاک سنگ دِل رویے اور حق دار کا حق غصب کرنے کا ظلم ہے ‘ زلزلہ ہی سے کھنڈر بن جانے والے جاپانیوں نے آزمائش کو عظیم تر تعمیر و ترقی میں بدل کر محفوظ مستقبل قائم کیا اس کے ماہرین کے پلان اور اُصول سفارشات کے بجائے خود اپنے دماغ کے اندر خیالاتی منصوبوں کی شیخیاں بکھیرنے والوں کی ریچھ جیسی دوستی کے باعث تاخیر اور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اہلیت والوں کو تعصبات ،خوش فہم نعروں دعوؤں کے فتنہ پرور دماغوں اور مال مفت دِل بے رحم کی طرح لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والوں کی کرپشن کا عذاب ہے جس کا ثبوت اربوں کے خرچے سے تعمیر نو کے تحت واٹر سپلائی اور سیوریج کا پراجیکٹ ہے جو ناکام ثابت ہوا ہے تو شاپنگ پلازہ کے فیز ٹو کا نہ بننا ہے ایسی سینکڑوں جیتی جاگتی مثالیں ہیں مگر تعمیر نو سے لیکر نیلم جہلم پراجیکٹ تک کرپشن کے طوفانوں میں ملوث کرداروں کو پھانسی پر لٹکانے کی جدوجہد کے بجائے ملک اور اس کے ستونوں پر غیر حقیقت پسندانہ الزامات، دعوؤں اور رویوں نے کچھ نہ کسی کوسمجھ میں آئے ، بازار گرم کر رکھا ہے جس پر بغیر اصل کرپشن نااہلی میں ملوث کرداروں کو انجام سے دوچار کرنے کی تحریک کے 8 اکتوبر کو ستم زدہ آوازیں بلند کرنا رونا بزدلانہ منفاقت سفاکی کے سوا کچھ نہیں ہے ‘ اسلام آباد سے مظفر آباد تک نیلم جہلم ہائیڈرل سے لیکر تعمیر نو تک تاخیر غفلت نااہلی کرپشن کے ذمہ داروں کو کم از کم پھانسی پر لٹکوانا ضروری ہے ۔ چاہے جج‘ جنرل ‘ بیوروکریٹ ہو یا سیاستدان ‘ ٹھیکیدار اور نام نہاد کسی بھی شعبہ کا نام ہو یہ حکومت پاکستان کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ذمہ دار ی ہے وہ یہاں مذہب قومیت علاقہ برادری نظریے نعرے کے نام لیکر بلیک میل کر کے یہاں کے عوام کا اصل استحصال کرنے والوں کو بیرسٹر سلطان کے مطالبے کے مطابق احتساب کے دائرے میں لائے اور یہاں وہاں کے مجرموں سے نجات دلائے جس کے لیے خود یہاں کے عوام کو بھی آواز اُٹھاتے ہوئے جدوجہدمنظم کرنی ہو گی ورنہ ایک بار پھر آپ کے نام پر لوٹ مار ہو گی اور آپ بے وقوف بنتے رہو گے۔حضرت بابافرید شکر گنج ؒ نے فرمایا
نہ کراتھے ہیرا پھیری تو وی مٹی وہ وی مٹی
مٹی نال نہ دھوکہ کر تو تووی مٹی وہ بھی مٹی
ذات پات دی گل نہ کر تو ذات وی مٹی تووی مٹی
ذات صرف خدا دی اُچی باقی سب کجھ مٹی مٹی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmad Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmad Farooqi: 204 Articles with 68369 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Oct, 2018 Views: 335

Comments

آپ کی رائے