اصل "وی آئی پی " استاد تھا !

(Muhammad Talha Jutt, )

میری عمر تب سات، آٹھ سال تھی، ہم گرمیوں کی چھٹیوں پر اپنے 'نانا مرحوم" کے گھر انکے گاؤں جایا کرتے تھے۔
ہمارا گاؤں شہر سے تقریباً چالیس منٹ کی مسافت پر واقع ہےاس وقت رکشوں کا اتنا ٹرینڈ نہیں تھا صرف "تانگے" چلتے تھے۔
ایسا تقریباً ہر بار ہوا کہ جوں ہی ہم گاؤں کے قریب پہنچتے ،تانگے والا دریافت کرتا کہ "آپ کن کے گھر آئے ہیں؟"
ہم اپنے "نانا" کا نام بتاتے تو وہ ناصرف کرایہ لینے سے صاف انکار کرتا بلکہ ہمیں سامان سمیت گھر تک چھوڑنے جاتا۔
فدوی کو بچپن سے ہی نقطہ چینی کی عادت ہے!
میں نانا سے جاکر پوچھتا کہ سب تانگے والے آپکے "دوست" ہیں کیا؟ وہ ہم سے کرایہ کیوں نہیں لیتے؟
وہ مسکرا کر میری بات ٹال دیتے۔
نانا کے ساتھ دکان پر خریداری کرنے جاتا تو دکاندار پیسے لینے سے انکار کر دیتے،اکثر زبردستی انکی جیب میں پیسے ڈالنے پڑتے۔
گاؤں کی سیر کو نکلتے تو جس گھر کے آگے سے گزرتے گھر کے بڑے احتراماً اٹھ کھڑے ہوتے۔
ایک بار میں اور نانا مرحوم مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے تو دیکھا کہ ہمارے پیچھے بہت سے لوگ آرام آرام سے چل رہے ہیں یوں معلوم ہورہا تھا جیسے "ہمارا پیچھا" کر رہے ہیں میں نانا سے پوچھا کہ یہ لوگ آگے کیوں نہیں جارہے؟ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں؟
میری بات سنتے ہی نانا رک گے اور ان سے بولا کہ" آپ گزر جائیں کوئی بات نہیں"
میں نانا سے وجہ دریافت کی تو وہ پھر مسکرا دیے، اب کی بار میں نے بھی مناسب جواب لیے بغیر گھر ناجانے کی ضد شروع کردی۔
نانا جان ! تانگے والا آپکا نام سن کر پیسے کیوں نہیں لیتا؟
آپ جہاں سے گزرتے ہیں لوگ کھڑے کیوں ہو جاتے ہیں؟
اور یہ لوگ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟
نانا نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا " پتر طلحہ ! دراصل میں استاد( ٹیچر) ہوں، یہ سب لوگ میرا نہیں بلکہ " استاد" کا احترام کر رہے.
کل تقریباً ہر تعلیمی ادارے میں اساتذہ کے اعزاز میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا،بدقسمتی مجھے بھی یونیورسٹی کے قریب ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔
دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اساتذہ کے لیے منعقد کی گئی تقریب کا "چیف گیسٹ" استاد نہیں بلکہ " وی آئی پی " تھا۔
بدقسمتی سے دور حاضر کے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اساتذہ کا احترام چھوڑ کر انہیں خریدنا شروع کردیا ہے۔
جس دن ہمیں معلوم ہوگیا کہ اصل "وی آئی پی" کون ہے انقلاب برپا ہوجائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Talha Jutt

Read More Articles by Muhammad Talha Jutt: 2 Articles with 646 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے