صاحب میں کیا کرو ؟میں بولا کرپشن!

(Babar Alyas, Chichawatni)

میں گزشتہ رات لکھنے کے لیے اپنے کمرے میں میز کے سامنے گیا ہی تھا کہ قلم پکڑنے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا اچانک ایسا ھونامیرے لیے عجیب تھا خیر ایک کپ چاۓ لیا اور آنکھیں بند کر کے کرسی پر بیٹھ گیا پھر کیا تھا میں تصور کی دنیا میں جاتا ھو اور سوچتا ھوں کہ....... چند لوگ معاشرے میں ایسے بھی ہیں جو بہت کم ضروریات زندگی میں گزارا کرتے ہیں لیکن زبان سے شکوہ تک نہیں کرتے.... لیکن دوسری طرف ایک بہت بڑا ہجوم ھے جو تمام تر سہولتوں کے باوجود بھی کہتا ھے کہ میں کیا کرو ؟

ایک دوکان دار سے اپنے تصور میں بات کرتا کہ آپ کم کیوں تولتے ہیں ؟غیر معیاری اشیاء کیوں لاتے ہیں ؟تو وہ دوکان دار جو ایک قصبہ کا ھے چھوٹی سی شاپ ھے تمام ضروریات زندگی فروخت کرتا ھے علاقے کے لوگ اس پر اعتبار کرتے ہیں وہ کہتا ھے صاحب آپکو کیا پتہ ؟زندگی بہت مشکل ھے میں سارا دن بھوکا پیاسا رہتا ہوں کبھی کبھی رات کے دس بج جاتے ہیں مگر خرچہ پورا نہیں ھوتا, صاحب دوکان کا کرایہ ماہانہ مبلغ 5000 ہزار ھے بجلی کا بل تقریباً 3500روپے ھے.دو بچوں کی سکول فیس ماہانہ 2500روپے ھے گھر کا چولہا جلتا نہ دیکھو میرے صاحب گھر کا بجلی بل 2700روپےماہانہ, گیس کا سلینڈر 1400روپے, ماہانہ راشن کا خرچ 5000روپےتقریباً ھےاور اگر درمیان میں کوئی بیمار ھو جاۓ ,شادی کسی عزیز کی آ جاۓ, مہمان آ جاۓ, بچوں کے کپڑے اور کتابیں کاپیاں, بیوی کے کپڑے اور اپنی سگریٹ وغیرہ کا خرچ کس طرح پورا کرو.... آپ کہتے ہو کہ ہلکی چیز لا مہنگی نہ دو, کم نہ تولو, تو میں کیا کرو..... آپ اس کو کرپشن کہتے ھو کیا کرو میں میرے صاحب بولو..... میں نے بولا کرپشن.......

ایک پولیس والے سے تصور دنیا میں پوچھا. اوئے کرپشن کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا.

بھائی جان 20 ہزار تنخواہ ہے. نہ محکمہ رہائش دیتا ہے نہ میڈیکل، نہ بچوں کی فیس نہ چھٹی. بھائی جان ملزم پکڑو تو اپنی جیب سے فوٹو کاپی کرواتے ہیں، ضمنی لکھنے کے لیے کاربن پیپر تک نہیں ملتا، ملزم کو پیش کرنے کے لیے گاڑی کرائے کی لینی ہوتی ہے، عدالتی اہلکار کو پیسے نہ دو تو چالان جمع نہیں ہوتا اعتراض لگ جاتا ہے. دوسرے دن کسی نہ کسی کیس میں ہائی کورٹ پیشی ہوتی ہے کرایہ لگا کے جانا اور آنا ہوتا ہے اور پھر وہاں بھی اتنا خرچ ہو جاتا ہے، کبھی قصور، کبھی لاہور انکوائریاں بھگتنے جاتا ہوں. بچوں سے ملے ایک ماہ ہونے والا ہے. موٹر-سائیکل ذاتی ہے محکمہ نہ موٹر سائیکل دیتا ہے نہ پٹرول اور گشت بھی کرنا ہوتا ہے. بھائی جان کیا کروں؟ میں بولا. کرپشن.

آج کل لکڑی چوری کا معاملہ کچھ عام ہی ھو چکا ھے تو تصور دنیا میں ایک فارسٹ گارڈ سے پوچھا.
اوئے تم کرپشن کرتے ہو؟

بولا بھائی جان 15400 روپیہ تنخواہ ہے. لکڑ چور پکڑ لیں تو چوری کی لکڑی اپنے خرچ پر ٹرالی کرا کے ڈپو پھنکوانی پڑتی ہے. پرچہ کرانے جائیں تو تھانے میں لکڑی چوری کروانے کی ایف آئی آر کا ریٹ 6000 ہے، ایف آئی آر کروانے کے بعد تاریخیں بھگتنے عدالتوں کے چکر لگتے ہیں. کرایہ بھی جیب سے اور خرچہ بھی کوئی ٹی اے ڈی اے نہیں ملتا. موٹر سائیکل ذاتی ہے اور زیر نگرانی رقبہ 500 ایکڑ. ایک چکر لگاؤں تو 200 کا پٹرول لگتا ہے. ایک چکر صبح ایک شام. لگاتا ہوں تو 350 سے 400 کا پٹرول لگ جاتا ہے. اوسطاً ماہانہ پٹرول 7000 کا چاہیے. محکمہ ایک روپیہ نہیں دیتا. بچوں کو سکول چھوڑنا ہوتا ہے لانا بھی ہوتا ہے. دوپہر کو گھر جا کر کھانا کھاتا ہوں ہوٹل افورڈ نہیں کر سکتا کیونکہ تنخواہ میں یہ ممکن نہیں اور کھانا کھانے جاتا ہوں تو بچے پاس بٹھا لیتے ہیں. نہ سرکاری رہائش نہ میڈیکل کی سہولیات. بجلی گیس کا بل بھی دینا ہے سکول کی فیس بھی. کبھی شادی کبھی غمی. کبھی نیوندرے کبھی کپڑے کبھی جوتے. 15400 میں کیا کروں؟ میں بولا. کرپشن.

یہ سلسلہ نہ ختم ہونے والا ھے کیونکہ معاشرے کا ہر کردار بے شک وہ سرکاری ھو یا غیر سرکاری, رکشے والا ھو, ریڑھی والا ھو, پھل ؤ سبزی فروش ھو, اعلی عہدے پر ھو یا دہہاڑی دار سب اپنے پاس کچھ نہ ھونے کا رونا روتے ہیں اور تمام ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے دو نمبر راستے پر چلنے کو درست تصور کرتے ہیں کیونکہ انکی نظر میں یہ رشوت, کرپشن وہ رشوت اور کرپشن نہیں ھے جسکو اسلام نے حرام کہا ھے ان بیمار لوگوں کو بس معیار زندگی سے غرض ھے باقی کچھ نہیں.... اسلام سے دوری, نماز سے دوری ,سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقوں سے دوری معاشرے کی تباہی کا باعث ھے قرآن کا موضوع انسان ھے اور ان ہی اس سۓ غافل ھے...... لہذا معاشرے کی بنیاد ہی کمزور ھو چکی ھے جسکی وجہ سے پورا معاشرہ بیمار ھو چکا ھے.... رشوت, کرپشن, کم تولنا, غیر مناسب چیزوں کی فروخت جیسے کاموں سے نجات تو ممکن ہے لیکن قرآن اور اسلام کے مضبوط نظریے کو اپنا نظریہ بنا کر ممکن ھے..... اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرماۓ. آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 298 Articles with 99599 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
12 Oct, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے