اٹھو، اس دور کے مسلم کو جگا دو

(Muhammad Naeem Shehzad, )

داد سخن۔ *عشاء نعیم*

اس دور کو دنیا کا ترقی یافتہ ترین اور ہائی ایجوکیٹڈ دور کہتے ہیں۔
دنیا میں ایسی ایسی ایجادات ہو چکی ہیں جن کا چند سال پہلے تصور تک نہ تھا۔
ہر میدان میں
انسان نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں۔ زمین سے لے کر چاند تک انسان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ چند سال پہلے ناقابل یقین نظر آنے والی بات آج حقیقت کا روپ دھارے سامنے کھڑی ہے۔
جدید علوم اور تعلیم کے میدان میں بھی یہ دور اپنے عروج پہ ہے۔ خاص طور پہ غیر مسلم ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں بہت آگے جا چکے ہیں۔ آسمان کی بلندیوں پہ پہنچا ہوا ہے انسان ۔
دنیا انتہائی باشعور ہوچکی ہے۔
اب دنیا سے حقائق کو چھپانا آسان نہیں رہا۔
انسانوں کو اپنے حقوق کا پتہ چل چکا ہے۔ لوگ جان گئے ہیں کہ کہاں ان کا استحصال ہو رہا ہےاور اس کا مداوہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت اہل مغرب خاص طور پہ انسانی حقوق کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ وہاں کوئی کسی کی دل آزادی نہیں کر سکتا۔قانون نہیں توڑ سکتا۔ ہر شخص اپنی پسند اور مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے۔ آپ کو وہ جانوروں کے ساتھ بھی انتہائی پیار کرتے نظر آئیں گے۔
انسانیت کی بات اس قدر کہ ماں باپ بھی بچوں پہ مسلط نہیں ہو سکتے۔
ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بن چکی ہیں جو کہیں بھی ظلم ہو فورا سڑکوں پہ آ جاتی ہیں ریلیاں ،نعرے ، دھرنے جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو حقوق لے کر دیتی ہیں۔
اتنی ترقی، ہر شعبہ اپنے عروج پہ اور مخلوقات کا خیال اتنا کہ اگر کوئی کسی کے کتے کو بھی مارے تو بدلے میں اسے جرمانہ کیا جاتا ہے اور کتے کے مالک کو دیا جاتا ہے کہ اس کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ اگر کسی کمپنی کی چیز میں سے کوئی چیز مثلا بسکٹس میں سے بال نکل آئے تو بھی صارف کی دل آزاری پہ اسے کمپنی سے پیسہ کے کر دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے انسانیت تو بس انہی ممالک میں ہے۔
(ہمیں بار بار باور بھی یہی کرایا جاتا ہے کہ انسانیت کی قدر تو ان معاشروں میں ہے۔ قابل تقلید تو یہ لوگ و معاشرے ہیں۔)
لیکن سوچنے اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ اور باشعور سمجھے جانے والے معاشرے میں کیا حقیقی انسانیت بھی ہے؟؟

کیا اس کی تعلیمات جو انسانیت کے لیے ہیں وہ سب کے لیے یکساں ہیں؟ یا مختلف طبقات کے لیے الگ الگ معیارات مقرر کر رکھے ہیں۔ کیا آج کا ترقی یافتہ اہل مغرب انسانوں کے حقوق کا پاسدار بننے والا جو پاکستان میں کسی ایک اداکارہ کے قتل پہ فورا تشویش کا اظہار کرتا ہے ساری دنیا کے انسانوں کے لئے یونہی تڑپتا ہے؟؟
بہت افسوس کہ تصویر کا دوسرا رخ انتہائی بھیانک ہے۔
یہ انسانی حقوق کے نام پہ دراصل
Non Muslim human rights (غیر مسلم ہیومن رائٹس)
کی تنظیمیں ہیں۔
اگر میں یہ کہوں کہ یہ بس غیر مسلم کو ہی انسان سمجھتی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
یہ اپنے معاشرے میں انسان نظر آنے والے جب بات مسلمانوں کی آتی ہے تو آپ کو کسی درندے کے روپ میں نظر آئیں گے۔
اہل مغرب نے بڑی چالاکی سے مسلمانوں کو لبرل ازم کے پیچھے لگا دیا تاکہ یہ اپنی بنیادوں سے دور ہوتے چلے جائیں جبکہ خود پکے مذہبی ہیں۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر جگہ آپ کو خون مسلم نظر آئے گا۔کہیں بھی عیسائیوں پہ ظلم و ستم نہیں ہو رہا۔
کہیں بھی یہودی نہیں کٹ رہا۔ کہیں بھی ہندوؤں کو بموں سے نہیں اڑایا جارہا۔
ہر جگہ مسلمان کٹ رہے ہیں۔زندہ جلائے جا رہے ہیں تو کہیں بموں سے اڑائے جاتے ہیں۔ کبھی عراق پہ حملہ تو کبھی افغانستان پہ حملہ کہیں فلسطین کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے تو کہیں کشمیریوں پہ کیمیکل ہتھیار تک استعمال ہوتے ہیں۔ اور پھر اس ستم پہ نہ امریکہ کو تشویش ہوتی ہے نہ برطانیہ اس کو دہشت گردی کہتا ہے۔
نہ جرمنی تڑپتا ہے نہ روس روتا ہے۔ نہ فرانس انسانی حقوق کی خلاف ورزی مانتا ہے نہ ہالینڈ شدت پسندی کہتا ہے کیوں؟؟
کیونکہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں میں سے ہی دوست ڈھونڈ لیے جو لبرل ازم کا پرچار کرتے اور مسلمانوں کو ہی شدت پسند اور دہشت گرد کہتے ہیں۔
انھیں مسلمانوں کی دل آزاری نظر آتی ہے نہ تڑپ۔ وہ تو اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ ہم ہی اپنے آپ کو پہچان نہیں پا رہے۔ہم ہی آپس میں دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ اور ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ان کی دنیا کی ترقی سے آنکھیں چندیا گئی ہیں حقائق کو نہیں دیکھتے۔ بس متاثر ہوئے جاتے ہیں۔ خود اسی میدان میں نہیں آتے تاکہ مقابلہ کریں بس ہر میدان ان کے لیے خاص سمجھ لیا ہے۔
کیوں مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی پہ توجہ نہیں دیتے؟؟
کیوں یہ غیر مسلم سے متاثر ہو کر ان پہ تکیہ کرتے ہیں۔ آپس میں ایک نہیں ہوتے اور گاجر مولی کی طرح ان سے کٹے بھی جا رہے ہیں۔ ورنہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا 60 اسلامی ممالک کے ہوتے ہوئے اس قوم کی بیٹیاں کفار کے ہاتھوں محفوظ نہ ہوں؟؟
اب سوچنے کی بات ہے کہ اتنے پڑھے لکھے باشعور دور میں ہر طرف انسانیت کیوں رو رہی ہے؟؟
جگہ جگہ انسان انسان کو کیوں کاٹا جا رہا ہے؟؟
تو اس کی وجہ بہت واضح ہے کہ اہل مغرب نے درس انسانیت کا نہیں پڑھا انھوں نے پڑھا ہے کہ اپنے پالتو جانور کی حفاظت کیسے کرنی ہے اور غیر مسلم کو کیسے انسان سمجھنا ہے۔ مسلمان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دو ورنہ تمھیں مسلمان کھا جائیں گے۔ اور پھر مسلمان کو ہی دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
آج مسلمان زوال پذیر ہے اور غیر مسلم عروج پہ۔
اگر ہم ہم تاریخ کے اوراق الٹیں اور مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں پہنچ کر دیکھیں اس وقت انسانیت کا کیا حال تھا۔
تو فرق صاف نظر آ جاتا ہے آپ اسلام سے قبل کا وقت بھی دیکھ لیں تو پتہ چلے گا انسانیت نے تو سانس ہی اسلام کے عروج میں لیا تھا۔ مسلمان جہاں جاتے تھے لوگ اس قدر متاثر ہوتے تھے اس قدر سکون پاتے تھے کہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے چلے جاتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے مسلمان کسی علاقے کو چھوڑ کر جاتے تو وہاں کے غیر مسلم روتے تھے۔تاریخ شاہد ہے کہ طارق بن زیاد بھی ایک غیر مسلم کی اپنے حکمران کے ظلم کے خلاف داد رسی کے لیے گیا تھا۔
دوسری طرف آج غیر مسلم عروج پہ ہے تو ہر طرف خون کی ندیاں ہیں انسانیت بس نام کی نظر آتی ہے ظلم کے ایسے ایسے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کہ ہلاکو و چنگیز اب کوئی خاص ظالم نہیں لگتے۔
اور پھر ہلاکو و چنگیز تو ان پڑھ تھے جاہل تھے یہ ہائی ایجوکیٹڈ لوگ ، یہ انسانی حقوق کے نام پہ بڑی بڑی تنظیمیں، ترقی یافتہ کہلانے والے لوگ، باعث شرم ہے ان کے لئے یہ سب۔
جتنا آج کے دور میں ظلم ہو رہا ہے اتنا کبھی نہیں ہوا اس روئے زمین پر۔
ہر طرف اندھیرا ہے ہر طرف قتل و غارت اور جہالت، جرائم تک کے حقوق مانگے جا رہے ہیں۔قاتلوں کے حقوق ، جاہلوں کے حقوق، ظالموں کے حقوق، دہشت گردوں کی آزادی، انسانیت پسندوں پہ پابندی، انسانیت پسندوں کے خلاف اٹھنے والوں کو ایوارڈ ،
مسلمانوں کے لئے بولنے پہ پابندی انبیا علیہ السلام پہ زبان درازی کی آزادی غرض ہر معاملے میں الٹی گنگا بہائی جا رہی ہے۔
کیونکہ دنیا کا نظام غلط لوگوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔ اس دنیا پہ حکمرانی کا حق صرف اور صرف مسلمانوں کو ہے۔
صرف مسلمان ہی اس قابل ہیں کے دنیا کا نظام چلا ئیں۔
کیونکہ پڑھے لکھے مسلمان ہوتے ہیں۔
جنھیں ہر طرح کی ترقی اور انسانیت کا درس دیا گیا ہے۔
جنھیں مسلمانوں کے ساتھ شفقت تو کفار پہ رحم کرنا سکھایا گیا ہے۔
جنھیں کسی مصیبت یا تکلیف پہ مدد کرنے پر اجر کی خوش خبری دی گئی تو وہ بھی بلاامتیاز نہ مسلم غیر مسلم کا فرق نہ ذات، پات، رنگ ، نسل، نہ وطن کا فرق۔
بس انسانوں کو سکون دینا سکھایا گیا۔ خود پہ جھیل کر بھی دوسروں کو سکون دینے کا درس۔
کفار تو پڑھے لکھے جاہل کیوں ہیں۔
کیونکہ انھوں نے اسلام کی تعلیمات نہیں جانی کوئی جان بھی گیا تو عمل نہیں کیا۔ گویا دنیا میں امن بس اسلام سے ہی ممکن ہے۔ کوئی دوسرا مذہب امن عالم کا ضامن نہیں ہوسکتا۔
دنیا میں خون خرابہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان اٹھیں ہر میدان میں آگے بڑھیں۔
تبھی امن ہو گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 138 Articles with 44393 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2018 Views: 580

Comments

آپ کی رائے