پڑوسیوں کے حقوق

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عظمی ظفر، کراچی
سکھ چین کے پیڑ میں لگے جھولے میں جھولے لیتی انوشہ نے ایک لمبی پینگ بھری تو دور پلنگ پر بیٹھی دادی کے ہاتھ سے سروتا گر پڑا۔ جس سرعت سے وہ چھالیہ کتر رہی تھیں، اس کام میں خلل الگ پڑا تھا تو دل الگ دہل گیا تھا۔ یا الٰہی خیر رکھیو، انہوں نے ہاتھ کا چھجا بنا کر دوبارہ انوشہ کو دیکھا کہ وہ واپس زمین پر آئی ہے یا پیڑ میں ہی کہیں اٹک گئی۔ انوشہ! لوٹھا کی لوٹھا ہوگئی ہے تو مگر جھولے لینا نہیں چھوڑے گی۔ دادی گھبرا کر چلائیں۔

دادی! یہ تو بتائیں سکھ چین کے پیڑ کا یہ نام کیوں رکھا؟ یہ بھی کوئی نام ہے انوشہ نے جھولا نیچے کرتے ہوئے پوچھا۔ یہ تو مجھے پتا نہیں، سکھ چین سے کھڑا تھا اچھا بھلا، پر تم نے تو غدر مچا دیا اس درخت میں، اس کا نام ہڑبونگ پیڑ ہو جائے گا اب تو، دادی بھی اپنے خیال میں کمال تھیں۔ انہوں نے عینک کے پیچھے سے اسے گھورا مگر انوشہ ہنوز اڑان بھر رہی تھی اس نے ویسے بھی دادی کی بات کب سننا تھی ہنس کر ٹال دیا اور رفتار تیز کردی تھی۔ دادی نے اپنی بڑبڑاہٹ میں جو کہنا تھا کہتی ہوئیں سروتا اٹھا کر دوبارہ چھالیہ کترنے لگیں۔ دادی! یہ لیں آپ کی چھالیہ ، پڑوس والا بچہ عبید گھر میں داخل ہوا۔ چھالیہ بہت مہنگی ہوگئی ہے ثابت مت لیا کریں دادی، کٹی ہوئی منگوا لیا۔ کریں خوامخواہ اتنی محنت سے کترتی ہیں، عبید نے پڑیا انہیں تھماتے ہوئے ان سے ہمدردی کی۔

آئے ہائے! اﷲ جانے کیسی ہے وہ موئی کتری ہوئی، سارا رس ہی چوسا ہوا ہوتا ہے ان کا تو، اے نری کھجور کی گٹھلیاں ہوتی ہیں وہ تو، چھالیہ کب ہوتی ہوں گی۔ انوشہ جب تک جھولے سے نیچے اتر چکی تھی پلنگ کے پاس آکر اس نے دادی کی پاندان سے تھوڑی سی چھالیہ اچک لیں۔انوشہ باجی، اپیا نے کہا ہے ایک انڈا ہو تو دے دیں۔ عبید نے بھی نظر بچا کر دادی کی کتری چھالیہ کو مٹھی میں بھرنا چاہا مگر جب دادی نے ہوں کرتے ہوئے اسے گھورا تو اس نے مٹھی کھول دی۔ اچھا دیتی ہوں ابھی، انوشہ نے کہا۔ کیوں کیا کرنا ہے تیری بہن کو ایک انڈے کا؟ دادی حسب عادت بول پڑیں انہیں پڑوسیوں کی یہ عادت پسند نہیں تھی جب دیکھو کچھ نہ کچھ مانگتے پھرتے ہیں۔

وہ، شاید بالوں میں لگائیں گی دہی اور سرسوں کا تیل مکس کرکے بیٹھی ہیں۔ منہ پر بھی کچھ لگایا ہوا ہے اشارے سے سمجھایا کہ انڈا چاہیے، پہلے تو میں سمجھا ہی نہیں کہ گول گول کیا اشارہ کر رہی ہیں؟ پھر جب سندھی کی کاپی میں میرا ٹیسٹ دکھایا جس میں صفر نمبر تھے یعنی مجھے انڈا ملا تھا تب جاکر میں سمجھا کہ انڈا چاہیے۔ عبید نے ایسا نقشہ کھینچا کہ انوشہ تو انوشہ، کمرے میں امی کی بھی ہنسی پھوٹ پڑی۔ چل ہٹ مسخرا کہیں کا بمشکل بول کر دادی پہلو بدل کر رہ گئیں ہنستیں بھی تو ہنستیں کیسے؟ پان کی گلوری منہ کے اندر تھی اگالدان میں پیک بھری اور گویا ہوئیں۔ ائی، اپنی اماں اور بہنا سے کہنا پرچون کی دکان نہیں کھولی ہم نے ایک انڈا دے دیں۔ ارے ایک انڈے میں تو پیاز، ہرا دھنیا، ہری مرچ کاٹ کر تو آملیٹ بن جاوے ہے، چار بندے آرام سے کھالیویں پراٹھے سے، اور وہ حسینہ بالوں میں لگا کر ضائع کردیں ہونہہ، دادی نے عبید کو مفت میں ترکیب بتادی تھی وہ بھی سر ہلا ہلا کر سننے لگا۔

یہ لو عبید! انوشہ نے دو انڈے پیالے میں دیتے ہوئے کہا، ایک تم کھا لینا آملیٹ بنوا کر، امی نے کہا ہے۔ عبید خوشی خوشی پیالہ تھام کر چلتا بنا۔ اے یہ خوب ہے تم ماں بیٹی کا، اس نے ایک مانگا تم نے اٹھا کر دو دے دیے ہم نے کون سا خزانہ جمع کیا ہے جو لٹاتے پھریں؟آئے دن کا تماشہ کبھی ماچس، کبھی چینی،تو کبھی پتی۔ ائے میں تو کہتی ہوں یہیں آکر چائے کیوں نہیں پی لیتے وہ لوگ؟ پانی اور گیس بھی کیوں خرچ کرتے ہیں؟ دادی کب کا غبار آج نکال بیٹھی تھیں اور امی جو ساگ بنانے ان کے پاس آکر بیٹھی تھیں دادی نے توپوں کا رخ ان کی جانب کردیا وہ ان کی زد میں آگئیں جب کہ انوشہ اندر بھاگ گئی۔ کوئی بات نہیں اماں! وہ بھی تو ہمارے کتنے کام آتے ہیں اور عبید بچہ تو بھاگ بھاگ کر چیزیں لادیتا ہے۔ روزانہ پڑوسیوں کو کچھ دینے دلانے سے کم تھوڑی پڑے گا ، امی نے رسانیت سے جواب دیا۔

کیوں کہ جب سے امی نے سورۃ الماعون کا ترجمہ اور تفسیر پڑھی تھی وہ بہت احتیاط کرنے لگی تھیں کسی بھی چیز کے منع کرنے سے انہیں آخری آیت کی تفسیر یاد آئی کہ اور معمولی برتنے کی چیزیں (بھی مانگنے پر) نہیں دیتے معن قلیل چیز کو کہتے ہیں جو معمولی قسم کی ہو اس سے گھروں میں برتنے والی چھوٹی موٹی چیزیں مراد لی گئی ہیں ، جیسے برتن، ہنڈیا، کلہاڑی، قینچی، نیل کٹر، ماچس، نمک، پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، ہرا دھنیا وغیرہ وغیرہ ۔ جو زیادہ قیمتی بھی نہیں ہوتیں اور کئی مرتبہ پڑوسی ایک دوسرے سے عاریتا مانگ لیتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ مال کی ہوس اور آخرت سے انکار نے ان لوگوں کے دلوں میں اتنا بخل پیدا کر دیا ہے کہ یتیموں اور مسکینوں کے حق ادا کرنا تو دور، وہ معمولی معمولی برتنے کی چیزیں عاریتا مانگنے پر بھی دینے سے انکار ہی کرتے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ گھریلو استعمال کی چیزیں ادھار دے دینا اور اس میں دل کی تنگی نہ محسوس کرنا اچھی صفت ہے جب کہ اس کے برعکس بخل اور کنجوسی اختیار کرنا قیامت کو نہ ماننے والوں کا شیوہ ہے۔ باقی رہی ان لوگوں کی بات جو مانگ کر چیز لیتے ہیں اور پھر واپس ہی نہیں کرتے یا اس چیز کا نقصان کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کو یہ فرمان نبی کریم ﷺ یاد رکھنا چاہیے۔ آپﷺ نے فرمایا ’’مانگی ہوئی چیز واپس کرنا، ضامن کو تاوان بھرنا اور قرضہ کی ادائیگی لازم ہے ‘‘۔ (ترمذی) آپﷺنے فرمایا ’’جس ہاتھ نے جو کچھ لیا ہو اسی پر اس کا ادا کرنا واجب ہے (نقد رقم ہو یا کوئی اور چیز)‘‘۔ (ابوداؤد)

امی کو یہ حدیث بھی یاد رہنے لگی تھی، اس لیے وہ اس بات کا خاص خیال رکھنے لگیں تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں معمولی برتنے کی چیزیں استعمال کے لیے ہی ہوتی ہیں۔ سینت سینت کر رکھنے اور چھپانے کے لیے نہیں جھوٹ بول کر، منع کرکے انھیں کس عذاب سے ڈرایا گیا تھا ۔ وہ جان چکی تھیں مگر دادی کو سمجھانا تھوڑا مشکل تھا جب کہ ان کے پلنگ پر رکھی کئی چیزیں پڑوس سے مستعار لی گئی تھیں عبید کی نانی کا سروتا، آج کا اخبار، اون کا گولہ اور چھالیہ جو عبید لایا تھا۔

اچھا اماں! سروتے کا کام ہوگیا ہو تو انہیں واپس کردیجیے گا اور اخبار پڑھ لیں تو انوشہ کے ہاتھ بھجوا دیں بھائی صاحب شام کو پڑھتے ہیں۔ امی یہ کہہ کر کچن کی جانب چل پڑیں۔ دادی جان بھی کسی حد تک سمجھ گئی تھیں مگر ماننے کو تیار نہ تھیں۔ ائے ہاں! دے دوں گی واپس، کھا تھوڑی جاؤں گی ان کی چیزیں، ہائے چونا تو بڑا تیز ہے زبان جل گئی یہ کہتے ہوئے انہوں نے چشمہ ناک پر ٹکایا تھوڑا سا منہ بناکر اخبار دیکھنے لگیں، دور سکھ چین کا پیڑ یہ منظر دیکھ کر مسکرا اٹھا تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2018 Views: 272

Comments

آپ کی رائے