اﷲ کی رسّی

(Maryam Arif, Karachi)

 تحریر: ایمن احمد
ًٍٍ’ـ’ اور اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو‘‘،(سورہ آل عمران: ۱۰۳) پچھلی ایک صدی سے امت مسلمہ جس زوال کا شکار ہے وہ تقریباًاپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اﷲ کے بندوں کے لیے اﷲ ہی کی زمین پر گھیراؤ تنگ ہے اور ان کے ایمان خطرے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اسلام کا دارلاماں بے اماں ہے اور کسی جائے پناہ کی تلاش میں ہے۔ مساجد اور مدرسے صرف نام کے ہی رہ چکے ہیں ۔خلوص نیت کے ساتھ جن اداروں میں دین کا کام ہو رہا ہے وہ بھی خوف و خطر کا شکار ہیں غرض آج امت محمدﷺ خود کو کیا بلکہ وہ دین جو ان کی وراثت ہے اسے بھی تحفظ فراہم کرنے میں ناکا م ہے۔

کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ پچھلی ایک صدی سے مسلمانوں کے اس قدر زوال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟اﷲ کی زمین پر اﷲ ہی کے بندے کیوں در بدر ہو رہے ہیں؟قارئین کرام!اگر آپ غور فرمائیں تو میں نے اس تحریر کا آغازقرآن کریم کی ایک آیت سے کیا ہے،’’کہ اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو‘‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں اﷲ کی رسی کس چیز کو کہا گیا ہے؟تو جناب ! اﷲ کی رسی تو یہ قرآن ہے۔اس آیت مبارکہ میں یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ معلوم ہوتاہے کہ فرقہ واریت سے بچنے کے لیے اشد ضروری ہے کہ انسان اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے مطلب یہ کہ قرآن سے اپنا ناطہ جوڑ لے۔جب قرآن سے رشتہ جڑ جائے گا تو پھر کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے گی۔

اس بات کی رو سے حدیث رسول ﷺ بھی ہے کہ، ’’ قرآن کا ایک سرا اﷲ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا اہل ایمان کے ہاتھ میں ہے، جس کو وہ مضبوطی سے تھام لیں گے تو دنیا میں گمراہ ہوں گے نہ ہی آخرت میں ہلاک ہوں گے‘‘۔ (طبرانی ) یعنی صرف قرآن کو تھامنا ہی نہیں بلکہ مضبوطی سے تھامنا ہے۔یہاں پر ایمان کی مضبوطی کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بارگاہ خداوندی میں خالص اور کھرا قبول ہے۔ اس کو آسان الفاط میں یوں سمجھیے کہ جب قرآن کے ساتھ مضبوط رشتہ ہوگا تو ایمان بھی مضبوط ہوگا اور اگر قراٰن کو ساتھ رشتہ کمزور پڑ گیا تو ایمان متززل ہو جائے گا اورنیت کھوٹی اور عمل میں ریا آنا شروع ہو جائے گا۔

آج کے دور میں فر قہ واریت کا فتنہ عروج پر ہے اور یہ آگ اغیار کی سلگائی ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات ہرصورت ذہن نشین کر نی ہے کہ ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ آج جو کچھ بھی امت مسلمہ کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ـ’’ اﷲ کی رسی‘‘ کو چھوڑ دیا ہے۔ کفر ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے ہم اسکے ذمہ دار ضرور ہیں مگر جوابدہ نہیں۔ فرقہ واریت کی یہ آگ جہاں کمزور ایمان والوں کے دلوں میں سلگ رہی تھی، اب اس نے پوری امت مسلمہ کو اپنی زبردست لپیٹ میں لے لیا ہے اور امت کا شیرازہ بری طرح بکھر چکا ہے۔آج یہ جملہ زبان زد عام ہے کہ مسلمانوں میں اجتماعی سوچ کو بیدار نہیں ہونے نہیں دیا جاتا۔ لیکن مسلمان یہ نہیں سمجھتے کہ انہوں اپنے آپ کو انفرادی طور پر تباہ کر لیا ہے۔ہم نے انفرادی طور پر قرآن کو چھوڑ ا اجتماعی طور پر ہم میں اتحاد ناپید ہو چکا۔ ہم نے فرقہ واریت جیسی قباحت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کراغیار کے لیے راستے ہموار کیے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ہماری آپس میں بھی پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور ہم اغیار کے ہاتھوں بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔

’’ احیائے امت ‘‘ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ہم دوبارہ قرآن کے ساتھ ناطہ نہیں جوڑ لیتے کیوں کہ اﷲ نے یہ بات واضح طور پر ہمیں باور کرا دی ہے کہ، ــ’’ اﷲ اس قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کو بلندی عطا کرے گا اور کچھ کو زوال کی پستیوں میں گرا دے گا‘‘۔ امت مسلمہ میں اس وقت تک اجتماعی سوچ بیدار نہیں ہوگی جب تک وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر اﷲ کی اس رسی کو تھام نہیں لیتی۔ ’’ اتحاد‘‘ کا یہی واحدراستہ ہے اور ’’ فرقہ واریتــ‘‘ کی آگ کو اسی ذریعے بجھایا جا سکتا ہے کیوں کہ جب سینوں میں قرآن ہوگا، تو ایک مقصد، ایک راستہ اور ایک ہی منزل ہوگی۔اور امت کا شیرازہ اگرچہ بہت بری طرح سے بکھر چکا ہے مگر اسے سمیٹنے میں دیر نہیں لگے گیاور یہ امت ایک بار پھر ایک ہو کر کفر کے خلاف کھڑی ہوگی۔ (ان شاء اﷲ)

اجتماعی سوچ پیدا کرنے کو لیے از حد ضروری ہے کہ مسلمان اس کتاب کا سرا مضبوطی سے تھام لیں جس کا دوسرا سرا اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک مسلمان قرآن سے منہ موڑے رکھیں گے کبھی بھی غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک قرآن مسلمانوں کی اولین ترجیح تھا اس وقت تک، انہیں شکست دینا ایسے مشکل تھا جیسے لکڑی سے لوہاکاٹنا۔تب فرقہ واریت کا رواج تھا نہ کفر کی امامت تھی۔ تب صرف اور صرف قرآن کا رواج تھا۔ آج بھی ’’ احیائے امت‘‘ کے لیے یہی نسخہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر قرآن سے اپنے دلوں کو زندہ کریں اور اپنی روح کو تازگی بخشیں۔ یہی فرقہ واریت سمیت ہمارے تمام تر مسائل کا واحد اور آخری حل ہے اور ہم میں اجتماعیت کو فراغ دینے کے لیے کافی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519725 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ