قا نون

(Abdullah Umar, RWP)

ایک انگریز لڑکی سے پا کستا نی نے شا دی کر لی۔دونوں میاں بیوی سنسا ن سڑک پر سفر کر رہے تھے۔چوک میں ٹر یفک کا سگنل بند تھا۔پا کستانی نے اپنے مخصو ص انداز میں ادھر ادھر دیکھا۔چوک میں دور دور تک گا ڑی کا نام ونشان نہ تھا۔اس نے سو چا کون انتظار کرے۔میں نے بہت’’اہم کام‘‘کرنے ہیں۔میرا بہت سا وقت یہاں ’’ضا یع‘‘ ہو جائے گا۔یہ خیا ل آنے کی دیر تھی۔ اس نے ا شارہ توڑ دیا۔اشارہ توڑنے کی دیر تھی۔انگریز لڑکی نے کہا ۔
(ابھی اور اسی وقت گاڑی کو روک دو۔)Right now right here park the car.
پا کستانی نے کہا ۔ (تم کو کیا ہو)۔What happend to you sweet heart
انگریز عورت نے کہا۔I cannot live with a person that break british government law. Today you broke british law .Tomarrow you will break Allah law.I cannot trust u. (میں اس انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔جوبر طانوی حکومت کا قا نو ن تو ڑ تاہے۔آج تم نے بر طانوی حکومت کا قانون توڑاہے۔کل تم اللہ کا قانون توڑ سکتے ہو۔میں تم پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔)
یہ کہہ کر اس عورت نے پا کستانی مرد کو طلاق دے دی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdullah Umar

Read More Articles by Abdullah Umar: 5 Articles with 3865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2018 Views: 409

Comments

آپ کی رائے
thank you...
By: Abdullah umar, RWP on Oct, 21 2018
Reply Reply
0 Like
Good article
By: Danial Ahmad , Dgkhan on Oct, 21 2018
Reply Reply
0 Like