خواتین اساتذہ کی لباس کے چناؤ کی آزادی

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
اس ملک میں کچھ نجی ادارے غیر مسلموں کے بھی ہیں۔ ان میں اسلامیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ خواتین اساتذہ کو عباء ہی نہیں کالے سکارف پہننے کی بھی آزادی ہے۔ ان اداروں میں طلباء کو توجہ مضمون پر دینے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ کیا مسلمان اداروں کے لیے ہی لازمی ہے کہ وہ اپنے طلباء کو خواتین اساتذہ کی ذات میں دلچسپی لینے کی ترغیب دیں

بہادر لوگ اپنے تمغوں کو اور نفیس لوگ اپنے جوتوں کو چمکا کر رکھتے ہیں۔ تمغوں کے اظہار کے مواقع
محدود ہوتے ہیں مگر جوتے تو روز مرہ استعمال کی چیز ہے۔ چمکتے جوتے بھی تب ہی جچتے ہیں جب سارا لباس ہی اجلا ہو۔ لباس کے بارے میں سیانے کہتے ہیں، موقع محل کے مطابق اور مناسب ہونا چاہیے۔

امریکہ کی ایک عدالت میں1969 میں ایک مقدمہ سنا گیا جس میں موقع محل کے مطابق مناسب لباس پر بحث کر کے عدالت سے فیصلہ مانگا گیا تھا۔ اس زمانے میں امریکہ ویتنام میں جنگ لڑ رہا تھا اور امریکہ کے اندر اس جنگ کی مخالفت کے اظہار کے طور پر طلباء نے اپنے لباس پر سیاہ رنگ کی پٹیاں باندھنی شروع کی تو انتظامیہ نے سیاہ پٹیاں باندھنے پر پابندی لگا دی۔ عدالت میں لباس پہننے کی آزادی کو لے کر مقدمہ لڑا گیا۔ البتہ عدالت نے سکول کی انتظامیہ کا یہ حق تسلیم کیا کہ وہ طلباء کے لیے Dress Code نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے ۔ اس کے بعد سکولوں نے اپنے ڈریس کوڈ کو بطور یونیفارم نافذ کر دیا۔ اور اس یونیفارم کے علاوہ کچھ بھی پہننا ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی شمار ہونے لگا۔وقت کے ساتھ ضرورت کے مطابق اس ڈریس کوڈ میں ترامیم بھی ہوتی رہیں البتہ اس پر اس کا اتفاق ہے ایسا لباس نہ پہنا جائے جو کسی مخصوص طبقے، گروہ کا شعار ہو یا کسی تجارتی برانڈ یا لوگو کا پرچار کرتا ہوْ کسی نظریے ، فکر یا تحریک کو اجاگر کرتا ہو رنگ برنگے لباسوں کی بجائے یکساں رنگ کا لباس ہولباس کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ لمبائی کا بھی تعین کر دیا گیا
وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جو ترامیم ہونیں اس کے بعد
ایسا لباس جو جنسی اشعال کا سبب بنتا ہو یا منشیات کی ترغیب دیتا ہو
ایسا لباس جو انسان کے زیر جامہ اور پردے کے مقامات کے اظہار کا سبب بنتا ہو ا پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ البتہ کچھ چیزوں کو استثناء بھی حاصل ہوا جن میں:
*لڑکیوں کا سر پر سکارف باندھنا
* لڑکوں کا پگڑی باندھنا
* کپہ ( مخصوص ٹوپی ) سر پر رکھنا
* صلیب والے نیکلس پہننا

البتہ لڑکوں کے سر کے بال ادارے کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ترشوانا بھی ڈریس کوڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔

پاکستان مین نجی تعلیمی اداروں کے ڈریس کوڈ ان کے ماخذ ادارے Mother Institution کی بجائے ان داروں کی مقامی انتظامیہ طے کرتی ہے ، جو مقامی موسم و مزاج کے مطابق ہوتے ہیں ۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علم جب سکول مین داخل ہو اس کی تعلیم کے حصول سے توجہ نہ ہٹ پائے اس کے لیے سکول کا ماحول اور اس کا لباس اس کا معاون بنے۔

تبدیلی کے اس دور میں نجی اداروں کی استانیوں کے عباء پہننے اور سر پر سکارف لینے کی ممانعت کی مہم زور شور سے جاری ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اداروں کو استانیوں کے بارے میں ایسا ڈریس کوڈ تجویز کرنا چاہیے جو طلباء کو استانی کی طرف متوجہ رکھنے کا سبب بنے تاکہ دوران لیکچر طلباء کی توجہ بکھرنے سے محفوظ رہے۔

کچھ نجی سکولوں کی انتظامیہ نے اس دلیل سے متاثر ہو کر اپنی خواتین اساتذہ کو زبانی ہدایت کی ہے کہ وہ کالے رنگ کے سکارف کی بجائے شوخ رنگ کے پھول دار سکارف استعمال کریں۔کہا جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اس موضوع پر فکر مند لوگ دودھ ہی کے جلے ہوئے ہیں۔ جلن ، جلن ہی ہوتی ہے خواہ بلاواسطہ آگ کی ہو خواہ بلواسطہ۔

اس ملک میں کچھ نجی ادارے غیر مسلموں کے بھی ہیں۔ ان میں اسلامیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ خواتین اساتذہ کو عباء ہی نہیں کالے سکارف پہننے کی بھی آزادی ہے۔ ان اداروں میں طلباء کو توجہ مضمون پر دینے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ کیا مسلمان اداروں کے لیے ہی لازمی ہے کہ وہ اپنے طلباء کو خواتین اساتذہ کی ذات میں دلچسپی لینے کی ترغیب دیں۔ :،

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 54973 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Oct, 2018 Views: 291

Comments

آپ کی رائے