تعلیم میں منصوبہ بندی کی ضرورت

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

میرے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تعلیمی خبریں زیادہ اہمیت اور دل چسپی کی حامل ہوتی ہیں جس کی وجہ میری اس شعبے کے ساتھ وابستگی ہے۔اکثر اوقات میری مختلف ورکشاپوں میں اساتذہ کے ساتھ نشست ہوتی رہتی ہے تو میں انہیں کہتا ہوں کہ بلا شک و شبہہمعلمی ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے اور ہم لوگ نہایت خوش قسمت ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمارا ’انتخاب ‘ اس پیشے کے لئے کیا ہے۔ ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو دیکھیں ‘ کتنے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور بے روزگاری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہمیں اﷲ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس مقدس پیشے کے لئے منتخب کیا ہے ۔2017 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا کی آبادی ساڑھے پینتیس ملین سے کچھ زائد ہے جس میں اعشاریہ دو ملین لوگ اس مقدس پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہ تناسب ایک اور دوسو کا ہے، یعنی ہر دوسوافراد پر ایک استاد ہے۔ گزشتہ روز اخبار میں دو خبریں تعلیم کے حوالے سے پڑھیں جوبظاہر خوش آئند معلوم ہوتی ہیں لیکن حقائق کو سامنے رکھ کر جائزہ لیا جائے تو اُن میں واضح تصادم پایا جاتا ہے جس کی وجہ تعلیمی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ پہلی خبر یہ تھی کہ اس بار خیبر پختون خوا کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے 167 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔خبر میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی فنڈز کی تقسیم نہیں بتائی گئی۔ اس میں یہ تفصیل بھی موجود نہیں ہے کہ ابتدائی ، ثانوی ، اعلیٰ ثانوی ، اعلیٰ اور فنی تعلیم کے لئے الگ الگ کتنے پیسے رکھے گئے ہیں۔ البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ پُرانے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچایا جائے گا جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اس سے قبل بدلتی حکومتوں کی وجہ سے پُرانے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے تھے اور یوں نیم تکمیل شدہ منصوبے پیسوں کے زیاں کا سبب بنتے تھے لیکن اس دفعہ خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف نے دوسری بار حکومت بنائی ہے لہٰذا تعلیمی شعبے میں پچھلے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانا اُن کی اولین ترجیح ہو گی۔ خبر میں مزیدیہ بتایا گیا کہ تمام اضلاع میں کوئی نیا سکول نہیں بنایا جائے گا ، موجودسکولوں میں سہولیات بہتر بنائی جائیں گی اور ضرورت کے وقت کرایہ کی عمارتوں میں سکول قائم کئے جائیں گے۔ بظاہر یہ خبر اچھی بھلی معلوم ہوتی ہے اور حکومت کی جانب سے تعلیم کے معاملے میں سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں خیبر پختون خوا حکومت نے جاری رواں سال کے بجٹ میں تعلیم کے لئے 167 ارب تین کروڑ روپے مختص کئے جس میں 146 ارب گیارہ کروڑ روپے ابتدائی و ثانوی تعلیم ،اٹھارہ ارب اسّی کروڑ روپے اعلیٰ تعلیم اوردو ارب بیالیس کروڑ روپے فنی تعلیم کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ گزشتہ برس تعلیم کے لئے 131 ارب روپے مختص کئے گئے تھے، یعنی امسال بجٹ گزشتہ سال کی نسبت ستائیس فیصد زیادہ ہے۔ دوسری خبر اس منصوبے کے لئے رکاؤٹ کی وجہ ٹھہرے گی جو کہ یہ ہے ۔ تفصیل کے مطابق خیبر پختون خوا کے زیادہ تر علاقوں میں لڑکیاں صرف ثانوی تعلیم تک اپنا تعلیمی سفر جاری رکھتی ہیں جس کی وجہ جلد شادی یا والدین کی مالی استعداد نہ ہونا بتائی گئی ہے۔ جب کہ ادھوری تعلیم چھوڑنے کا ایک سبب تعلیمی اداروں کی کمی بھی بتائی گئی ہے۔ اس کے حل کے لئے صوبہ بھر میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے سکولوں میں ثانوی سطح میں آنے والی طالبات کو ماہوار وظائف دیئے جائیں گے۔

جیسا کہ اوپر کی سطور میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ دونوں خبریں خوش آئند اور حکومت کی نیک نیتی کو ظاہر کرتی ہیں لیکن دونوں پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں ان منصوبوں کے درمیان تصادم کی فضا پیدا ہوگی۔ اول، پہلی خبر کے مطابق حکومت کوئی نیا سکول نہیں بنائے گیبلکہ موجودہ سکولوں میں سہولیات بڑھائے گی جب کہ دوسری خبر میں کہا جارہا ہے کہ لڑکیوں کی ادھوری تعلیم کا ایک سبب تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔ یہ ایک روشن حقیقت ہے جس کے متعلق روزانہ میڈیا پر کچھ نہ کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو ملتا ہے۔ دوم ، سکولوں میں ثانوی سطح پر آنے والی طالبات کو وظائف دیئے جائیں گے۔ ان وظائف کی کشش سے سکولوں میں طالبات کے داخلے کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ یہاں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ طالبات کو مراعات دینے سے بچیاں نجی تعلیمی اداروں سے سرکاری سکولوں کا بھی رُخ کریں گی اور یوں نئے سکولوں کی تعمیر حکومت کے لئے ناگزیر ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ جب بھی تعلیم بارے سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر ہوتاہے تو وہ بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ اُن کی حکومت میں تعلیمی اصلاحات کی بدولت طالب علم نجی اداروں سے سرکاری تعلیمی اداروں کا رُخ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی ایماء پر ایجوکیشن کے ضلعی دفاتر نے تمام سرکاری سکولوں سے ڈیٹا بھی اکھٹا کیا ہے۔ سوم ، حکومت کو بڑھتی ہوئی آبادی کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔یہ حقائق اپنے سامنے رکھیں کہ ہر دن کتنے بچے سکول جانے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور اُن کے لئے کتنے نئے سکولوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ منصوبہبندی کرتے وقت مختلف پہلوؤں اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تاکہ قومی سرمایے کا استعمال صحیح طور پر ہو اور منصوبوں کی تکمیل ایک دوسرے پر اثرانداز نہ ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 128455 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2018 Views: 1448

Comments

آپ کی رائے