گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مناور کا پرنسپل محبوب علی خان ریٹائرڈ ہوئے۔طلبہ و اساتذہ کی طرف سے الوداعی پارٹی کا اہتمام

(Amir jan haqqani, Gilgit)
پروفیسرمحبوب علی خان نے 1981ء میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادایم ایس سی کیا اور گلگت بلتستان کے پہلے پوسٹ گریجویٹ کا اعزاز حاصل کیا۔1982 سے 1984تک پبلک اسکول اینڈ کالج گلگت میں ٹیچنگ کی۔ 1984کو گلگت بلتستان کالج میں بطور لیکچرار تقرری ہوئی۔1984 سے 1998تک بطور لیکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسر گلگت بلتستان کالجز میں کام کیا۔ 1998 سے 2005تک ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن ، ٢٠٠٥ سے ٢٠١٠ تک ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن اور ایک سال سیکرٹری ایجوکیشن کے طور پر کام کیا۔ ٢٠١١ سے ٢٠١٧ تک بے نظیر انکم سپورٹ گلگت بلتستان کے ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر جبکہ ١٣ اکتوبر ٢٠١٨ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی کالج گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج گلگت مناور کے پرنسپل کے طور پر کام کیا۔ ا پنی ٣٤ سالہ زندگی کا سفر مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوئے۔

پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت کے پروفیسروں کا گروپ فوٹو

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت کے پرنسپل پروفیسر محبوب علی خان اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہوئے۔پروفیسر محبوب علی خان کے اعزاز میں پوسٹ گریجویٹ کالج میں طلبہ و اساتذہ نے ایک الوداعی پروگرام کا اہتمام کالج کے آڈیٹوریل ہال میں کیا۔اس شاندار پروگرام کا آغازتلاوت قرآن کریم سے کیا گیا، کالج کے لیکچرار مفتی لقمان رسول نے تلاوت کلام سے حاضرین کے دل منور کیے۔ کالج کے شعبہ اردو کے پروفیسر انورعلی جمیل نے نعت رسول پیش کیا۔کالج کے ہونہار طالب علم حسنین قاسمی نے پرنسپل کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محبوب صاحب کے دور میں تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری دیکھی،طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تعلیمی ماحول پیدا کرنے اور کالج کے ترقیاتی کاموں میں پروفیسر محبوب علی خان نے بہترین کردار ادا کیاحسنین قاسمی نے کالج کے تمام طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے پرنسپل کو الوداع کہا اور بطور استاد اسٹیج سے ہی ایک آنوکھا سیلوٹ بھی کیا جس پر انہیں بھرپور داد دی گئی۔شوشل ورک کے پروفیسر اور معروف شاعر اشتیاق احمد یاد نے پرنسپل محبوب علی خان کی زندگی کے تمام گوشوں کو سامعین کے سامنے بلاکم و کاست پیش کیا۔اور ان کی ہر قسم کی خدمات کو سراہا۔ شعبہ سیاسیات کے استاد امیرجان حقانی نے استاد کی عظمت پر ایک طویل لیکچر دیا اور پروفیسر محبوب علی خان کو ایک کامیاب استاد کے طور پر خدمات انجام دینے پر مبارک باد دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوتا اور نہ ہی استاد کبھی ریٹائرڈ ہوتا ہے۔پروفیسر محبوب علی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے گلگت بلتستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ارشاداحمد شاہ نے کہا کہ میں محبوب علی خان کا شاگرد ہوں۔ میں نے انہیں بطور استاد، بطور ڈپٹی سیکرٹری اور سیکرٹری ایجوکیشن بھی دیکھا ہے اور بطور پرنسپل بھی ساتھ کام کیا ہے۔ میں بلاجھجک کہتا ہوں کہ اتنے ہنس مکھ اور وژنری انسان میں نے بہت کم دیکھے ہیں۔بطور لیڈر ٹیم ورک کرنا محبوب علی خان کی خاص خصوصیات میں ایک ہے۔ پروفیسر محبوب علی خان کے ابتدائی رفیق پروفیسر بشیر احمد نے انتہائی خوبصورت انداز میں پروفیسر محبوب علی خان کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی تمام خدمات پر مشتمل طویل خطاب کیا۔ پروفیسر بشیر نے زور دے کر کہا کہ قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام میں پروفیسر مہرداد گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکرفدانوشاد کے ساتھ پروفیسر محبوب علی خان نے دن رات محنت کی ، بالآکر یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر اجلال حسین نے پرنسپل صاحب محبوب علی خان کو تمام اکیڈمک اسٹاف کی طرف سے الوداع کہا اور ان کی خدمات کو سراہا۔کالج کے اکیڈمک اسٹاف کی طرف سے پروفیسر بشیراحمد نے، کلرک اسٹاف اور چھوٹے ملازمین کی طرف سے سپرنڈنٹ لیاقت نے پرنسپل کو تحائف پیش کیے۔کالج کے تمام طلبہ نے گروپ وائس پرنسپل کو قیمتی تحائف پیش کیے۔سال اول کے ربانی گروپ، سال دوئم کے حسنین گروپ ، سال سوئم(تھرڈ آئیر) کے سلیم گروپ اور سال چہارم کے عظمت گروپ نے پرنسپل کو ہار پہنایا اور اپنے کلاس فیلوز کی طرف سے خراج تحسین بھی پیش کیا۔اس پروگرام میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شعبہ اردو کے استاد ،معروف فکشن رائٹر احمد سلیم سلیمی نے انجام دیے ۔ پروفیسر محبوب علی خان نے اپنے الوداعی خطاب میں تمام طلبہ و اساتذہ اور کالج کے ملازمین کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی ملک و ملت کے ساتھ نوجوان کی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے کوئی ادارہ بناکر اپنے تجربات کو ان کے ساتھ شیئر کرے گا اور انہیں اسکالر شپ دلانے کے لیے بھی بھرپور کوشش کریں گے۔پوسٹ گریجویٹ کالج کے اکیڈمک اسٹاف نے پروفیسر محبوب علی خان کو الوداعی کھانا کے اہتمام سرینہ ہوٹل گلگت میں کیا۔

پروفیسرمحبوب علی خان نے 1981ء میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادایم ایس سی کیا اور گلگت بلتستان کے پہلے پوسٹ گریجویٹ کا اعزاز حاصل کیا۔1982 سے 1984تک پبلک اسکول اینڈ کالج گلگت میں ٹیچنگ کی۔ 1984کو گلگت بلتستان کالج میں بطور لیکچرار تقرری ہوئی۔1984 سے 1998تک بطور لیکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسر گلگت بلتستان کالجز میں کام کیا۔ 1998 سے 2005تک ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن ، ٢٠٠٥ سے ٢٠١٠ تک ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن اور ایک سال سیکرٹری ایجوکیشن کے طور پر کام کیا۔ ٢٠١١ سے ٢٠١٧ تک بے نظیر انکم سپورٹ گلگت بلتستان کے ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر جبکہ ١٣ اکتوبر ٢٠١٨ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی کالج گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج گلگت مناور کے پرنسپل کے طور پر کام کیا۔ ا پنی ٣٤ سالہ زندگی کا سفر مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوئے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 186979 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
27 Oct, 2018 Views: 486

Comments

آپ کی رائے