اچھی معاشی اور اقتصادی حکمرانی کے تقاضے

(Awais Sikandar, )

تصور حکمرانی کوئی نیا تصور نہیں یہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ تہذیب انسانی۔ اس اصلاح کو گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی ماہرین کثرت سے استعمال کررہے ہیں۔ مثالی تصور حکمرانی ایک ایسا فن،لائحہ عمل اور طریقہ کار ہے۔ جس کے مطابق ریاستی امور اور حکومت کا کاروبار احسن طریقے سے بروقت سر انجام دیا جائے تاکہ لوگوں کو اطمنان قلب ہوسکے۔تمام حکومتی اختیارات کو مکمل طور پر عوام کی حقیقی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے اور ان کے لیے آسانیوں کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے۔ تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی شخصیت اور سیاسی آزادی کی حفاظت کی جائے۔ حکمران خدا اور عوام کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہوں۔ صالح اور نیک سیرت ماتحتوں کا انتخاب کرے۔ تمام حکومتی فیصلے ساف و شفاف طریقے سے سر انجام پائیں اور عوام الناس کو ان مین شامل کیا جائے۔ غیر ذمہ داری یا غلطی کی صورت میں حکمران و عہدیدار کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے۔ یہی بہتر حکمرانی کا مقصود ہے۔

بہتر تصور حکمرانی کی تعریف اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عوام کی فلاح ہر وقت مقدم ہو۔ یہ نمونہ آج سے چودہ سال پہلے سالت مآب حضرت محمد ﷺ کے حقیقی پیروکار خلفائے راشدین کے دور میں نظر آتا ہے۔ اس حکمرانی کا کردار مختلف صورتوں میں جاگزیں ہے۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ریاست مدینہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کی ابتدا بہتر انداز میں کی اور خلفائے راشدین نے بھی اس تصور کی کما حقہ تقلید کی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور خلافت بھی مثالی حکمرانی کا دور تھاکئی حکمرانوں نے اسے بھی اپنانے کی کوشش کی لیکن ان کے ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر یہ تصور اپنی افادیت کھو بیٹھا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جہاں تک بہتر معاشرتی حکمرانی کا تعلق ہے تو اس میں سب سے پہلے انسانی حقوق کے احترام کا تصور اسلام نے پیش کیا۔ حضور پاک ﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع اس کی بہترین مثال ہے۔ جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کو کسی دوسرے شخص پر کوئی فوقیت حاصل نہیں نہ گورے کو کالے پر برتری ہے اور نہ کالے کو گورے پر برتری ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی برتری ہے۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر بھی نبی پاک ﷺ کے پیش کردہ خطبہ ہی سے اخذ کیا گیا ہے جس میں سب سے پہلے مساوات کا درس دیا گیا ہے اور غلامی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مغربی دنیا نے صدیوں بعد ان اصولوں کو اپنانے کی کوشش کی۔

حضور پاک ﷺ نے ہمسایوں کے حقوق کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اگر حق تلفی کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہمسایوں کو جائیداد میں بھی شریک کیا جاسکتا تھا۔ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی شخصی آزادی کی حفاظت بہتر تصور حکمرانی میں شامل ہے۔ اس میں عام طور پر امربالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کی جاتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ میں کسی شخص کو اس کا موقع نہ دوں گا کہ وہ کسی کی حق تلفی یا کسی پر زیادتی کرے۔ اسلام غیر مسلموں کو بھی مکمل معاشرتی حقوق سے نوازتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے خوارج کو پیغام بھیجا تھا کہ تم کو آزادی حاصل ہے کہ جہاں چاہو رہوالبتہ ہمارے اور تمھارے درمیان یہ قرار پایا ہے کہ ناجائز طور پر کسی کا خون نہ بہاو ¿ گے۔ بدامنی نہیں پھیلاو ¿ گے ۔ اگر ایسا ہوا تو تمھارے خلاف کھلی جنگ ہوگی۔

اسلامی ریاست میں رزق حلال اور آزاد تجارت کے اشتراک سے ایسا معاشی نظام معرض وجود میں آیا جس میں معاشرے کے تمام طبقے مستفید ہوتے تھے اور کوئی طبقہ مفلوک الحال اور مالی پریشانی کا شکار نہ تھا ۔ بیت المال ، مال و زر سے بھرا رہتا تھا۔ یہ پبلک کا خزانہ تھا۔ جس پر خلیفہ کوذاتی استعمال کا حق نہ ہوتا تھا۔ بنو امیہ نے اس کو زاتی طور پر استعمال کیا جس سے مثالی اقتصادی حکمرانی کا دور ختم ہوا۔ حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ خدا کے نزدیک سب سے بدبخت حاکم وہ ہے جس کے سبب اس کی رعایا بدحال ہو۔اس طرح سب عمال کو فرمایا کہ تم بھی اپنے آپ کو کج روی سے بچاو ¿ تاکہ تمھارے ماتحت کج روی اختیار نہ کریں۔

حضرت عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ اگر اس کے دور خلافت میں کوئی کتا بھی دریائے دجلہ کے کنارے پر بھوکا مر جائے تو وہ قیامت کے دن اس کا بھی جواب دہ ہوگا۔ اس لیے اناج کی بوریاں اپنے کندھوں پر لاد کر بھوکوں کے گھر پہنچایا کرتے تھے۔ زکوٰة کے علاوہ صدقہ و خیرات سے ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی تھی۔ بیت المال سے یتیموں ، بیواو ¿ں اور بے سہارا لوگوں کے لیے وظائف مقرر کیے جاتے تھے۔ لوگوں کو یکساں طور پر رزق حلال کمانے کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے۔موجودہ فلاحی ریاستوں میں بھی آج کل اسی تصور کے تحت یتیم، بڑھاپے کی پینشن، بہبود فنڈ، سوشل سیکورٹی اسکیم اور یتیم خانے جیسے ادارے شب و روز اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ آج کے دور میں خاص طور پر ہمارے مسلمان معاشرے میں بہتر اور اچھے حکمرانوں کا فقدان ہے۔ ہمیں مسلمان ہوتے ہوئے آپ ﷺ کے دور اورآپ ﷺ کے دور کے بعد صحابہ اکرامؓ کے مختلف ادواروں کی طرف دیکھتے ہوئے ایک اچھا اور بہتر مسلمان معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Awais Sikandar

Read More Articles by Awais Sikandar: 8 Articles with 4234 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Nov, 2018 Views: 415

Comments

آپ کی رائے