محسن انسانیت کا بچپن سے لے کر نبوت تک کا سفر

(Obaid Khan, )

 اشاعت خصوصی۔۔۔بسلسلہ یوم ولادت رسول اﷲ ﷺ

تحریر:عزیر رفیق

آج سبھی گھر والے بہت خوش تھے کیونکہ گھر میں آج ایک پیار ا سا بچہ پیدا ہوا تھا۔ جسے دیکھ کر سب گھر والے خوشی سے سرشار تھے۔ اس کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہی اس کے والد وفات پا گئے تھے۔ اس بچے کی پرورش دادا نے کرنی تھی۔ دادا جان بچے سے بہت محبت کرتے تھے۔ بچہ اس قدر پیارا اور خوبصورت تھا کہ دادا کی آنکھ کا تار ابن چکا تھا۔ دادا بچے سے خوب لاڈ پیار کرتا۔ اس علاقے میں جب بچہ پیدا ہوتا تو اس کی پرورش کے لیے دیہات میں کسی دائی کے پاس بھیج دیا جاتا تھا وہ عورت اس بچے کی دیہات میں پرورش کرتی اور دودھ پلاتی،آج سب عورتوں نے اس بچے کی بستی میں مختلف لوگوں کے بچے لینے آنا تھا۔ سب عورتوں کی کوشش تھی کہ انہیں کوئی اچھے اور امیر ترین گھر کا بچہ ملے تاکہ انہیں پرورش کی اچھی خاصی قیمت ملے۔

سبھی عورتیں جب اس بچے کے گھر آتیں تو اسے اپنی گود لینے سے انکار کر دیتی کیونکہ یہ بچہ یتیم تھا اور ان عورتوں کو علم تھا کہ اس یتیم بچے کے گھر سے ہمیں پرورش کی قیمت بہت کم ملے گی۔ لہٰذا سبھی اس بچے کو چھوڑ کر امیر گھرانے کے بچوں کو گود لیتی۔ حتیٰ کہ کسی بھی عورت نے اس بچے کو گود نہیں لیا۔

لیکن اُن عورتوں میں ایک عورت ایسی بھی تھی جسے آج کوئی بچہ نہیں ملا تھا۔ اس نے سوچا کہ گھر خالی ہاتھ جانے سے بہتر ہے کہ اسی بچے کو اپنے ساتھ لے جاو?ں تاکہ کچھ تو مل جائے اور خالی ہاتھ نہ جانا پڑے۔ اس نے بچے کو گود لیا اور قافلے کے ساتھ واپس روانہ ہوگئی۔ باقی عورتوں کے پاس جو سواریاں تھیں وہ بہت تیز ترین تھیں اور جلدی سفر مکمل کرنے والی تھیں۔ لیکن اس عورت کے پاس جو سواری تھی۔ وہ بہت سست اور دھیمے دھیمے چلتی تھی۔ لیکن آج حالات تبدیل ہو چکے تھے۔ وہ سواری جو بالکل دھیمے دھیمے چلتی تھی اس نے بہت تیزی سے چلنا شروع کر دیا جس وجہ سے یہ عورت بہت حیران تھی۔ ساتھ والی عورتیں بہت دور جا چکی تھیں۔اچانک منظر تبدیل ہو گیااور یہ سواری تیزی سے بھاگتی ہوئی ان تیز ترین سواریوں والی عورتوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی اپنی منزل کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بہت حیران ہو رہی تھیں کہ وہ سواری جو سب سواریوں سے سست ہے وہ آج بہت تیزی سے بھاگتے جا رہی ہے۔ گھر میں اس بچے کی آمد ہوئی تو وہ جانور جو دودھ بہت کم دیتے تھے آج ان کے تھن دودھ سے بھر چکے تھے۔ یہ عورت اس طرح کیے واقعات سے حیران بھی تھی اور خوش بھی۔ اسی طرح دن گزرتے گئے بچہ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا گیا کہ اچانک ایک خوفناک واقعہ پیش آیا۔ہوا یوں کہ یہ بچہ باہر کھیلنے کے لیے گیا۔ کھیلتے کھیلتے اچانک ایک سفید لباس میں ملبوس شخص اس بچے کو پکڑتا ہے اور زمین پر لٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد اس بچے کا سینہ چاک کرتا ہے۔ اور اس میں سے دل نکال کر اسے پانی سے دھوتا ہے اور واپس سینے میں رکھ کر سینہ جوڑ دیتا ہے۔ جب اس عورت نے دیکھا تو وہ ڈر گئی اور فوری اس بچے کو اس کی والدہ کے پاس لے گئی اور انہیں سارا ماجرہ سنایا۔ اس کے بعد یہ بچہ اپنی والدہ کے پاس رہنے لگ گیا اب بچہ 4 سال کا ہو چکا تھا۔ والدہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتی تھی۔ بچہ بھی اپنی والدہ کا کہنا مانتا تھا۔ بچہ جب 6 سال کی عمر کو پہنچا تو اس کی والدہ نے سوچا کیوں نہ اسے اس کے عزیز و اقارب کو ملانے کے لیے جاو?ں چنانچہ وہ چلے اور دوسرے گاو?ں میں اپنے عزیز و اقارب کے پاس پہنچ گئے۔

وہیں اس بچے کے والد کی قبر بھی تھی۔ عزیز و اقارب اور اپنے والد کی قبر دیکھ کر بچہ اور اس کی والدہ واپس اپنے گھر کی طرف سفر کرنے لگے۔ سفر جاری تھا کہ اچانک اس بچے کی والدہ کی طبیعت خراب ہو گئی۔ والدہ کی طبیعت دیکھ کر بچہ بہت پریشان تھا۔ کیونکہ پیدائش سے 6 ماہ پہلے اس کے والد بھی دنیا سے جا چکے تھے۔ اب والدہ ہی اس کی پرورش کر رہی تھی۔ والدہ کی طبیعت ا س قدر خراب ہوئی کہ وفات پا گئیں۔ والدہ کی وفات پر بچہ بہت غم زدہ ہوا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی اسے والد کی وفات کی پریشانی تھی اور اب 6 سال کی عمر میں والدہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

اب یہ بچہ اپنے دادا کے پاس رہتا تھا۔ دادا جان اس بچے سے جان سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ بچے کو کھیلتا کودتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ کیونکہ اب ایک دادا ہی تو بچا تھا جو اس کو خوش رکھ سکے۔ یہ بچہ دو سال تک دادا کے پاس رہا۔ تو دو سال بعد دادا جان بھی اس بچے کو دنیا میں چھوڑ کر دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ اب تو اس بچے کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا۔ دادا جان کی پیدائش کے بعد بچے کی پرورش کی ذمہ داری اس کے چچا کہ پاس آئی۔ اب یہ بچہ اپنے چچا کی پرورش میں رہنے لگا۔

یہ بچہ دوسرے سبھی بچوں سے منفرد تھا۔ اس کا رہن سہن، چلنا پھرنا سب اس قدر اچھا تھا کہ لوگ اس بچے سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ یہ بچہ دوسرے بچوں کی طرح فضول کھیلوں میں وقت ضائع نہیں کرتا تھا۔ اور نہ ہی کسی فضول گفتگو کرنا پسند کرتا، اس کے رہن سہن سے ایسا معلوم ہوتا جیسے اس نے بڑے ہو کر بہت بڑا کارنامہ سر انجام دینا ہے۔ جس چچا کی پرورش میں یہ بچہ تھا وہ تجارت کرتے تھے، ایک دن تجارت کے لیے جاتے وقت چچا نے اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا اور تجارت کی غرض سے سفر شروع کیا۔ سفر کے دوران ایک شخص کی نظریں اس بچے پر ٹکی ہوئی تھیں وہ شخص اس بچے کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرتا جا رہا تھا۔ وہ اس بچے سے بہت حیران تھا۔ اس شخص نے اس کے چچا کو بتایا کہ اس بچے میں کچھ نشانیاں ایسی ہیں جو کہ ایک آنیوالے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی ہوئی تھیں اور اگر یہ نشانیاں شام کے یہود و نصاریٰ نے پا لیں تو وہ اس بچے کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ یہ بات سن کر بچے کے چچا نے یہ سفر ملتوی کر دیا اور واپس اپنے علاقے میں آ گئے۔ اس طرح کا ایک واقعی اس وقت بھی پیش آیا جب یہ بچہ بدوی قبیلہ میں اپنی دائی کے پاس تھا۔ تو وہاں کچھ عیسائیوں نے اس بچے کو غور سے دیکھا اور کچھ سوالات کیے یہاں تک کہ نبوت کی نشانیاں پائیں اور کہنے لگے ہم اس بچے کو پکڑ کر اپنی سرزمین پر لے جائیں گے، ان لوگوں کے ڈر سے پھر واپس بچے کو اپنے علاقے میں پہنچا دیا گیا۔

لوگوں کے شر سے ڈر ڈر کر چچا نے اس بچے کو پالا کیونکہ اس بچے کو پہلے ہی بہت سے غموں کا سامنا تھا۔ چچا اس بات کا ڈر تھا کہ لوگ اس بچے کونقصان نہ پہنچا دیں۔ کیونکہ وہ اس چھوٹی عمر میں ہی بچے کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔

ان واقعات سے پتا چلتا ہے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں سے بالکل منفرد زندگی بسر کر تا اور اس کے رہن سہن کا طریقہ بھی دوسرے بچوں سے الگ تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اس میں نبوت کی نشانیاں دیکھائی دے رہی تھیں۔ جس وجہ سے یہود و نصاریٰ اس بچے کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔

اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ اس قدر عظیم مرتبے والا بچہ آخر ہے کون؟ جس کی وجہ سے اس کی دایہ کی سواری تیز بھاگنے لگی، بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر آیا اور چھوٹی عمر میں ہی لوگ اس کی جان کے دشمن بن گئے۔ تو یہ بچہ تھا آخری نبی محمدﷺ جن کو اﷲ تعالیٰ نے 40 سال کی عمر میں نبوت سے نوازا تھا۔ 40 سال کی عمر میں نبوت ملنے کے بعد حضرت محمدﷺ نے جہالت کے شدید اندھیرے کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے کا عزم کیا تو لوگوں نے شدید تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آپﷺ اگر دعوت کے لیے باہر نکلتے تو شریر قسم کے لڑکے آپﷺ کو پتھر مارتے اور لہو لہان کر دیتے حتیٰ کہ پیارے نبیﷺ کے پاؤں تک خون بہنا شروع ہو جاتا۔

گلی سے گزرتی تو ان پر کوڑا پھینک دیا جاتا۔ لیکن اﷲ کے نبیﷺ کے انہیں اُف تک نہ کہتے بلکہ دعا دیتے: کہ یا اﷲ انہیں دین کی سمجھ عطا فرما۔ جب کہ آپ ﷺ اﷲ رب العزت سے دعا کرتے کہ ان کو عبرت کا نشان بنا سکتے تھے۔ لیکن پیارے نبیﷺ نے ایسا ہرگز نہیں کیا کیونکہ جو عورت آپﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی ایک دن وہ بیماری کی وجہ سے آپﷺ پر کوڑا نہیں پھینک پائی تو آپﷺ نے خیریت دریافت کی۔ آپﷺ کو پتہ چلا کہ وہ بڑھیا بیمار ہے تو اس کے گھر گئے اس کی عیادت کی، اس کے گھر کی صفائی کی، اور اسے پانی بھر کر دیا۔ نبیﷺ اخلاق کی بہت اعلیٰ مثال تھے۔

ایک دفعہ آپﷺ نے ایک بڑھیا کو وزنی سامان اٹھا کر چلتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ سامان آپ مجھے پکڑا دیں میں آپ کو منزل تک چھوڑ آتا ہوں۔ تو اس عورت نے اﷲ کے نبیﷺ کو سامان دے دیا اور ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ راستے میں وہ آپﷺ نصیحت کرنے لگی کہ ایک شخص سے بچ کر رہنا اس کے قریب مت جانا اور نہ ہی اس کی باتیں سننا۔ اس شخص کا نام محمد ہے اور وہ اپنے آپ کو اﷲ کا آخری نبی کہتا ہے۔ یہ باتیں سن کر اﷲ کے نبیﷺ مسکرائے اور بولے کہ اے اماں جان! وہ شخص میں ہی ہوں اور میرا نام محمدﷺ ہے۔یہ بات سن کر بڑھیا بہت حیران ہوئی کہ اس قدر اخلاق و محبت والا شخص اور لوگوں کی عزت و تکریم کرنے والا شخص جسے میں دیوانہ اور مجنوں سمجھتی رہی وہ آپ ہی ہیں۔ اﷲ کے نبیﷺ کا اخلاق دیکھ کر وہ بڑھیا مسلمان ہو گئی۔

آپﷺ کو بچپن کی طرح بڑے ہو کر بھی بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آپﷺ جب لوگوں کو دین کی دعوت دیتے تو بڑے سردار ظلم کی انتہا کر دیتے۔ حتیٰ کہ اﷲ کے نبیﷺ اگرنماز کے دوران سجدے میں ہوتے تو یہ ظالم اونٹ کی اوجھڑی پیارے پیغمبرﷺ کی گردن پر پھینک جاتے جس کے وزن سے پیارے نبیﷺ سجدے سے کھڑے نہ ہو سکتے۔کفار کے ظلم و ستم اس قدر تھے کہ انہوں نے نبیﷺ کے کھانے میں بھی زہر ملا دیا۔ یہ سارے ظلم و ستم کے باوجود پیارے نبیﷺ نے ان دشمنوں کے لیے دعا ہی کی اور ان کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا اور پیار و محبت کا سلوک کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آخر کار اﷲ کے نبیﷺ نے گھر گھر میں اسلام کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو جہالت و گمراہی سے نکال کر اسلام جیسے پیارے دین کی طرف راغب کر دیا۔

تو آئیے پیارے بچو! آج ہمیں بھی اﷲ کے نبیﷺ کی سیرت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح اﷲ کے نبیﷺ بچپن سے لے کر جوانی تک اور پھر اس کے بعد تک لوگوں کے ظلم و ستم سہتے رہے۔ والدہ، والدہ اور دادا جان کی وفات کی پریشانی اور غم میں مبتلا ہوئے۔ لیکن صبر کا مظاہرہ کیا اور آخر کار اخلاق و محبت سے لوگوں تک دین اسلام پہنچایا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Obaid Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 222

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ