مہذب معاشرہ اور ٹریفک پولیس کا کردار

(Abdul Hannan, Sialkot)

کسی بھی مہذب معاشرے میں قوانین عوام کی سہولت اور تحفظ کے لئے بنائے جاتے ہیں اور ان میں ترامیم بھی انہیں اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں قوانین میں ترمیم چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی جاتی ہے اور ہمارے سیاستدان تو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے آئین میں بھی ترمیم کر دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم صادر کیا ہے جس میں موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اورگزشتہ دنوں پھر ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں ہیلمٹ پہننے پر سختی سے عملدرآمد کروانے کا نوٹس جاری کیا ہے جس پر آئی جی پنجاب سے ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے ہیلمٹ پہننے کی آگاہی مہم کے حوالے سے ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے پولیس اہلکار اور وارڈنز سے بھی رعایت نہ کی جائے دنیا بھر میں موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہے۔ دنیا بھر میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون کے ہونے اور ہر حکومت کے اعلانات کے باوجود ہیلمٹ کے استعمال کی پابندی نہیں کی جاتی۔ ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے مرتب رپورٹس کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوتا۔ ہیلمٹ کے استعمال سے کم از کم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان حادثوں میں اموات کی بڑی وجہ سر کی چوٹ ہی ہوتی ہے۔ اب عدالتی حکم پر پہلے لاہور میں اور اس کے بعد پورے پنجاب میں ہیلمٹ کی پابندی پر عملدرآمد کے حکم پر انتظامیہ اگر سختی سے عمل کرائے اور کسی شخص کو خواہ اس کا تعلق پولیس سے ہی کیوں نہ ہو ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ عائد کرے تو کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے جہاں ٹریفک پولیس شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہے۔ وہاں صرف لاہور میں رواں سال کے ابتدائی ماہ کے دوران ٹریفک حادثات کی رپورٹ بھی قابل افسوس ہے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 جون تک صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 63ہزار 284 ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 1790 کے قریب مرد و خواتین اور بچے موت کی وادی میں چلے گئے۔ حادثات کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں پیش آئے، جہاں 39ہزار 908 حادثات میں 154 شہری موت کی وادیوں میں چلے گئے، جب کہ گزشتہ برس شہر میں 51 ہزار ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جس میں 51 ہزار افراد زخمی ہوئے، جب کہ 426 افراد لقمہ اجل بن گئے۔31 ہزار ٹریفک حادثات کم عمر ڈرائیورز اور موٹرسائیکل سواروں کی غفلت کے باعث پیش آئے۔10 ہزار ٹریفک حادثات رکشا ڈرائیورز کی وجہ سے پیش آئے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق موٹرسائیکل حادثات کی تعداد گذشتہ اکیس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔جہاں حادثات کے اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں، وہیں ہمارے لئے بھی کئی سوالات چھوڑ رہے ہیں، کیا ہم ہر کام میں محض تنقیدی پہلو تلاش کرتے رہیں گے، یا تعمیر کے مواقع تلاش کرنے کی جستجو بھی کریں گے۔ ہر شہری اس سے باخبر ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری جہاں اس کی جان کے تحفظ کی یقین دہانی ہے، وہیں دیگر افراد کی جانوں کے تحفظ کی یقین دہانی بھی ہے۔ ایک لمحے کو غور کریں کہ ایک ہیلمٹ جو آپ کی جان کو بچا سکتا ہے۔ اس کے خریدنے میں بہانوں سے کام کیوں لے رہے ہیں۔کسی بھی مہذب معاشرے کو دیکھنا ہوتو وہاں کی عوام کو اس کے قانون پر عمل سے دیکھا جاسکتا ہے اور وہیں مہذب معاشروں میں کسی بھی چیز پر خواہ وہ قانون ہو سرکاری فرمان اس پر عمل درآمد کے لئے آگاہی مہم شروع کی جاتی ہیں اور اس پر حکومتی سطح پر بہت پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ آگاہی مہم کے ذریعے عوام کے اندر شعور پیدا کیا جاتا ہے اور قانون یا سزا کا تعین کرنے سے پہلے عوام میں آگاہی پیداکی جاتی ہے جو حکم لاہور ہائی کورٹ سے جاری ہوتا ہے تو اس پر عملی تجربہ بھی سب سے پہلے لاہور میں ہی کیا جاتا ہے لاہور ہائی کورٹ میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد سے متعلق کیس میں سی ٹی او لاہور کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی وہ نہایت افسوس کن اور عوام کے لیے تکلیف کا باعث تھی رپورٹ کے مطابق دو روز میں ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر 22 ہزار سے ذائد موٹر سائیکل سواروں کے چالان کیے گئے لیکن شاید اس قانون پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے سیالکوٹ کے علاوہ کہیں اور باقاعدہ ٹریفک پولیس نے دلچسپی لیکر آگاہی مہم چلائی ضلع سیالکوٹ میں ٹریفک پولیس کی جانب سے سٹی سیالکوٹ میں ہیلمٹ پہننے کی آگاہی مہم چلائی گئی ۔سیالکوٹ پولیس کی طرف سے لوگوں میں ہیلمٹ اور تحائف کی تقسیم کی گئی ڈی پی او سیالکوٹ کی سربراہی میں سٹی ٹریفک پولیس سیالکوٹ کی طرف سے اٹلس ہنڈا کمپنی کے اشتراک سے تین روزہ روڈ سیفٹی مہم شروع کی گئی جسکا افتتاح ایک شاندار رتقریب میں عبدالغفار قیصرانی ڈی پی او سیالکوٹ اور محمد طاہر وٹو ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے کیا۔اس موقع پر عوام الناس میں سینکڑوں کی تعداد میں ہیلمٹ، بیک ویو مرر، ٹی شرٹس اور دیگر تحائف بھی تقسیم کئے گئے جبکہ شہر میں ہیلمٹ پہنے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ہیوی بائیک پر خود چیف ٹریفک آفیسر سید عون محمد شاہ اور ڈی ایس پی ٹریفک مظہر فرید نے کی۔ مہم تین روز تک جاری رہی جس میں موٹرسائیکل سواروں کو مفت انڈیکیٹر، لائٹس اور بریک وٖغیرہ کی مفت سروس فراہم کی گئی۔اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں ہونے والے ٹریفک خادثات کا جائزہ لینے سے یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ موٹر سائیکل خادثات میں اموات کی بڑی وجہ سر کی چوٹ ہے جبکہ ہیلمٹ کے استعمال سے قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں عوام الناس کی آگاہی ہے لیے شہر بھر میں سینکڑوں کی تعداد فلیکس بینر ز اور ہورڈنگ بورڈز نصب کروائے گئے ہیں جبکہ کے سٹی ٹریفک پولیس کی ایجوکیشن ونگ سکول کالجز میں جاکر لوگوں کو ٹریفک آگاہی کے حوالے سے لیکچردے رہی ہے اس کے بعد جو لوگ ہیلمٹ کے استعمال نہ کریں گے یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں گے ان کے خلاف بھر پور طریقے سے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہمارا اولین مقصد حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے سفر میں سہولیات فراہم کرنا ہے اس سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں چھوڑیں گے۔ ٹریفک پولیس سیالکوٹ کا یہ اقدام قابل تحسین ہے جس سے عوام اور پولیس دونوں کا ایک اچھا تعلق قائم ہوگا اور معاشرے میں ایک اچھا پیغام جائے گا کہ ٹریفک پولیس کا مقصد صرف چوک اور چوراہوں پر کھڑے ہوکر چلان کرنا نہیں بلکہ ہمیں وہ قانونی طریقہ کار پر چلانا ہے جو مہذب معاشروں کی پہچان ہوتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہر کام اسٹیٹ نے کرنا ہوتا ہے قوم کا ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جبکہ مہذب معاشرے میں حکومتوں کے ساتھ وہاں کی عوام بھی کردار ادا کرتی ہے آئیے ہم سب مل کر اپنے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ایک مہذب معاشرے کا آغاز ہم اپنے آپ سے کریں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Hannan

Read More Articles by Abdul Hannan: 15 Articles with 5740 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 454

Comments

آپ کی رائے