گناہ، ماحول اور صحبت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:خاور عباس جتوئی
میں ابھی چائے پینے کے لیے ایک چائے خانے پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک صاحب میرے ساتھ آبیٹھے جن کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن چائے خانے میں موجود بہت سے لوگ ان صاحب کو جانتے تھے۔ وہ شخص میرے لیے اجنبی تھا، وہ اجنبی شخص میرے ساتھ کچھ دیر ہی بیٹھا اور چائے پینے کے بعد چلا گیا۔جتنی دیر وہ میرے ساتھ بیٹھا اس دوران اس نے مجھے سلام کیا اور میں نے اسے سلام کا جواب دیا۔اب اس شخص کے جانے کے بعد وہاں بیٹھے کچھ لوگ مجھے حیرت اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے ان کی اس حیرت کو دیکھ کر میں خود حیران تھا بالآخر پاس بیٹھے ایک ہمسائے نے کہا،’’آپ بھی‘‘؟میں نے سوال کیا کیا ماجرہ ہے؟ تو اس ہمسائے نے کہا آپ بھی نشہ کرتے ہیں میں نے کہا ،’’نہیں‘‘۔ میں نے پھر سوال کیا،’’ آپکو کس نے کہا ‘‘؟تو وہ ہمسایہ بولا آپ کے ساتھ جو شخص بیٹھا تھا ،وہ نشہ کرتا ہے۔

مجھے سارا معاملہ سمجھ آگیا اور میں نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا،’’ وہ شخص میرے لیے اجنبی تھا اور کچھ نہیں میرا کچھ دیر ایک نشہ استعمال کرنے والے شخص کے ساتھ بیٹھنا میری بدنامی کا باعث بننے ہی والا تھا کہ بات سنبھل گئی‘‘۔میرا یہ مثال دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی میری کچھ دیر کی صحبت میرے لیے بدنامی کا باعث بننے والی تھی۔اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں جو صحبت کے بارے میں ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ توبہ میں کچھ اہلِ ایمان کی توبہ قبول کرنے کے بعد بطور نصیحت اس طرح کہی گئی ہے کہ’’ صادقین کے ساتھ رہا کرو‘‘۔(توبہ :119) کیوں کہ انسان روز وشب جن لوگوں کے درمیان بسر کرتا ہے، جانے انجانے میں ان کی نیک و بد عادات اس کی ذات میں شامل ہوجاتی ہیں یاوہ صحبت اس کی پہچان کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ’’ اچھے اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہاروں کی بھٹی تو مشک والے کے پاس سے تم بغیر فائدے کے واپس نہ ہوگے یا تو اسے خریدو گے یا اس کی بو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی تیرے جسم کو یا تو تمہارے کپڑے کو جلادے گی یا تم اس کی بدبو سونگھو گے‘‘۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2021)

زمانہ طالب علمی میں اپنے اساتذہ اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان اپنی صحبت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ جس کی صحبت اچھی ہے، وہ اچھا ہے اور جس کی صحبت بری ہے وہ برا۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو کوئی بھی شخص اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہر دوست اپنے ساتھی کی ہی اقتدا کرتا ہے اگر وہ دوست برا ہو تو جلد ہی اس سے دور ہو جاؤ اور اگر اچھا ہو تو اس کے ساتھ ملے رہو راستہ پالو گے۔یہی وجہ ہے کہ والدین کبھی نہیں چاہتے کہ ان کے بچے کسی غلط دوست ،کسی غلط شخصیت کے ساتھ اپنا اٹھنا بیٹھنا رکھیں کیونکہ والدین کو ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کے بچے غلط راستے پہ نہ چل نکلیں۔ یہ غلط صحبت کی تو بدنامی ہی والدین کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتی ہے جب والدین کو کہا جائے کہ آپکا بچا فلاں غلط شخص یا دوست کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے تو انہیں اپنے بچے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔

انسانوں کو گناہوں کی طرف لے جانے والا ایک اہم عامل انسان کا ماحول اور اس کی صحبت ہے۔ انسان تنہا نہیں جی سکتا۔ اسے بہرحال اپنے ذوق کے مطابق ہم عمرساتھیوں اور احباب و رفقاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دوست کچھ مشترکہ خصوصیات کے علاوہ اپنی شخصی کمزوریاں اور بری عادات بھی ساتھ لے کر انسان کی زندگی میں آتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اپنی ان بری عادات کا زہر اس کے رگ و پے میں غیر محسوس طریقے سے گھول دیتے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں اس بات کا ظہور سب سے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک بچے، نوجوان لڑکے یا لڑکی کی زندگی میں آنے والا دوست یا سہیلی اسے بہت سے گناہوں کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ بہت سے بچے گالیاں دینا ایسے ہی سیکھتے ہیں۔ فحش کلامی، آوارگی، جنسی بے راہ روی اور نشہ بازی جیسی بیشتر عادات بالعموم اسی طرح کی بری صحبت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح انسان کا ماحول اور اس کا مطالعہ وغیرہ بھی اسے نافرمانی کی راہ تک لے جاتا ہے۔ ٹی وی اکثر لوگوں کی زندگی میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور اس کے ذریعے انٹرٹینمنٹ کے نام پر فواحشات بھی ان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انٹرنیٹ اور موبائل وغیرہ کا بھی ہے۔

موبائل اور انٹرنیٹ بھی دور حاضر میں ایک صحبت کی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال آپ مثبت اور منفی دونوں انداز میں کرسکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے لوگ اپنا وقت اور پیسہ خرچ کرنے کے بعد برائی خریدتے ہیں جب کہ اس جدید ٹیکنالوجی سے آپ اچھے کام بھی کرسکتے ۔انٹرنیٹ پر جب آپ کے نئے نئے دوست بنتے ہیں تو وہ بھی آپ کی صحبت ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بھی آپ کی صحبت ایسی ہونی چاہیے جو آپ کو اچھائی کی طرف لے جائے نہ کہ برائی کی طرف ۔

بندہ مؤمن کا کام یہ ہے کہ جب وہ توبہ کی راہ پر قدم رکھے تو اس بات کا جائزہ لے لے کہ اس کے دوستوں کا حلقہ کس قسم کا ہے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ اگر اس کا ماحول برا ہے تو وہ لازماً اسے بدلے۔ وہ اپنے دوستوں کو بھی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرے۔ اگر وہ نہ آئیں تو پھر انھیں چھوڑ دے۔ وہ ایسا نہیں کرے گا تو یہ غلط ماحول اور بری صحبت اسے دوبارہ بدی کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔ صحبت کے حوالے سے ہمیشہ احتیاط لازم ہے کیوں کہ جانے انجانے میں یہی صحبت ہماری شنا ختبن جاتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1254 Articles with 528971 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے