بیوی کو کیسے مطمئن کریں؟

(Manhaj As salaf, Peshawar)

آج کل پاکستان میں مورننگ شوز کے نام پر ایک بہت گندے اور بھونڈے انداز میں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بیوی کو مطمئن کیسے کریں؛ جس میں غیر دینی اشخاص کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ مردوں کے خلاف اور عورت کی آزادی پر خوب واویلا مچائیں۔ میرے خیال میں بیوی کو مطمئن کرنے سے پہلے صحیح بیوی کا انتخاب کرنا بہت اہم ہے۔ مثلا ایک دین دار لمبی داڑھی والا، اللہ سے ڈرنے والا شخص ہو تو اسے چاہئے کہ:

١۔ اللہ کے دین سے محبت کرنے والی بیوی اور صحیح عقیدہ کی سمجھ رکھنے والی بیوی منتخب کرے، دنیا پرستی میں ڈوبی عورت نہ ہو

٢۔ ہر غیر محرم سے سخت پردہ کرنے والی بیوی منتخب کرے، بے پردہ عورت نہ ہو۔

٣۔ بہت زیادہ صبر اور اللہ سے ڈرنے والی بیوی منتخب کرے، لوگوں یا انکی باتوں سے ڈرنے والی نہ ہو۔

ہاں، یاد رہے کہ پرسکون ماحول کے لیے اس شخص کے اپنے اندر بھی نیک نیتی، خلوص، اللہ کا خوف، صحیح عقیدہ کی سمجھ اور اللہ کے دین سے محبت اور رزق حلال کی تگ و دوہ جیسی صفات موجود ہونا چاہیں

جب ایسی مسلمان بیوی کسی مسلمان مرد کے نکاح میں آئے گی تو ان کی زندگی بہت آسانیوں میں گزرے گی کیونکہ وہ اپنی نعمتوں کی طرف دیکھیں گے چاہے نعمتوں کم ہی ہوں اور جس چیز میں وہ کمی کا شکار ہو سکتے ہیں (مثلا پیسہ، مال، آسایشات وغیرہ یا کسی اور چیز کی کمی) اس کی طرف نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ تو صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"‏إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے دوسرے کو دیکھے جو اپنے سے زیادہ ہو مال اور صورت میں تو اس کو دیکھے جو اپنے سے کم ہو مال اور صورت میں۔“ (تاکہ اللہ کا شکر پیدا ہو اور علم اور تقویٰ میں اس کو دیکھے جو اپنے سے زیادہ ہو)۔

(حوالہ: صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2963)

اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطاء فرمائے، اور اندھے انداز میں لوگوں کی طرف دیکھنے کی عادات سے بچائے، اللھم آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As salaf

Read More Articles by Manhaj As salaf: 287 Articles with 221511 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 300

Comments

آپ کی رائے