کمسن ملازمین پرتشدد،وجہ کیا؟

(HASSAN MUHAMMAD TARAR, KARACHI)
کم سن گھریلو ملازمین کے ساتھ بد سلوکی میں نہ صرف ان کے والدین کی غفلت شامل ہے بلکہ ریاست بھی اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی۔ بچوں سے محنت مشقت کے لیے غربت کو بہانہ بنانا درست نہیں۔ بچوں کو تعلیم اور تحفظ مہیا کرنا اور ان کی بہبود کے لیے قانون سازی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ ہر سال بارہ جون کو چائلد لیبر کے خلاف عالمی دن مناتا ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں 168 ملین بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی طرف دھیان مبذول کرانا ہے۔

دنیا میں انسانی حقوق کی بنیادرکھنے والامذہب ہی دین اسلام ہے،اسی مذہب نے معاشرے کو امن و آشتی کا گہوارہ بنایا اور تقسیم کار کے فطری قانون کے ذریعے کسی کو مالک تو کسی کو مملوک، کسی کو خادم تو کسی کو مخدوم، کسی کو حاکم تو کسی کو محکوم قرار دیا، اسی بناء پر باہمی حقوق و فرائض عائد کئے گئے اور اسی کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و ہمدردی کی تعلیم دی گئی ہے۔ پاکستان بھر میں غریب طبقے کے بچے جب امیر لوگوں کے گھروں میں گھریلو ملازم کے طور پر رکھے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جو ظلم اور بربریت ہوتی ہے اس سے معاشرے میں بے راہ روی اور حیوانیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ان غریب بچوں کو کم اجرت دے کر ملازمت پر رکھ لیا جاتا ہے اور مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ایسے بچوں پر ان کے مالک کی جانب سے ضرورت سے زیادہ کام لینا، ذہنی و جسمانی تکلیف دینا ان کی سماعت کو مفلوج بنانا، تذلیل کرنا، اندھیرے کمرے میں اکیلا رکھنا ہیں اور اکثر تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کے ان کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ جس سے وہ ڈر اور گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان سنگین جرائم کے نتائج سے والدین بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسے دلخراش واقعات ہمیں حال ہی میں ہوتے نظر آ رہے ہیں جن پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا قانون جس میں ا ٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو گھریلو ملازمت کی اجازت نہ دی جا ئے اور جو بھی ملازم رکھا جا ئے اس کے پاس اپنا قومی شناختی کارڈ لازمی ہو اور ان کے ساتھ منفی برتاؤ کرنے والے سفاک شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ہر کوئی ایسا جرم کرنے سے ڈرے۔ پاکستان میں آئے دن گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے محنت اور مزدوری کرنے کے خلاف نہ صرف پاکستان میں قوانین موجود ہیں بلکہ پاکستان کے قیام سے پہلے برطانوی راج میں بھی ایسے قوانین موجود تھے سن 2013 سے 2016 تک چاروں صوبوں نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے قوانین کو مضبوط کیا۔ لیکن دوسری جانب یہ امر قابل افسوس ہے کہ اس میں وہ بچے شامل نہیں جنہیں اُن کے ماں باپ دوسروں کے گھروں میں کام کے لیے بھیجتے ہیں ۔ یعنی چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کو ملکی قوانین میں خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔ کم سن گھریلو ملازمین کے ساتھ بد سلوکی میں نہ صرف ان کے والدین کی غفلت شامل ہے بلکہ ریاست بھی اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی۔ بچوں سے محنت مشقت کے لیے غربت کو بہانہ بنانا درست نہیں۔ بچوں کو تعلیم اور تحفظ مہیا کرنا اور ان کی بہبود کے لیے قانون سازی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ ہر سال بارہ جون کو چائلد لیبر کے خلاف عالمی دن مناتا ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں 168 ملین بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی طرف دھیان مبذول کرانا ہے۔

ہمارے پیارے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وصلم کے آخری خطبہ حجتہ الودع کوانسانی حقوق کا منشور کہا جا سکتا ہے، اس موقع پر نبی مکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے غلاموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، ان سے بہتر سلوک کرو، جو خود کھاؤ، خود پہنو انھیں پہناؤ، ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو۔ لہذا ہمیں چاہیئے اپنے اردگرد بچوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ماں باپ کا سہارا بننے کے لیےگھروں سے نکلنے والے ان بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں۔ ان ہزاروں پاکستانی بچوں کی کام کرنے کی وجہ صرف ایک ہی ہے غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ اگر مشاہدہ کیا جائے تو اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جن بچوں پرتشدد ہوتا ہے وہ غریب اور شہر سے دور رہتے ہیں کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگاتے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی اور عدالتوں کے چکر سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے واقعات میں کمی نہیں آتی اور والدین کو بالآخر صلح ہی کرنی پڑتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: HASSAN MUHAMMAD TARAR

Read More Articles by HASSAN MUHAMMAD TARAR: 3 Articles with 1157 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2018 Views: 293

Comments

آپ کی رائے