آخر ہم کب سدھریں گے ؟

(Muhammad Adil Khan Tanoli, Abbotabad)
ہماری انفرادی اور اجتمائی ذمداریوں اور کوتاہیوں سے پردہ اٹھاتی تحریر جس کی روشنی میں ہم ایک روشن کل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 72سال کا عرصہ گزر چکا ہے.یہ مملکت ہم نے بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی تھی. پاکستان وہ عظیم مملکت ہے جس کی بنیادوں میں گارا نہیں بلکہ 6لاکھ سے زائد ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بیٹوں، بزرگوں اور جوانوں کا شہید خون جمع ہے۔ اس کے قیام کامقصد ہی اللہ تعالیٰ کی غلامی اختیار کرنا تھا اور غیروں کی غلامی کا طوق گلے سے توڑنا تھا، مگر ہمارے ارباب اقتدار اغیار کے خوف کے آسیب کا شکار ہیں، ان کے دل قوتِ ایمان ویقین وتوکل علی اللہ کی دولت سے یکسر خالی ہیں۔ وہ اپنے مکار اور جھوٹے آقا کے ایک اشارے پر اپنی اسلامی شناخت، غیرت وحمیت اور خودداری کو کچلتے ہوئے اور اسلامی غیرت کا سودا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حکمرانوں کا رونا کیا رونا یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے.جس مقصد کے لیے یہ ملک بنایا گیا ہم نے اسی مقصد کو اپنی نسل کے ذہنوں میں مشکوک بنا دیا. کہنے کو تو ہم ایکآزاد قوم ہیں مگر حقیقت اس کے بلکل مختلف ہے. ہم سے بعد اور ہمارے ہم عصر جو آزاد ہونے آج وہ کہاں اور ہم کہاں.

ایک نظر جرمنی اور جاپان پر ڈال لیجئے جو دوسری جنگ عظیم1945کی بھیانک تباہی کے بعد دوبارہ نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش میں جٹ گئے تھے اور ہم نے بھی تقریباً اسی وقت 1947میں ایک نوزائیدہ آزاد مملکت کے طور پر اپنا سفر اختیار کیا تھا اگر آج ان سے موازنہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ 72 برس کا عرصہ آگے کی بجائے ہمیں مزید صدیوں پیچھے لے گیا ہے۔ جرمن قوم کے اتحاد و یکجہتی نے دیوار برلن تک گرا دی …مگر ہماری قومی ناؤ فرقہ وارانہ چھیدوں نے قومی سلامتی منافرت کے سیلاب میں بہا دی۔ جاپانی قوم کے حوصلے اور قوت ارادی نے انہیں ایک بار پھر سے دنیا کی عظیم ترقی یافتہ قوموں میں سر فہرست لا کھڑا کیا ….. مگر جہالت اور ضمیر فروشی نے ہمیں آسمان کی بلندیوں سے ذلت کی گہرائیوں میں لا پٹخا …کہ آج ہم آزادی کا نارا تو لگاتے ہیں مگر آزادی کا حقیقی مفہوم کیا ہے یہ بھول گئے.. آج تک ہم جس نام و نہاد آزادی کی مالا جپتے چلے آرہے ہیں وہ تو ہمیں کبھی نصیب ہی نہ ہوئی تھی آج ہم بحیثیت قوم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں چاروں طرف سینکڑوں بحران جبڑے کھولے ہماری ذرا سی لغزش کے منتظر ہیں۔ ایک طرف ہمارا سب سے بڑا بحران نظریاتی یکجہتی،فکری وحدت اور اتحاد و اتفاق سے محروم ہے تو دوسری طرف امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا بحران ہے، ایک طرف ہمارا حال ہے جو روز بروز لا قانونیت کی دلدل میں دھنسا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہمارا مستقبل وہ نوجوان نسل ہے جسے علم کو اپنا آلہ کار بنانا ہے،مگر وہ خود سہل پسندی ، خود پسندی اور وقت کے زیاں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ جن کے ہاتھوں کوکل قوم کے مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ان میں آج کتابیں نہیں بلکہ قوم کی تباہی کے سامان ہیں۔ دماغ علم کی روشنی سے منور نہیں بلکہ اسلحہ اور ہتھیاروں سے لیس ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ طبقاتی تفریق، استحصالی نظام، ہنر کی نا قدری، تعلیمی ڈھانچے کا کھوکھلا پن، اختیارات کا نا جائز استعمال اور اخلاقی اقدار کا فقدان جیسی خوفناک آندھیاں ہیں جن سے ہمارا حال بری طرح لرز رہا ہے۔

جمہوری روایات کے فقدان کا المیہ جس نے ماضی تباہ حال سے بے حال اور اب مستقبل کو رسوا کرنے کا بیڑہ اپنی قوم کو ہر پل گرتی معیشت کے ساتھ ہاتھوں میں کشکول کا تحفہ دے کر ایک شان سے اٹھا رکھا ہے۔ غریب کا چولہا بجھ گیا ہے تو اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ 60 فیصد ہم وطن پہلے ہی خط غربت تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے تو رہی سہی کسر حکومتی پالیسیوں، بڑھتی مہنگائی، دھرنوں، احتجاجوں، مذہبی منافرت نے پوری کر دی۔ پینے کے صاف پانی سے محروم اور بجلی، گیس ، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں آسمان تک جا چکی ہے۔ نظام صحت کے اخراجات ناقابل برداشت اور ایک عام انسان کے بس سے باہر ہیں۔

سوچا جاۓ تو ابابیلوں کے لشکر ہم جیسی بے ایمان، بے یقین اور بے حس قوموں کی طرف نہیں اترا کرتے۔ ہم ایک ضمیر فروش وطن فروش اور ایمان فروش قوم ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جن کے مولوی حلوے کی چند پلیٹوں کی خاطر تو کافر میں مومن اور مسلمان میں مرتد کا ورد کرتے ہیں اور ہم اس پر آمین کرتے چلے آ رہے ہیں …ہم خود وہ غربت کی ماری قوم ہیں جو یوں تو جمہوریت کا رونا روتے ہیں مگر چودھری وڈیرے اور جاگیردارانہ نظام کے تناور درخت کو اپنے لہو سے سینچتے چلے آ رہے ہیں. … ہم وہ غیرت مند قوم ہیں جوـ’’امریکی کتے ہائے ہائے‘‘ کے نعرے تو بہت غیرتمندی سے لگاتے ہیں مگر جب بھی مصیبت پڑے کشکول تھامے بے غیرتی سے اسی کی طرف دوڑتے ہیں …۔ ہم وہ بے ضمیر قوم ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے مسلمان بھائیوں کا لہوتک بیچتے ہیں.آؤ اور صرف ہمیں مسلمانیت کا سرٹیفکیٹ دے دو اور ہم اپنی سر زمین پاک پر کافروں کے لہو کی ندیاں بہا کر تمہاری خواہشوں کی تکمیل کرتے ہیں …۔ یہ ہے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان،جہاں عدالتوں میں انصاف، درسگاہوں میں ڈگریاں، اسمبلیوں میں ضمیر، اسپتالوں میں جعلی دوائیاں اور مسجدوں میں ایمان، کوٹھوں میں جسم، بازاروں میں حیا، گھروں میں رشتے، دفتروں میں عہدے تک بکتے ہیں۔ جہاں کلمہ پڑھنے، سلام کرنے اور بسم اللہ کہنے پرتو ایک غیر مسلم کو پھانسی پر بھی چڑھایا جا سکتا ہے مگر مزار قائد پر دختر ملت کی آبرو ریزی کرنے والے کو کٹہرے تک نہیں لایا جا سکتا۔ جہاں پر میرا جسم میری مرضی کرنے والو کو تو سپورٹ کیا جاتا ہے مگر سر پر دوپٹتا اوڑھ کر اسکول جانے والی بچی کو گیٹ سے اندر نہی جانے دیا جاتا، جہاں پر گستاخ رسول کو تو عزت فراہم کی جاتی ہے مگر اسی رسول کے نام پر بننے والے ملک میں رسول کے نام لینے والو پر زندگی بھی تنگ کر دی جاتی ہے، جہاں علم سکھایا نہی بلکہ بیچا جاتا ہے، جہاں معصوم پانی کی بوند بوند کو ترس ترس کر مر جاتے ہیں مگر گھروں بازاروں گلی کوچوں میں پانی سمندر کی ماند بہایا جاتا ہے. جہاں استاد کو ہتھکڑی اور مجرم کو پروٹوکول دیا جاتا ہے، مگر مجال ہے جو اس قوم کے سر پر جوں تک بھی رینگتی ہو..

مزید تکلیف دہ امر یہ کہ اگر مسجدوں سے نفرت کی منادی کی جارہی ہے تو کرنے دو ہم گھروں میں بیٹھے اسلام کے نام کی مالا جپتے رہیں گے، اگر تعلیمی اداروں سے پڑھے لکھے جاہل بن کر نکلتے ہیں تو نکلنے دو ہم صبح شام بیروزگاری کا رونا روتے راہیں گے۔اگر ماؤں بہنوں کی عصمتیں نیلام ہوتی ہیں تو ہونے دو ہم جوش و خروش سے مدر ڈے منا لیا کریں گے ، اگر حکمران ملکی خزانہ لوٹتے ہیں تو لوٹنے دو، ہم بسنت کی چڑھتی پتنگیں لوٹتے رہیں گے ….اگر ہم وطنوں کی تمناؤں کے پھول مرجھاتے ہیں تو مرجھانے دو ہم ویلن ٹائن ڈے دھوم سے منا لیا کریں گے …اگر غریب کا چولہا بجھتا ہے، فاقوں سے بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بلبلاتے ہیں، صاف پانی نہ پینے سے ہزاروں امواتیں ہوتی ہیں،بے روزگاری کے ستائے مینار پاکستان سے چھلانگیں لگا کر جان دینے والوں کی آرزوئیں لٹتی ہوں یا پھر مزار قائد پر قوم کی بیٹیوں کی عصمتیں …ہمیں سوچنے کی بھلا کیا ضرورت ہے ہمارے لئے تو اتنا ہی بہت ہے کہ کے ہمارا پیٹ تو بھرا ہوا ہے. اگر بوڑھا پروفیسر پنشن نہ ملنے پر خودکشی کرتا ہے تو کرنے دو ہم تعلیمی سیمینار کروا کر قوم کی تشکیل سر انجام دے دیں گے. اگر ماں بھوکے بچوں کی بھوک سے تنگ آ کر جھول گئ تو کیا ہوا ہم ماں تجھے سلام کا نارا لگا کر حق ادا کر دیں گے. اگر نبی کی ناموس پر حملہ ہوا تو زیادہ نہی تو ہم میلاد منا کر عاشقی کا ثبوت دے دیں گے. اگر دن بھر سردی گرمی میں سفید داڑھی والا بھوڑھا شام کو اپنے بچوں کے لیے روٹی نہ لے جا سکا تو کیا ہوا دن کا دھرنا بھی تو اسی کے لیے نکالا گیا تھا نآ. اگر عافیہ صدیقی جیل میں ہے تو کیا ہوا آسیہ تو اپنے گھر میں ہے. اگر ہسپتالوں میں غریب سسک رہا ہے، اگر غریب کی بیٹی باپ کے گھر میں اپنے سر کی سفیدی دیکھ رہی ہے تو کیا، اگر بھوکا ننگا وجود سڑکوں پر گھسٹ رہا ہے تو کیا ہم نے مسجدیں بھی تو عالی شان بنائی ہیں اگرچے نمازی نہ سہی .

سوچتا ہوں کب تک خون بہے گا اپنے اس گلستان میں؟ …کب تک وقت کی آندھیاں ہماری شاخیں قلم کرتی رہیں گی؟..کب تک ہم اپنے ہاتھ اپنے ہی ہم وطنو کے لہو سے رنگتے رہیں گے؟…کب تک ہم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی اس نام و نہاد آزادی کا جشن دھوم دھام سے مناتے رہیں گے؟ … کب تک اس 72سالہ بوسیدہ آزادی کے تصور کو لئے خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟ کب تک عدالتوں میں انصاف بکتا رہے گا؟ کب تک ہم اپنے قومی اداروں کو ناکارہ کرنے پر جتے رہیں گے؟ کب تک ہم اپنے محافظ جوانوں پر الزام تراشیاں کرتے رہیں گے؟ کب تک ماں بھن بیٹی اپنی ناموس کا رونا روتی رہے گی؟ کب تک مائیں اپنے جگر گوشوں کو اپنے ہاتھوں گہری نیند سلاتی ریہں گی؟ کب تک مذہب کے نام پر دوکانیں سجی رہیں گی؟ کب تک تعلیم کے نام پر ہماری نسل کی عزتوں کا جنازہ نکلتا رہے گا؟ کب تک مائیں ذلیل ہوں گی؟ کب صبح کا گیا بھی شام کو لوٹ سکے گا؟ کب تک ہم ایک دوسرے کےگریبان تک ہاتھ لمبا رکھیں گے؟ کب تک ہم نام نہاد مسلمانی کا ڈرامہ کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم کفن بنتے قبریں کھودتے رہیں گے؟ کب تک ہم کشکول لیے خیرات مانگتے رہیں گے؟ کب تک ہم اس پاک دھرتی کو لوٹتے رہیں گے؟ کب ختم ہو گی ہماری منافع خوری؟ کب ختم ہو گی ہماری گھٹیا سیاست؟ …احساس کی کونپلیں اب بھی نہ پھوٹیں تو پھر کب پھوٹیں گی؟ ہمارا سویا ہوا ضمیر اب بھی نہ جاگا تو پھر کب جاگے گا؟ آخر کب تک ہم اپنی ناکامیوں پر آزادی کے جشن کا پردہ ڈال کر ناچتے رہیں گے؟… آخرہم کب سدھریں گے؟ ایک نہ ایک دن تو ہمیں بھی وقت کے کٹہرے اور ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو کر اس سوال کا جواب دینا ہی ہو گا کہ" ہم سدھر کیوں نہ سکے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Adil Khan Tanoli

Read More Articles by Muhammad Adil Khan Tanoli: 8 Articles with 3603 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2018 Views: 493

Comments

آپ کی رائے