باپ سب کرتا ہے مگر۔۔؟

(Samreen Zahid, )

 اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے تمام معاملات اﷲ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھے ہیں۔ ایک نومولود بچہ دنیا میں آتا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اچھا کیریئر بنانے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بیٹے سے شوہر اور پھر شوہر سے باپ بن جاتا ہے۔

باپ بننے کے بعد وہ اپنی ذات کو بھول کر اپنی اولاد کی تعلیم اور اچھے مستقبل کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔ اپنی ہزاروں خواہشوں کو اپنے سینے میں دفن کر لیتا اور اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پس پشت ڈال کر اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے سیونگ کرتا ہے۔ کبھی کوئی پلاٹ خرید کر، کبھی کسی بینک میں رقم جمع کراکر اور کبھی بینک لاکر میں سونے کی صورت میں وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اپنی اولاد کے لئے رکھتا رہتا ہے۔لیکن ہم انسان ہیں اور ہمیں اپنی زندگی اور موت کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

ہماری کتنی سانسیں باقی ہیں، یہ سوائے ہمارے خالق کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم بس جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جن کے لئے جمع کر رہے ہیں ان تک پہنچے گا کیسے؟اس کے لے ہم کچھ نہیں کرتے۔ہم سوچتے ہیں کہ جمع کرنا ہی اصل مقصد ہے، باقی پہنچ تو خود بخود ہی جائے گا کیونکہ ہمارا سب کچھ ہمارے بچوں کا ہی تو ہے۔لیکن افسوس اچانک ہماری اجل کا وقت آن پہنچتا ہے اور موت ہمیں کچھ بھی بتانے کا موقع نہیں دیتی۔جیس اولاد کے لے ہم اپنی ساری زندگی محنت کر تے ہیں اس اولاد کو کچھ بھی پتا نہیں ہوتا۔بینک بھرے پڑے ہیں اور ہماری اولاد اور ہمارے قریبی رشتہ دار دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔اپنا اے ٹی ایم کورڈ، بینک اکاؤنٹ اور اپنی جائیداد اور سیونگ کی تمام تر تفصیلات اپنی ایک ڈائری پر ضرور لکھ کر رکھیں اور اپنے کسی ایک خاص اور باعتماد دوست کو بھی اس بارے میں آگاہ رکھیں جو بوقت ضرورت آپ کے اپنوں تک آپ کا سرمایہ پہنچا سکے۔ بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو بتائیں۔موت بر حق ہے۔اگر خدانخواستہ آپ کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو آپ کے پیچھے رہ جانے والے آپ کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم نہ ہو جائیں۔

ایسے بہت سے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں کے باپ ساری زندگی کماتا رہا اور اس کے جانے کے بعد پتا چلا کے اس کے قریبی رشتہ دار چند پیسوں کے لے ہاتھ پھیلا رہے ہیں کیونکہ ان کو اے ٹی ایم کوڈ لاکر کا کوڈ، کسی کو ادھار واپس کرنا یا کسی سے ادھار لینا وغیرہ جیسے معاملات کا پتا تک نہیں ہوتا۔ایک بینک کے کیشیئر سے ہم نے پوچھا کہ کیا بینک ملازمین بھی کوئی کرپشن کرتے ہیں۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا، بہت زیادہ۔ ہم نے پوچھا وہ کیسے۔ اس نے بتایا کہ بینکوں میں سینکڑوں اکاؤنٹس ایسے ہوتے جو خود اس دنیا سے چلے گئے ہوتے اور ان کے وارثوں کو اس اکاؤنٹ کا پتا نہیں ہوتا تو ہم بینک عملہ مل کر اس میں سے پیسے نکال لیتے ہیں۔

ہم اگر اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہوں تو ایسے بہت سے معاملات سے بچ سکتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کسی سے لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور گواہ بھی بنا لیا کرو۔ ہم ہیں کہ معاہدوں کو لکھنے کو اپنی بے عزتی اور بد اعتمادی سمجھتے ہیں۔ اور ہم اسے عام سی بات سمجھتے ہیں۔

اس ضمن میں میری تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اپنی ضروری باتیں کسی ڈائری پر لکھیں اور اپنے کسی بااعتماد دوست یا بہن بھائی کو ضرور بتا دیں، تاکہ آپ کے اپنے، آپ کے بعد کم از کم بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ رہیں!!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Samreen Zahid

Read More Articles by Samreen Zahid: 10 Articles with 4433 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2018 Views: 465

Comments

آپ کی رائے