مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔

(Asmara chaudhry, )

کسی بھی ملک کی ترقی کا درومدار اس ملک کے نوجوان طبقہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان طبقہ اپنے لئے درست سمت کا اختیار نہ کرے تو اُس قوم کی تباہی یقینی ہے۔ جو قوتِ تخلیق نوجوان نسل میں موجود ہوتی ہے وہ انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ کچھ بھی مثبت یا منفی کرسکیں جس کا اثر پورے معاشرے پر پڑسکتا ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کی کاوشیں معاشرے کو ترقی و کامیابی کی جانب گامزن کر سکتی ہیں اور دوسری جانب ان کی منفی سوچ اسی معاشرے کو ایسی دلدل میں دھکیل سکتی ہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں کو بھی بگھتناپڑسکتا ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اپنی نوجوان نسل کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے کوشاں رہتی ہیں اور ان کی وہی صلاحیتیں ملک و قوم کی نیک نامی اور سربلندی باعث بنتی ہیں۔جب کہ ترقی پذیر ممالک اپنے ہی مسائل میں اس قدر پھنسی ہوئی ہوتی ہیں کہ اپنی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو ابھارنے کے بجائے، جو ا ن کے مسائل کا اصل حل ہوتے ہیں اسی نوجوان کو پسے ِپشت ڈال دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ قومیں مزید تنزلی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد تعلیی قابلیت ہونے کے باوجود بیروزگاری نظر آتی ہے اور حصولِ روزگار کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے نوکری کے حصول کے لئے تعلیم سے زیادہ روابط کا ہونا زیادہ ضروری ہے اور وہی نوجوان باعزت روزگار نہ ہونے کے سبب مجبورـ ہوکر جرم کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی معیشت اور معاشرے دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان جب اپنی مشکالات سے بھری زندگی کے سولہ سال اپنے تمام وسائل کو بروکار لاتے ہوئے اس اُمید سے پڑھتا ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد کسی باوقار شعبے کا حصّہ بنے گا۔ پر جب وہ عملی میدان میں قدم رکھتا ہے تو اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ اس نے سوچا تھا وہ سب نہ آسان ہے اور نہ ہی اس کی دسترس میں ہے اور اس طرح اس کے ارمانوں کا تاج محل اس کی نظروں کے سامنے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔

فلاحی ریاست کا تصور بنیادی طور پر اسلام سے ہی آیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے میں فلاحی ریاست کہہ سکوں کسی بھی فلاحی ریاست میں بنیادی حقوق بے حد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اور ملک میں موجود ہر شخص کی بنیادی وسائل تک رسائی ہر شخص کی جان، مال و عزت کو تحافظ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
( آصفہ اکرم، وفاقی اردو یونیورسٹی )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asmara chaudhry

Read More Articles by Asmara chaudhry: 3 Articles with 1034 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 204

Comments

آپ کی رائے