محبت فاتح عالم

(Farhat Parveen, )

ہر انسان کی ضروریات اس دنیا میں دوسرے انسان سے وابستہ ہیں ۔ کھانے پینے سے لیکر لباس تک ہماری استعمال کی ہر بنیادی چیز بے شمار انسانی ہاتھوں سے گھوم کر ہم تک پہنچتی ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے منہ میں پہنچنے والا ایک روٹی کا لقمہ ہی کئی انسانوں کا مرہون منت ہوتا ہے ۔ ایک طرف کارخانے میں ٹریکٹر کے آلات تیار ہورہے ہوتے ہیں دوسری جانب زمین سے پٹرول نکال کر صاف کیا جاتا ہے اور یہ دونوں چیزیں الگ الگ ممالک سے سفر کرتی سوداگروں کے ہاتھ میں بکتی ہوئی ایک کسان تک پہنچتی ہیں پھر وہ کسان اس ٹریکٹر سے زمین میں ہل چلا کر اسے نرم کرتا ہے ۔

بازار سے بیج خرید کر اس میں بویا جاتا ہے ۔ زمین کو پانی پہنچانے کے لیے ایک نہری سسٹم الگ سے کام کرتا ہے پھر جب فصل اگتی ہے تو ایک طرف جراثیم کش دیوائیاں جو مختلف ممالک سے تیار ہوکر آئی ہوتی ہیں وہ چھڑکی جاتی ہیں دوسری جانب جانوروں اور پرندوں سے بچانے کے لیے فصل پر پہرہ لگایا جاتا ہے پھر خدا خدا کر کے کہیں فصل تیار ہوتی پھر اس کی کٹائی کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے فصل کی کٹائی کے بعد گندم کو الگ کرنے کے لیے جدید مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے پھر یہ گندم مارکیٹ میں آتی ہے پھر ملز میں چلی جاتی ہے پھر وہاں سے اس کا آٹا بنتا ہے وہ ایک مرتبہ پھر بازار میں آتا ہے پھر انسان بہت مشقت و محبت سے کمائے پیسوں سے یہ آٹا خرید کر گھر لاتا ہے پھر گوندھ کر پکاکر کھاتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق گندم کا یہ ایک نوالہ ہمارے منہ میں پہنچتا ہے ۔

یہ ایک سو بیس مراحل سے گذر کر پہنچتا ہے ۔ اسی سے اندازہ لگائیں ایک انسان دوسرے انسان کا کس قدر محتاج ہے ۔ اگر کوئی انسان یہ فیصلہ کرے کہ میں بالکل تنہا رہوں گا تو اس کی ایک ہی صورت کہ کسی جنگل میں نکل جائے اور دنیا سے ہٹ کٹ کر اپنا اگائے اپنا کھائے اپنا بنائے اپنا پہنے۔ ذرا سوچیں کیا ایسا ممکن ہے اور اگر ہوجائے تو وہ زندگی کیسی ہوگی۔ اس لیے جب ایک دوسرے مل کر رہنا انسان کی مجبوری ہے تو اب انسان کے پاس دو راستے ہیں یا تو انسان اس میل میلاپ کو دلکش بنالے اور زندگی انجوائے کرے یا پھر دل ہی دل میں کڑھتا رہے اور من ہی من میں گالیاں دیتا لوگوں سے تعلقات نبھاتا رہے ۔

ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں آپ کو اپنے آس پاس دونوں ہی قسم کے نوجوان نظر آئیں گے ۔ آپ ذرا دیر کے لیے آنکھیں بند کیجیے اور آج تک جن لوگوں کے ساتھ آپ نے وقت گزارا ان کو یاد کیجیے آپ کے عزیز رشتہ دار آپ کے دوست احباب سب کا چہرہ ذرا دیر کو تصور میں لائیے آپ محسوس کریں گے کچھ لوگوں کی یاد آپ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دے گی اور آپ اس کے ساتھ بیتا وقت یاد کرنا شرو ع کردیں گے ۔

کچھ لوگوں کو آپ یادوں میں بھی اگنور کر کے گذر جائیں گے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اچھا چلیں اب آپ حقیقی زندگی میں لوٹ آئیں دن رات میں جن جن حضرات سے آپ کی ملاقات ہوتی ہے ذرا ان پر غور کریں ۔ ان میں بھی دو قسم کے لوگ ہی آپ کو ملیں گے کچھ وہ جن سے بات کرنا ملنا آپ کو اچھا لگے گا وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ خوش ہوں گے اگر وہ نہ آئیں تو آپ خود ان سے ملنے کی کوشش کریں گے جبکہ کچھ افراد ایسے بھی ہوں گے جن سے آپ کنی کترا کر نکلنے کی کوشش کریں گے کسی کا فون آئے تو آپ گھنٹوں بات کریں گے اور کسی کا فون آپ اٹھانے کے بجائے سائڈ پر رکھ دیں گے ایسا کس لیے ؟یاد رکھیں دنیا میں کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا نہ ہی ہر انسان کی ہر عادت اچھی ہوتی ہے انسان خوبیوں اور خامیوں کے مجموعے کا نام ہے ۔

دنیا میں کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی خامیوں پر کنڑول کر کے اپنی خوبیوں کو فروغ دیتے ہیں ۔ خاص طور پر انسان کی وہ عادات جن کا تعلق میل میلاپ سے ہوتا ہے ۔ یہ عادات جاننا کوئی مشکل نہیں ہے ۔اگر آپ ہر دل عزیز بننا چاہتے ہیں تو بہت آسان ہے اپنے اردگرد رہنے والے انسانوں کی فہرست بنائیے دیکھیے اگر آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں تو کس وجہ سے اگر وہی وجہ آپ میں ہے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں اور اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی اسوجہ کو تلاش کیجیے بہت جلد آپ اپنے حلقہ احباب میں ہر دل عزیز بن جائیں گے ۔ اور بلا شبہ ایسا شخص ہی زندگی کا حقیقی لطف حاصل کرسکتا ہے ۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کر رہے تو یقین مانیں آپ زندگی نہیں گزار رہے زندگی آپ کو گزار رہی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farhat Parveen

Read More Articles by Farhat Parveen: 5 Articles with 2057 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Dec, 2018 Views: 352

Comments

آپ کی رائے