کراچی کہ شاہراہوں پر مہنگی گاڑیوں میں بیٹھے مہذب افراد
ہوں یا کسی رکشہ ٹیکسی کے ڈرائیور اس سے بالکل ناواقف دکھائی دیتے ہیں۔یہاں
کی سڑکوں پر پیش آنے والے حادثوں کی پرورش وقت نے کی ہو یا نہیں ، مگر کچھ
اداروں نے ان ڈرائیوروں کی پرورش ضرور کی ہے جو لائسنس کے بغیر ہی گاڑی
خرید کر سڑکوں پر چلے آتے ہیں اور معصوم شہریوں کی جان کو کوئی اہمیت نہیں
دیتے ۔
ایک اندازے کے مطابق 2015کے دوران کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی لاکھوں
رجسٹرڈ گاڑیوں کے لیے آدھی تعداد میں بھی لائسنس جاری نہیں ہوئے تھے۔2017کے
دوسرے مہینے میں سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن مکیش کمار چاولہ نے
بتایا تھا کہ کراچی میں رجسٹرڈ پرائیویٹ گاڑیوں کی تعداد 12لاکھ42ہزار
231ہے۔ یاد رہے کہ 2013میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے یہ بات سامنے آئی
تھی کہ 1980سے لے کر اب تک 4972 غیر رجسٹرڈگاڑیوں کو پولیس افسران اور
ماتحت عملہ جعلی نمبر پلیٹ لگا کر چلا رہا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر چلنے والی
زیادہ تر منی بسوں کے ڈرائیوروں کے پاس بھی نہ تو لائسنس موجود ہوتا ہے اور
نہ ہی وہ مسافروں کو مخاطب کرنے کے آداب سے واقف ہوتے ہیں۔ ان ہی
کراچی کی سڑکوں پر چنگ چی رکشہ کے ڈرائیور بھی مختلف حادثات کا سب سے بڑا
سبب کہے جا سکتے ہیں جن میں زیادہ تر کی عمر پندرہ اور بارہ سال سے زیادہ
نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ٹریفک کے بنیادی قوانین سے واقف ہوتے ہیں۔ ماضی میں
بھی کراچی کی سڑکوں پر حادثات پیش آتے تھے، مگر اُن حادثات کی وجوہات
موجودہ حادثات سے بالکل مختلف تھیں۔ موجودہ دور میں سڑک پر پیش آنے والے
حادثات کی سب سے بڑی وجہ یہاں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کوہی قرار دیا جا سکتا
ہے جن میں نہ صرف چھوٹی سڑکیں بلکہ وہ بڑی شاہراہیں بھی شامل ہیں جو اس کی
خوب صورتی میں اضافہ کرتی تھیں۔ان شاہراہوں میں شاہراہ فیصل، ایم اے جناح
روڈ اور یونیورسٹی روڈ کے علاوہ حب ریور روڈ سر فہرست ہیں جن کے ذریعے
کراچی سے دوسرے شہروں کو نہ صرف بھاری سامان کی ترسیل جاری رہتی ہے ،بلکہ
روزانہ ہزاروں مسافر اندرون سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے راستے خیبر
پختونخوا کا سفر کرتے ہیں،لیکن ان چاروں شاہراہوں کی جو حالت ہے اسے کسی
بھی صورت اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا۔
پچھلے چند برسوں سے شہر کے مختلف علاقوں شیر شاہ، لیاری، سعید آباد،
ملیر،کیماڑی،لانڈھی،کورنگی، منگھو پیر،اورنگی ٹاؤن، گلشن اقبال ، گلستان
جوہر، بھٹائی آباد ، سچل گوٹھ ،محمود آباد، اختر کالونی اور اس طرح کی
دوسری کچی پکی آبادیوں کے اندرونی راستے بھی اس قابل نہیں کہ ان پر کوئی
چھوٹی گاڑی رکشہ یا ٹیکسی آسانی سے رواں دواں رہ سکے۔شہر میں بھاری گاڑیوں
کے داخلے کا وقت مقرر ہوتا ہے، مگر کراچی کی سڑکوں پر سامان سے لدے ٹریلر
اور ٹوٹے پھوٹے واٹر ٹینکر اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس طرح شہریوں کی جان
سے کھیلتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔کراچی کی سڑکیں سی پیک منصوبے
سے جڑی ہوں یا سندھ حکومت ان کی بہتری کے لیے کوشاں ہو جب تک اس سے جڑی
ٹریفک کی تمام مشکلات پر قابو نہیں پایا جاتا ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ نہ
تو ہم کاروباری طور پر قدم سے قدم ملا کر چل سکتے ہیں اور نہ ہی مہذب دنیا
سے اپنا رشتہ استور کر سکتے ہیں۔ |