ہمارا نظام تعلیم

(Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram, Karachi)

دنیا بھر میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آج ہونے والی حیرت انگیز ایجادات کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔انسان کا چاند اور سیاروں پر جانا صرف تعلیم ہی کی بدولت ممکن ہوا۔تاریخ سے باخوبی علم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام روز ِاوّل سے لے کر آج تک دنیا میں علم کی شمع جلا رہا ہے،اور قیامت تک علم کی اس مشعل کو لے کر آگے بڑھتا رہے گا۔دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے سب نے اللہ رب العزت کے احکامات کو لوگوں تک پہنچایا ،اور توحید و تقوی کی تعلیم دی۔اللہ کے آخری نبیﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ کچھ یوں ہے:

’’آپ پڑھیں اللہ کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا‘‘

آپﷺ نے اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچایا اور دین اسلام کو مکمل کیا۔ آپﷺ نے دنیا کو جہالت و گمرائی کے اندھیرے سے نکالا اور علم کے نور سے مالا مال کردیا ۔دنیا کو اخلاق و ایمان کی تعلیمات دیں۔

پاکستان کو وجود میں آئےہوئے بہت بڑا عرصہ گزر گیا۔ اسی دوران ناجانے کتنی پالیسیاں بنیں مگر ہمارا تعلیم کا مسئلہ آج بھی وہی ہے۔ہمارےبعد میں آزاد ہونے والے ممالک تعلیمی میدان میں آج ہم سے بہت آگے ہیں۔ہیومن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی(Literacy rate) کے لحاظ سے دنیا میں136نمبر پر ہے۔پاکستان میں58فیصدلوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں جنہیں ہم خواندہ کہتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 67لاکھ بچے اسکول جانے کی عمر میں اسکول جا ہی نہیں پاتے۔ تقریبا59فیصد بچے ایسے ہیں جو اسکول جانے کے کچھ عرصہ بعد مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول جانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔یونیسکو کی ایجوکیشن فار آل گلوبل مانیٹرنگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں5.3ملین بچے اسکول ہی نہیں جا پاتے جو دنیا میں اسکول سے محروم بچوں کا9.2فیصدہیں۔ پاکستان میں تقریبا49ملین بالغ افراد پڑھنا لکھنا ہی نہیں جانتے جو دنیا میں ناخواندہ افراد کا6.3فیصدہیں۔یو این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پرائمری سطح کی تعلیم میں دنیا سے پچاس سے زائد سال اور سیکنڈری سطح کی تعلیم میں ساٹھ سے زائد سال دنیا سے پیچھے ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں بہت سی خرابیاں اور وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم آج دنیا سے پیچھے ہیں۔

غیر متوازن نظام تعلیم ،ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کا بڑا سبب ہے۔ہمارا تعلیمی نصاب ہو یا تعلیمی ڈھانچہ سب غیر متوازن ہیں۔ریاست ہمیشہ ملک کی عوام کو ایک جیسی تعلیم اور ایک جیسے تعلیمی مواقع دینے میں ناکام رہی ہے۔ہمارے ہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم جیسے مقدس شعبے میں مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں۔من چاہے تعلیمی نصاب اور من چاہے تعلیمی اخراجات عام عوام پر مسلط کئے جاتے ہیں۔غیر متوازن نظام تعلیم نے معاشرے کو الجھا کر رکھ دیا ہے اور تعلیم کے میدان میں بھی افراتفری کا سماں ہے۔ سرکاری ادارے اردو میڈیم ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر انگلش میڈیم ہیں۔اس غیر متوازن نظام تعلیم نے مڈل کلاس اور غرباء کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔جو کہ ہمارے نظام تعلیم کی بہتری میں حائل بڑی رکاوٹ ہے۔

علاقائی عدم مساوات، بھی تعلیمی بہتری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔فاٹا اور دوسرے علاقے جہاں پہلے ہی علاقائی اختلافات کے باعث تعلیمی میدان متاثر ہورہا ہے وہاں حکومت کا معیاری تعلیم کی فراہمی میں توجہ نہ دینا بھی نظام تعلیم کی بڑی ناکامی ہے۔ایسے علاقوں میں کالجز اور یونیورسٹیز بہت کم ہیں اور ان علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کے اسکول و کالجز کے معیار میں بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ان علاقوں کو برابری کی سطح پر تعلیمی ماحول و مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنے اس فرض سے بھی غافل دکھائی دیتی ہے۔

فنی تعلیم کا فقدان بھی ہمارے نظام تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔دنیا بھر میں ریاست اپنے نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے لئے انہیں فنی تعلیم مہیا کرتی ہے۔اسی وجہ سے فنی تربیتی ادارے قائم کئے جاتے ہیں کالجز بنائے جاتے ہیں۔تربیت یافتہ نوجوان خودمختار ہوکر نہ صرف فنی تعلیم اور معاشرے کی بہتری میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔پاکستان میں ایسے فنی تربیتی کالجز کا فقدان ہے۔جو کچھ کالجز ہیں وہاں مناسب تربیتی سہولیات موجود نہیں،مناسب لیبارٹریز اور آلات موجود نہیں ہیں۔

صنفی فرق(Gender Differences) ،یعنی مرد و عورت کی غیر برابری کا نظریہ بھی ہمارے نظام تعلیم کو بہتر ہونے سے روکتا ہے۔اس کا اندازہ پرائمری اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد سے ہوتا ہے جس کا تناسب 10:4ہے۔بہت سے والدین آج بھی لڑکیوں سے غیر امتیازی طور پر ان کے بہت سے بنیادی حقوق چھین لیتے ہیں یا فراہم ہی نہیں کرتے۔اسی بنا پر بہت سی قابل لڑکیاں اپنی قابلیت کو نکھارنے سے محروم ہو جاتی ہیں۔جو ہمارے ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

غیر تربیت یافتہ اساتذہ ،بھی ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔دنیا بھر میں تعلیم میں اول نمبر اور قابل ترین افراد کو معلم کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔مگر ہمارے ہاں تو نظام ہی الٹ ہے جسے کوئی نوکری نہ ملے وہ تعلیم و تربیت کے میدان میں اپنی قسمت آزمائی کرتا ہے اور اپنے جیسے بہت سے کم علم اور کم فہم طلباء کو پروان چڑھاتا ہے جو ہمارے نظام تعلیم کی خرابی اور معیار کی پستی کا باعث بنتے ہیں۔

غربت ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے ۔ملک کی بڑی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے ۔ایسے میں لوگوں کے لئے معیاری تعلیم کا حصول مشکل ہو جاتا ہے اور غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بجائے مکینکوں کے پاس مزدوری کے لئے چھوڑ آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے۔

آج ہمارے ہاں گریڈز اور نمبروں کی دوڑ میں والدین اور اساتذہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے 90فیصد نتائج تو دے رہے ہیں مگر حقیقت میں سیکھنے کے مرحلے میں انہوں نے 50فیصدبھی نہیں سیکھا۔جس کے باعث طلباء نمبروں کے لئے نقل یا رٹہ سسٹم کا سہارا لیتے ہیں۔اسی طرح ناقص امتحانی طریقے نے ہمیں ایسے رٹے لگوائے ہیں کہ ہمیں انگریزی میں ہر لفظ یاد تو ہے مگر اس کے مطلب کا پتہ نہیں۔

ایسے مزید بہت سے عناصر(Factors) ہیں جو ہمارے نظام تعلیم کی راہ میں حائل ہیں اور آج ہم تعلیمی میدان میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ریاست کو تعلیم جیسے اہم شعبے کی ترقی کے لئے خلوص نیت سے کام کرنا ہوگا ،تبھی جاکر ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی لسٹ میں شامل ہوگا اور ایک پرامن اور نمبر ون ملک بن کر ابھرے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 377 Print Article Print
About the Author: Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram

Read More Articles by Engr. Allama Muhammad Shoaib Ikram: 10 Articles with 2282 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: