سرزمین کشمیر کا ظہور

(Amir Jahangir, )

کشمیرکی تاریخ کے حوالے سے اغیار کی منتشر الخیال اور پریشان کن مبالغہ آراء تحریر پڑھنے کے بعد دل ہی دل میں حقیقت کے قریب جانے اور صحیح تاریخ کی تلاش کا اضطراب بڑھنے کے ساتھ کچھ اشتیاق بھی بڑھتاجاتا ہے۔ کہ اس گلستان کی رعنائیوں،قدرتی حسن، بل کھاتی ندیوں ، دریاؤں اور خوبصورت جھیلوں کے ناز و انداز کو ایک وقت میں حسد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ باغبان کی عدم توجہی اور عندلیبان سخن کی لاپرواہی کے باعث اس قدر و منزلت کو نئی نسل پر منتقل نہیں کیا جا سکا۔ اب ضروری ہے کہ دیدہ حسرت سے دو آنسو بہا کر کشمیر کے جاہ و جلال اور عظمت و رفعت کی جھلک دنیا کے سامنے رکھ دی جائے ۔

موجودہ دور میں اہل مغرب کے بلا تحقیق قیاس اظہار کو درست تسلیم کرتے ہوئے حقائق کو نظر انداز کرنا انصاف کا قتل عام ہے ۔ علم منطق اور علم تاریخ دو الگ علم ہیں ۔ علم منطق سے جھوٹے کو سچا ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن علم تاریخ کا فلسفہ مبالغہ آمیزی کو بھی مسترد کر دیتا ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اہل مشرق نے علم و آگہی کا زینہ اس وقت عبور کریں۔ جب اہل مغرب اس کی پہلی سیڑھی پر قدم جمائے ہوئے تھے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اہل مغرب کو ہمارے اسلاف کے حالات اہل مشرق کی نسبت زیادہ معلوم ہیں ۔ آج اہل مغرب اپنے زمانہ ترقی کو اس قدر شان و شوکت سے بیان کرتے ہیں ۔اور ایشیائی اقوام ؍ اہل مشرق خدانخواستہ آج نئی روشنی کا دور گرداب انقلاب کا حصہ ، موجودہ لٹریچر کے خاتمے کے ساتھ بنے تو وہ وحشی اقوام جو اس صدی میں دنیا کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں ، ترقی کے منازل طے کرنے کے کچھ عرصے بعد اس امر کی مدعی بن سکتی ہیں کہ دنیا کی ابتداء 1900ء سے ہی شروع ہوتی ہے گوکہ وہ اپنا دعویٰ صحیح ثابت کرنے کیلئے کافی وجوہات بیان کر سکتے ہیں لیکن اس دعویٰ کے برعکس قابل اعتبار شہادتیں ملنے کی صورت میں اصلاح کی گنجائش باقی رہ جائے گی ۔

وادی کشمیر ابتدائی دور سے ہی تاریخ ہند کی محتاج ہے ۔ محمد الدین فوق کے مطابق 3180ق م سے قبل کے کچھ حالات و واقعات ملتے ہیں لیکن ان واقعات کے آثار نمایاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ اسی وقت سے شروع ہوتا ہے جب خطہ کشمیر میں شخصی حکمرانی کی بنیاد ڈالی گئی ۔ اس سے قبل ہر گھر میں ایک بادشاہ ؍ حاکم موجود تھا ۔ خطہ کشمیر فلک پوش برفانی تودوں اور گھنے جنگلات کی سرزمین تھی اور جب برف کی شدت کچھ کم ہوئی تو پھر اس کے گردو نواح سے کچھ نوجوان سیر و تفریح کی غرض سے یہاں آئے ۔ اس کے بعد بھمبر ، راجوری، کاغان ، پکھلی ہزارہ سے کچھ چرواہے ؍ بکروال اپنے مال مویشی کے ہمراہ موسم گرما میں یہاں آئے اور سر سبز و شاداب چراگاہوں سے استفادہ کے بعد واپس لوٹ جاتے تھے ۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ جب لوگ تہذیب سے بالکل نا آشنا تھے اور وحشیانہ زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اپنا گزر بسر مال مویشی اور شکار پر کرتے تھے اور جنگی اسلحہ کے طور پر پتھر کی کلہاڑی اور ہتھیار استعمال کرتے تھے بعد میں تیر و ترکش کا بھی استعمال شروع کیا اور زراعت و غلہ بانی پر بھی انکسار کرنے لگے ، لیکن مستقل سکونت کے پابند نہ تھے۔ جہاں ہموار اور خوبصورت جگہ ملتی تھی وہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے اور کھیتی باڑی شروع کر دیتے تھے۔ تین چار سال تک کہ عرصہ تک وہی رہتے اور جب زمین ہی فصل پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی تو وہاں سے کسی دوسری جگہ نقل مکانی کر لیتے تھے ۔ اس دور میں قوم یا قبیلے کا سردار ان کا حاکم ہوتا تھا لوگوں کے درمیاں اختلاف اور باہمی جھگڑوں کے خاتمے اور حل کیلئے قبیلہ کا سردار پنچایت جمع کر کے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر فیصلہ کر تا تھا ۔

ایک مدت تک یہ دستور رہا ہے کہ خطہ کشمیر میں موسم گرما میں لوگ اپنے مال مویشی کو لے کر آتے اور موسم سرما میں واپس چلے جاتے تھے ۔ راج ترنگنی کے مطابق ایک دفعہ چرواہوں کے ایک گروہ نے واپسی پر چند را دیو نامی شخص کو ضعیف العمری کے باعث اپنی مرضی سے خوردونوش کی کچھ اشیاء دے کر واپس چلے گئے ۔ چندرا دیو ایک غار میں بیٹھ گیا برف باری کے باعث تمام راستے بند ہو گئے۔ تو دیو اور اجنہ جوق در جوق اس خطہ میں داخل ہو نے لگے اور وہاں پر خلاف معمول انسانی شکل کو دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور اس کا تمسخر اڑانے لگے ۔ایک دیو علاقہ مراج اور دوسرا کامراج میں کھڑا ہو گیا اور چندرا دیو کو ایک دوسرے کی طرف پھینک کر کھیلنے لگے ۔ اتفاق سے چندرا دیو چشمہ نیل ناگ کے کنارے جا گرا جہاں ایک دروازہ دیکھتے ہوئے کھول کر اندر چلا گیا ۔ ایک عالیشان شہر دیکھ کر خوش ہوا لیکن عجیب و غریب مخلوق کو دیکھ کر پھر پریشان ہو گیا اور دربار میں بیٹھے راجہ نیلہ ناگ کے قدموں میں گر تے ہوئے تمام داستان سنا دی ۔ راجہ نیل ناگ کو اس ضعیف العمر چندرا دیو پر رحم آیا اور اس کو ’’نیلہ مت پوران ‘‘ کتاب دیتے ہوئے کہا کہ اس کو پاس رکھو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ اس کے بعد چندرادیو صحیح سالم اپنے غار میں لوٹ گیا اگلے سال جب اس کے لواحقین دوبارہ کشمیر آئے تو چندرا دیوا کو تندرست پا کر حیران ہوئے ۔ چندرا دیو نے راجہ نیل ناگ کی سعی کے حوالے سے بتایا تو چندرا دیو کی قوم اور اس کے سردار دریا دیو نے’’ نیلہ مت پوران‘‘ کو اپنی مذہبی کتاب قرار دیا اور کشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ ان لوگوں کے طرز معاشرت کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ملی صرف یہ پتہ چل سکتا ہے۔ کہ دریا دیو نے پہلے پہل کشمیر میں آبادی قائم کی ۔ کشمیر کا پہلا آباد کار چندرا دیو تھااور اس قوم کا سردار دریا دیو تھا اس کے بعد محمد دین فوق کے مطابق دسنہ نندن ، سورج ورما ، وشونگش اور پرتاب بھالو مشہور سردار گزرے ہیں جو اس وقت کی آبادی پر حکمرانی کرتے تھے ۔

اسی دوران راجہ رام چندر جی نے خطہ کشمیر کو فتح کرتے ہوئے اپنے مقبوضات میں شامل کیا راجہ رام چندر خود بھی کئی مرتبہ سیتا ، لچھمن اور ہنو مان کے ہمراہ کشمیر میں آیا۔ موضع می لیال کے علاقے ہری تحصیل اوتر لچھی پورہ میں رام چندر جی کا تخت اور رام کنڈ سیا کنڈ ، لچھمن کنڈ اور ہنومان کنڈ جیسے کئی مقامات ان کی نشست گاہوں کی یادگاریں ہیں ۔ جو اس زمانہ کی عظمت و رفعت کو بیان کرتی ہے ۔ آخر کار 3880ق م کو طوفان نوح نازل ہوا جس کے باعث تمام ملک میں پانی پانی ہو گیا ۔ بارہ مولا کے قریب ایک پہاڑ گرا اور مخرج آب بند ہوا جس کے نتیجے میں تمام آبادی غرق ہو گئی اور کشمیر نے ایک تالاب ؍ جھیل کی صورت اختیارکر لی ۔ جس طرح بری حالت میں یہ گل زمین رشک چمن تھی ویسے ہی بحری حالت میں کبھی یگانہ دہر ہوئی۔ اکثر رشی اور مہاتما اس کے کناروں پر آ کر عبادت کرتے تھے۔، جب ’ستی مہادیو‘ کا گزر یہاں سے ہوا تو ان کی یہ جگہ بہت پسند آئی ۔اس خطہ کی دلفریبی اور حسن رعنائی سے متاثر ہو کر ستی مہادیو نے اس کو سیر و تفریح کے لیے چنا جس کی وجہ سے اس جھیل کو ’’ستی سر‘‘ کا نام دیا گیا۔وقت کی ٖضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ اس جھیل کر سیر و تفریح کے لیے آتے رہے ہیں۔سیر و تفریح سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں پر کشتیاں بھی چلاہی جانے لگی۔ان کشتیوں کو باندھنے کے لیے جھیل ستی سر کے کنارے موجود پتھروں میں سوراخ کیے گئے جن کے آثار آج بھی پائے جاتے ہیں۔جھیل ستی سر سے پانی کا اخراج ہوا اور یہ خطہ کشمیر معرض وجود میں آیا ۔اس حوالے سے مورخین کی آراء مختلف ہیں۔

’’نیلہ مت پوران‘‘کے مطابق وادی کشمیر کو’’ جھیل ستی سر‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔محمد الدین فوق کے مطابق کشمیر کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔کہ شاستری زبان میں’’کم‘‘پانی اور’’شمیر‘‘نکالنے کو کہا جاتا ہے۔چونکہ جھیل ستی سر سے پانی کا اخراج ہوا اس وجہ سے اس کو ’’کم شیر‘‘ کا نام دیا گیا جو بعد میں کشمیر ہو گیا۔

پنڈت کلہن نے راج ترنگنی میں کشمیر کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی ہے کہ جھیل ستی سرمیں سے پانی کے اخراج کے بعد اس خطہ کا پہلا حکمران’’کشپ‘‘ تھا ۔کشپ کی وجہ سے اس کو ’’کشپ مر‘‘ کہا جانے لگا۔اور بعد میں کثرت استعمال کی وجہ سے یہ کشمیرہو گیا۔Greeksنے اس خطہ کشمیر کو Kasperiaبھی کہا ہے۔

اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ بنو اسرائیل کے کچھ قبائل وسط ایشیاء سے افغانستان اور گلگت سے ہوتے ہوئے کشمیر میں آکر آباد ہوئے۔کشمیر کی خونصورتی سے بے حد متاثر ہوئے اور کہا کہ یہ علاقہ شام جیسا ہے۔شام سے مماثلت کے باعث اس کو ’’کا اسیر ‘‘ کہنے لگے۔’’کا‘‘ کا مطلب جیسا اور’’اسیر‘‘ کا مطلب شام یعنی وہ علاقہ جو شام کی طرح کا ہے۔A land look like syria" " ۔

Charles Elison Batesنے اپنی کتابA Gazetter of Kashmirمیں لکھا ہے کہ لفظ"Kashmir"دو الفاظ"Kas"اور"Mir" کا مرکب ہے۔"Kas"کا مطلب "Light"اور میر کا مطلب"Ocean"ہے یعنیLight of ocean.علم و آگہی کی روشنی کا سمندر۔

G.M.D.Sufiکے مطابق جھیل ستی سر سے پانی کے اخراج کے بعد اس کو Kasamiraدکھا گیا۔یہ لفظ دو الفاظ کا "Ka"اور "Samira"کا مرکب ہے ۔"Ka"کا مطلب پانی اور "Samira"کا مطلب Desicated landیاDry landہے۔یعنی وہ خطہ جو پانی سے خشکی میں تبدیل ہوا ہو۔

G.M.D.Sufiنے کشمیر کی ایک اور وجہ تسمیہ بھی بتائی ہے۔کہ لفظ "Kashmir"دو الفاظ کا"Kash"اور"Mir"کا مرکب ہے۔"Kash"کا مطلب ندی نالے اور"Mir"کا مطلب پہاڑیعنی ندی نالوں اور پہاڑوں کی سر زمین۔ موجودہ کشمیر کے جغرافیائی اور طبعی خدوخال کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ سر زمین کشمیرندی نالوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک خطہ ہے۔

مسلم تاریخ دانوں کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کا گزرکرہ ارض کے اس خطہ سے ہوا تو ’’جھیل ستی سر‘‘ کو دیکھ کر حضرت سلیمان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس جھیل کا پانی خشک کر کے اس خطہ پر آبادی کا قیام ممکن بنایاجائے۔وہاں پر موجود ’’کشف‘‘ نامی جن جو کہ ’’میر‘‘ نامی پری کا عاشق تھا نے اس شرط پر جھیل سے پانی کے اخراج کی ذمہ داری قبول کی کے اس کے بعد’’ کشف ‘‘کی شادی’’میر‘‘سے کروائی جائے۔ جب ’’کشف‘‘ نے جھیل کو کاٹ کر پانی کا اخراج کر دیا تو اس کی شادی’’میر‘‘سے کر دی گئی۔اس نسبت سے اس دلفریب خطہ کشمیر کو عاشق و معشوق کی محبت میں ’’کشف میر‘‘کا نام دیا گیا۔جو بعد میں کثرت استعمال کی وجہ سے کشمیر بن گیا۔

ہندو نقطہ نظر سے’’ جھیل ستی سر‘‘ چاروں اطراف سے برف پوش پہاڑوں اورگھنے جنگلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔اس جھیل میں ایک آدم خور جن’’جلد بھو‘‘ رہتا تھا۔جو ستی سر کے کنارے موجود لوگوں کو تنگ کرتا تھا اور شدید نقصان پہنچاتا تھا۔جلد بھو کے ظلم کی داستان جھیل کے اطراف سے لے کر بھمبر اور راجوری کے علاقوں تک بھیلی ہوئی تھی۔اس آدم خور جن سے لوگ مقابلہ کی سکت نہ رکھتے تھے اور بہت مایوس تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دوران برہما کا پوتا ’’کشپ رشی‘‘عبادت کی غرض اور معابد کی زیارت کے سلسلے میں جھیل ستی سر کی طرف آیا۔کشپ رشی زہد و تقوی کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔جب کشپ رشی کی آمد کی اطلاع بونیر کے علاقہ راجوری میں ہوئی تو ویاں کے باسیوں نے اس کو ’’جلدبھوـ‘‘ کے ظلم وستم کی داستان سناتے ہوئے اس سے چھٹکارے کی التجا کی۔کشپ رشی کو ان مظلوم لوگوں پر ترس آیا اور جلد بھو کو انجام تک پہچانے کی ٹھان لی۔کشپ رشی نے برہما کی آشیر باد سے بارہ مولاکے قریب سے اپنے آلہ جکھرسے پہاڑی کو کاٹ کر پانی کا اخراج کیا۔ جھیل کے خشک ہونے کی صورت میں زمین نمودار ہوئی جس کے نتیجہ میں دیو ہیکل جن جلدبھو انجام کو پہنچا۔اسطرح طوفان نوح کے تقریبادو تین سو سال کے بعد زمیں نمودار ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ دریا دیوکے زمانے میں اس خطہ کا کوئی اور نام تھا۔لیکن جب اس جھیل سے کشپ رشی نے پانی نکالاتو اس نسبت سے اس کو کشپ میر کا نام دیا گیاجو کثرت استعمال سے کشمیر بن گیا۔جھیل کی خشکی کے بعد اس کے قرب وجوار سے چھ برگزیدہ برہمن لا کر آباد کیے ۔اس طرح موجودہ کشمیر کی بنیاد پڑی اوریہاں موجودہ اقوام کشمیر کا آغاز ہوا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ کشپ رشی کی بیگم کا نام میر تھا۔جب کشپ اور میر نے اس خطہ میں رہنے کا فیصلہ کیاتو اس کو کشپ میر کہا جانے لگا۔جو بعد میں اختلاف لہجہ کے باعث کشمیر ہوگیا۔

بہرحال رائے کچھ بھی ہو لیکن تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ زمانہ قدیم میں کچھ عرصہ تک یہ خطہ پانی کے نیچے تھا۔اور آبادی کے قیام سے قبل اس سے پانی کا اخراج کیا گیا۔جھیل ستی سر کے خشک ہونے کے بعد یہاں پر جو آبادی قیام پذیر ہوئی۔اس میں ہر شخص اپنے اپنے گھر کا حکمران تھا۔اور قبیلہ کے سردارگاؤں کے علیحدہ علیحدہ حکمران تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکمرانی کی حدود میں وسعت کا شوق دامن گیر ہوا۔یہاں تک کے ایک گاؤں کے سردار نے دوسرے بہت سے گاؤں پر قبضہ کر لیا۔ قلعہ نما کوٹ تعمیر کروائے۔جس کے کشمیر میں کوٹ راج نظام قائم ہوا۔جن میں اندر کوٹ،انہر کوٹ،شبیرہ کوٹ،سودہ کوٹ،شالکوٹ،دردکوٹ،اور ہنہ کوٹ مشہور تھے۔کوٹ کے سردار کو متر کہا جاتا تھا۔عرصہ دراز تک کشمیر میں کوٹ راج کا نظام قائم رہا۔مقامی سرداروں کی آپس کے لڑائی جھگڑوں کے باعث کوٹ راج کا سلسلہ ختم ہوا۔کیونکہ اس لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر اس وقت کے معززین نے اس نظام سے چھٹکارے کی ٖغرض سے والئی جموں پورن کرن کو دعوت دی۔ پورن کرن نے یہ دعوت بخوشی قبول کرتے ہوئے اپنے بیٹے دیا کرن کو فوج دے کے اس نظام(کو ٹ راج)کے جاتمہ کے لیے بھیجا۔دیا کرن نے3180ق م کو کشمیر پر قبضہ کرتے ہوئے یہاں پر پہلی شخصی حکومت کی بنیاد رکھی۔جس کوکوٹ راج نظام سے تنگ لوگوں نے خوشی سے قبول کیا اور دیا کرن کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15605 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Dec, 2018 Views: 215

Comments

آپ کی رائے