غربت نہیں جہالت

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 اﷲ سبحان تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف اﷲ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دنوں عطا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے، لاکھ کوشش کرے اولاد نہیں ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرمادیتا ہے (سورہ الشوریٰ ۹۴۔ ۰۵)رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’’جس شخص نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی سرپرستی کی، انہیں تعلیم و تربیت دی اور ان کے ساتھ رحم کا سلوک کیا، یہاں تک کہ اﷲ انہیں بے نیاز کردے تو ایسے شخص کے لیے اﷲ رب العزت نے جنت واجب فرما دی‘‘ اس پر ایک صحابی ؓ نے عرض کیا ’’دوبیٹیاں یا بہنیں ہوں؟‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دو لڑکیوں کی پرورش کا بھی یہی صلہ ہے‘‘ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے تو آپ ﷺ ایک کی پرورش پر بھی یہی بشار ت فرماتے (مشکوٰۃ)کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارا اسلامی معاشرہ جس انداز میں دین کی پیروی کرتا ہے اس سے اکثرزمانہ جاہلیت سے ملتے جلتے سانحات رونماہوتے رہتے ہیں، اکثر گھرانوں میں آج بھی بیٹی کی پیدائش پر خوشی کی وہ کیفیت دیکھنے کونہیں ملتی جو بیٹے کی پیدائش پر منائی جاتی ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر مبارک سلامت کے تبادلے تو کجا، والدین،دادی،پھپھو اوردیگرکے چہرے لٹک جاتے ہیں،بیٹی کوبوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ بیٹیوں سے حسنِ سلوک روا نہ رکھنا اور ان کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھنا دور جہالت کی روایات ہیں۔نبی کریم ﷺ کی عملی تعلیمات کودیکھیں تومعلوم ہوتاہے کہ آپﷺ نے اپنی بیٹی کے ساتھ حسن سلوک کی ایسی مثال قائم فرمائی کہ جس کی ماضی میں کہیں کوئی مثال ملتی ہے نہ مستقبل میں ایسی کوئی مثال قائم ہوسکتی ہے-خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اﷲ جب آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو آپﷺ ان کو عزت دینے کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے اور ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے ، رسول اﷲﷺ نے فرمایا’’ جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش اچھے طریقے سے کی یہاں تک کہ ان کو بالغ کر دیا تو میں اور وہ جنت میں اس طرح ہونگے ، آپ ﷺ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی ملا کر دکھائی ( مسلم شریف )والدین غربت مٹانے کیلئے اپنی ہی بیٹی کی جان لے لیں ایسا سانحہ توشائد دورجہالت میں بھی پیش نہ آیاہو۔گزشتہ دنوں ایک ایسی خبرپڑھنے کوملی جس نے جسم کے ساتھ روح کوبھی جھنجوڑکے رکھ دیا۔کیاکوئی عامل چاہے وہ جعلی ہی ہووہ والدین کے ہاتھوں اُن کی بیٹی قتل کروانے کاسوچ سکتاہے؟کیاوالدین ڈیڑھ سال کی اپنی معصوم بیٹی کوکسی عامل کے کہنے یاغربت دورہونے کی اُمیدپرقتل کرسکتے ہیں؟میرادل تونہیں مانتاکہ والدین نے اپنے لئے باعث رحمت بیٹی کاگلاکاٹ دیا۔اﷲ کرے یہ خبرغلط ثابت ہواوربچی کے قتل کی وجہ کوئی اورہی نکلے ۔خبر کے مطابق صوبہ پنجاب کے علاقے سرگودھا میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں والد اور سوتیلی والدہ نے مبینہ طورپرمالی حالات بہتر کرنے کے لیے جعلی عامل کے کہنے پر اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کا گلا کاٹ کر اسے قتل کردیا۔پولیس کے مطابق سرگودھا میں تھانہ اربن ایریا کے رہائشی مظاہر رسول نے اپنی دوسری اہلیہ کے ساتھ مل کر اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی سویرا کا گلا تیز دھار آلے سے کاٹ دیا۔پولیس کے مطابق دونوں لاش کو ہسپتال لائے جہاں ہسپتال کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی۔راقم کے نزدیک ڈیڑھ سالہ معصوم بیٹی کے قتل کی وجہ غربت نہیں جہالت ہے،بچوں کی جان لے لینا ظلم، سنگ دلی اور بربریت کی انتہا ہے۔ اپنے بچوں پرتو خونخوار جانور بھی مہربان ہوتے ہیں۔ یہ کیسے والدین ہیں جو غربت کے خاتمے کے لئے ڈیڑھ سال کی بچی کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے؟غربت یقینی طورپرانتہائی ظالم چیزہے،غربت کے ہاتھوں پریشان عوام کی خودکشیوں،بچوں کی فروخت سے قتل تک کے واقعات کی ذمہ داری امیرترین حکمران طبقے اورخاص طورحاکم کے وقت پربھی عائد ہوتی ہے۔وزیراعظم صاحب نے جس پرانی سکیم کوتبدلی کی علمبراداربناکرپیش کیا وہ آج کے مہنگے اورتیزترین دورمیں غربت کے خاتمے توکیاکمی کابھی باعث نہیں بن سکتی،ایک چوزے کومرغی بننے میں اک سال لگ جاتاہے جوزیادہ سے زیادہ پانچ سوروپے کی فروخت ہوتی ہے۔کوئی غریب سال میں دس مرغیاں پال لے توکیاپانچ ہزار سال بھر کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں؟نہیں جناب آج توپانچ ہزارکی روزانہ کے حساب سے ضرورت ہے لہٰذاوزیراعظم عمران خان صاحب جن سے عوام کوبہت امیدیں جلدی اورمثبت پالیسی بنائیں جوغریبوں کیلئے فوری حوصلہ افزائی کاباعث بنے،غربت کاخاتمہ توشائد کبھی نہیں ہوسکتاالبتہ غربت میں کمی لاکرعام عوام کوزندہ رہنے کاحق فراہم کرناحاکم کی ذمہ داری ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 303491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2018 Views: 459

Comments

آپ کی رائے