نظامِ تعلیم یا ناسور

(Nazar haffi, اسلام آباد)

آپ سکول کھولئے، اچھا کاروبار ہے،ساتھ یہ مشہور کر دیجئے کہ آپ کے سکول میں امریکن و انگلش نظام تعلیم ہے، یہ مشہور کرنے سے آپ کے سکول کی اوقات بڑھ جائے گی،طلبا کارش زیادہ ہوجائےگا اور والدین کی واہ واہ بھی سننے کوملے گی۔

بلاشبہ امریکہ و مغرب کے تعلیمی نظام کا تصور ہمارے ہاں بہت مقبول ہے،لیکن کیا کبھی ہم نےاس نظام تعلیم کے نتائج پر بھی غور کیا ہے ، بعنوان مثال غصے میں آکر انسان کا انسان کو قتل کردینا، یا مشتعل ہوکر کسی کو زدوکوب کردینا ایک افسوس ناک امر ہے لیکن مغربی اور امریکی دنیا میں انسان کے انسان کو قتل کرنے یا زدوکوب کرنے کے لئے غصے میں آنے یا مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔امریکی و مغربی نظام تعلیم کا اثر یہ ہے کہ وہ غصے یا اشتعال کے بجائے قہقہے لگاتے ہوئے انسانوں کا قتل ِ عام کرتے ہیں۔

امریکہ و مغرب میں انسان کو جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا تجربہ آپ اس وقت کیجئے جب وہ آپ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں ملک پر اپنے مفادات کی خاطر حملہ کرنا ہے، آپ یا تو ہمارے ساتھ اس ظلم کو انجام دینے میں شریک ہوجائیں اور یا پھرآپ بھی ظلم سہنے کے لئے تیار ہوجائیں۔اگر آپ کو یاد ہو تو یہی وہ پیغام تھا جواسی مفہوم مگر مختلف عبارت کےساتھ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرتےہوئے پاکستان کو بھی دیا تھا۔

دوسری طرف اسلام کا پیغامِ تعلیم یہ ہے کہ جو ظلم کرے وہ بھی قابلِ مذمت ہےاورجو ظالم کا مدد کرنے والا ہے وہ بھی مذموم ہے اور ظلم کو سہنا بھی ایک قبیح فعل ہے۔ یعنی اسلامی تعلیمات کی رو سے ظلم کرنا ، ظالم کی مدد کرنا اور ظلم سہنا یہ تینوں قابلِ مذمت افعال ہیں۔

اگر آپ مزید امریکہ ومغرب کے نظام تعلیم کے کرشموں کو باریک بینی سے دیکھنا چاہیں تو ابوغریب اور گوانتامو کی جیلوں میں مقیدقیدیوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں کہ جہاں کوئی شخص ،مشتعل ہوکر اور غصےمیں آکر کسی انسان کے بدن میں ڈرل مشین سے سوراخ نہیں کرتا بلکہ ایک پڑھا لکھا انسان، استری شدہ پینٹ اور کوٹ میں ملبوس، بہترین پرفیوم لگائے ہوئے، قہقہے لگاتے ہوئے اورمسکراتے ہوئے بے چارے قیدیوں کو پکڑ کر ان کے جسم کا قیمہ بناتاہے اور انہیں برہنہ کر کے ان پر بدترین تشدد کرتا ہے۔

امریکی و مغربی نظام تعلیم و تربیت سے گزرے ہوئے لوگوں کو کسی پر ظلم کرنے کے لئے قطعا مشتعل ہونے یا غصے میں ا ٓنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ظلم اور تشدد ان کی فطرت ثانیہ بن جاتا ہے۔ جہاں ان کا مفادپورا نہیں ہوتا وہاں ان کی تعلیم و تربیت اپنا اثر دکھا تی ہے۔

آپ ایک طرف ان کے انسانی حقوق کے نعرے دیکھئے اوردوسری طرف کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو ہی لیجئے ،یہ دونوں مسئلے یورپ اور امریکہ کے پیدا کردہ ہیں اور اگر کہیں ایک اسرائیلی فوجی مارا جائے تو سارا یورپ اور امریکہ غمزدہ ہوجاتا ہے لیکن فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کیے جانے پر یورپ و امریکہ کے ایوانوں میں کسی قسم کا زلزلہ نہیں آتا، ان کے ہاں ایک سلمان رشدی کی جان کی اتنی اہمیت ہے کہ سارے کشمیریوں کی اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔

امریکہ و یورپ کے نظامِ تعلیم و تربیت کو سمجھنے کے لئے اس بات کو سمجھئے کہ دنیا میں جہان بھی کوئی مسئلہ ہے وہاں امریکہ و یورپ کی مداخلت ہےاور جہان بھی قتل وغارت اور خون ریزی ہے وہاں انہوں نے داعش، القاعدہ، طالبان اورلشکر جھنگوی جیسے مزدور پال رکھے ہیں۔الغرضیکہ ہمارے تھانوں اور کچہریوں کا نظام بھی اسی استعمار کا دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں بھی لوگو ں کو انصاف مہیا کرنے کے بجائے رقم بٹوری جاتی ہے۔

یہ مغرب اور امریکہ کی مفاد پرستی ہی ہے جو مغربی و امریکی نظام تعلیم کی بنیادیں فراہم کرتی ہے اور جس کے بعد پیسہ کمانے کے لئے بڑے بڑے شاندار ہسپتال تو تعمیر کئے جاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی فیسیں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ لوگ علاج کے بغیر ہی مر جاتے ہیں۔بلکہ بعض مقامات پر پیسے کے پجاری لوگوں کے گردے تک نکال کر بیچ دیتے ہیں۔

امریکہ و مغربی تعلیم یافتہ لوگ غلطی سے ایک آدمی کو بھی قتل نہیں کرتے بلکہ اپنے مفادات کے لئے مکمل پلاننگ اور منصوبہ بندی سے ممالک میں داخل ہوتے ہیں، حکومتوں میں نفوز کرتے ہیں، اداروں کو استعمال کرتے ہیں اور انسانی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔آپ کے سامنے شام ، عراق ، افغانستان اور یمن کی صورتحال ہے، آپ خود دیکھ لیجئے کہ یہ جہاں داخل ہوئے انہوں نے وہاں کے بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو کس حال میں پہنچا دیا ہے۔

ان کے سامنے کوئی اصول، کوئی ضابطہ اور کوئی قاعدہ نہیں، حتی کہ ان کے ہاں جمہوریت بھی ایک ایسی لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے کہ جو ان کے مفادات کے لئے کام کرتی ہے ورنہ یہ بادشاہت و آمریت کے سرپر ہی دستِ شفقت رکھ دیتے ہیں، جیساکہ انہوں نے عرصہ دراز تک صدام کے سرپر دستِ شفقت رکھا اور آج کل عرب ریاستوں کے سروں پر ان کا دستِ شفقت ہے۔ان کی آشیر باد سے سفارتخانوں میں صحافی قتل ہوتے ہیں اور یمن میں ایک گھنٹے کے اندرایک بچہ بھوک سے مرجاتا ہے۔

کشمیر و فلسطین کو تو اب رہنےہی دیجئےاور امریکہ ومغرب کے بارے میں اپنی معلومات کو وسعت دینے کے لئے ان گزشتہ چند سالوں میں یوگوسلاویہ، بوسنیا، فلوجہ، یمن اور کوفہ میں امریکیوں و مغربیوں کے ہاتھوں بلواسطہ یا بلاوسطہ مسلمانوں کے قتلِ عام کی تاریخ کی تحلیل کیجئے اور دیکھئے کہ کس بے دردی سے انہوں نے ان چند سالوں کے اندر اپنے مفادات کے حصول کے لئے انسانی جانوں کو قربان کیا ہے۔

ہم آپ کو فقط اتنا یاد دلاتے ہیں کہ جنگ ِعراق کے دوران عراق کے شہر فلوجہ پر ریاستہائے متحدہ امریکا نے 2003ء کومحاصرہ کر کے قبضہ کر لیا تھا۔ اس حملے میں غیر قانونی ہتھیاروں کے استعمال سے امریکی فوجیوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جس کے طبی اثرات وہاں پیدا ہونے والے بچوں میں آج بھی موجود ہیں۔

امریکی و مغربی ثقافت ا ور تعلیمی نظام سے متاثر ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی صرف پیسہ ہی لوگوں کی زندگیوں کا ہدف بن گیا ہے۔پولیس اور ایف سی جن کا فلسفہ وجودی ہی قانون کی حفاظت ہے وہ بھی رشوت لیتے ہیں ، اسی طرح دیگر اداروں میں بھی عوام کی خدمت کے بجائے عوام کو لوٹنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور ادارے لوگوں کو ماورائے قانون اغوا کر لیتے ہیں۔یہ سب ناقابلِ اصلاح نہیں بلکہ قابلِ اصلاح ہے۔

اگر ہم اصلاحِ احوال چاہتے ہیں تو نظامِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے ،نہ صرف یہ کہ امریکہ و مغرب کا نظام تعلیم انسانیت کے لئے زہرِ مہلک ہے بلکہ ایسا نظام تعلیم بھی جس میں امریکہ و یورپ کی تاریخی و ثقافتی منافقت اور دوغلے پن کو اسلامیات کے ساتھ مخلوط کر کے بچوں کو پڑھایاجاتا ہے وہ بھی انسانیت کے لئے سمِ قاتل ہے۔ ہمیں ایک ایسے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے کہ جس میں اسلامی متون کے اندراجتہاد کر کے ایک مکمل نظامِ تعلیم کی بنیادڈالی جائے تاکہ ہمارے طالب علم، دینِ اسلام کو ایک فطری اور معقول دین سمجھ کر قبول کریں اور مال و مفاد نیز پیسے کی دوڑ میں لگنے کے بجائے علم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سے مظلوم انسانیت، مٹتی ہوئی عدالت، دم توڑتے ہوئےانصاف اور مضطرب سماج کی خدمت کرسکیں۔

انسان معاشرے میں اور معاشرہ تاریخ میں رشد کرتا ہے۔ آپ تاریخی تجربے کی روشنی میں آج اپنے جدیدنظام تعلیم کو اسلامی اجتہاد کی بنیادوں پر اسوار کیجئے ، اگلے چند سالوں میں آپ کا معاشرہ تبدیل ہوجائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 34257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2018 Views: 422

Comments

آپ کی رائے