نولکھا پولیس زندہ آباد

(Muhammad Naeem Shahzad, Lahore)

تحریر حفیظ اللہ سعید

معاشی سرگرمیاں کسی بھی معاشرے کو چلانے کے لئے ریڑھ کی ہڈی حثیت رکھتی ہیں اور معاشی سرگرمیاں مرہون منت ہیں امن و امان کی۔امن و امان ہی قوموں کی ترقی و عروج کا اولین زینہ ہوتا ہے۔ تعمیر خانہ کعبہ کے موقع پہ حضرت ابراہیم علیہ السلام رب کریم سے جو دعا کر رہے تھے اس کے الفاظ امن و امان کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔

" اے میرے رب اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز " ( بقرہ 126 )

امن ہوگا تو ہی سرمایہ دار اطمينان و سکون سے تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ پاتے ہیں۔زمانہ قدیم سے ہی تجارتی راستوں اور شہروں میں تاجران کو ریاستیں ہر ممکن سہولت مہیا کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح آج بھی جو ممالک بہتر اور امن و امان والا ماحول تاجران کو مہیا کرتے ہیں وہ ترقی یافتہ ملک کہلاتے ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان جو کہ ایک ترقی پذیر معیشت کا حامل ملک ہے اس کا سب سے بڑا مسئلہ پچھلے پندرہ بیس سال سے امن و امان کا فقدان ہونا ہی تھا۔ اغیار کے پے درپے حملوں کا شکار یہ ملک دن بہ دن تنزلی کی اتھا گہرائیوں میں گرتا چلا جا رہا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دشمن پاکستان کے ٹوٹنے کی نوید سنانے لگے۔ لیکن الحمدللہ ہمارے مسلح اداروں نے بے پناہ قربانیوں کے بعد دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔بیرونی دشمن کو تو پسپا کر دیا گیا لیکن کچھ دشمن اندر سے ہی دیمک کی طرح پورے نظام کو کھوکھلا کرتے چلے آ رہے ہیں۔جن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے رستے پہ گامزن ہے۔پولیس کا یہ سنہرا کردار آج ہمیں نظر آیا پاکستان کا دل کہلانے والے شہر لاہور میں جہاں پچھلے چند دنوں سے بھتہ خور مافیا اعلانیہ تاجروں کو ڈرا دھمکا کر بھتہ وصول کر رہی تھی۔ تازہ واقعہ جو پولیس اسٹیشن نولکھا میں رپورٹ ہوا اس کے مطابق ملزم اظہر گلشن جو کہ مبینہ طور پہ تاجر رہنما بتایا جاتا ہے نے حسن پلازہ کے مالک سے بارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور بھتہ ڈیمانڈ کی تھی، کو پولیس نے بروقت گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا ہے۔ اس گرفتاری سے علاقہ مکینوں اور تاجروں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ نولکھا تاجر تنظمیں اس اقدام پہ پولیس کی شکرگزار ہیں اور امید رکھتی ہیں کہ پولیس جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوۓ عوام کی جان مال کی حفاظت کرتی رہے گی۔
ہماری پولیس
ہماری محافظ

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shahzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shahzad: 138 Articles with 46414 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Dec, 2018 Views: 216

Comments

آپ کی رائے