اے پی ایس کے ننھے شہداء

(Warisha Masood, )

مَیں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

16 دسمبر 2014ء کے بعد سے یہ نغمہ بچے بچے کی زبان پر ہے- پورا نغمہ درد بھری داستان کو عزم وحوصلے سے بیان کرتا محسوس ہوتا ہے..شہدائے آرمی پبلک اسکول کی چوتھی برسی آج منائی جارہی ہے۔ تاریخ میں سنگ دلی کی وہ داستان جب بڑی تعداد میں معصوم بچوں کو چن چن کرشہید کردیا گیا۔۔۔ سانحہ پشاورکو کوئی نہیں بھول سکتا۔۔ اس دن پاکستان میں مائوں نے سب سے زیادہ آنسو بہائے۔ معصوم اور بے گناہ بچوں کو بڑی بیدردی سے قتل کیا گیا اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی اور رونے پر مجبور تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان درندوں،حیوانوں کے دل نہ تھے جنہوں نے معصوم بچوں پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا ؟ اُنہوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟ اسلام کافروں کے بچوں کو مارنے کی بھی اجازت نہیں دیتا ۔اور اس دن پورے دنیا نے پھول جیسے بچوں کے جنازے دیکھے جن کو بے رحمی سے شہید کیا گیا ۔انسانی تاریخ میں بچوں کے اس ہولناک قتل نے پوری دنیا کو رلا دیا اور عالمی میڈیا نے آرمی پبلک اسکول سانحے کو اپنے اپنے انداز میں پیش کیا۔ اس سانحہ میں اسکول پرنسپل سمیت ننھے بچوں نے بھی اپنے حواس برقرار رکھے اورہمت کی وہ عظیم داستانیں قائم کیں جو ہمیشہ ہمارے دلوں کو گرماتی رہیں گی۔ ﺳﺎﻧﺤﮧ ﭘﺸﺎﻭﺭ کی پوری دنیا میں جہاں جہاں خبر پہنچی وہیں ﭘﻮﺭﯼ پاکستانی ﻗﻮﻡ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺪ نظر آئی۔۔

ہمارے حکمرانوں کو ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قومی صورتحال کو بہتر بنانے اور ملک اور قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کی کوششں کرنی چاہئے۔لیکن ابھی تک وہ اس مقصد میں ناکام ہیں۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Warisha Masood

Read More Articles by Warisha Masood: 3 Articles with 1192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2018 Views: 316

Comments

آپ کی رائے