لادینیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب میں نشانہ صرف اسلام و مسلمان ہیں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

عہدِ رواں میں ہر روز فتنے جنم لے رہے ہیں- یہود و نصارٰی اور مشرکین کے اشتراک سے ساری دُنیا میں رونما ہونے والے فتنوں کا ہدف و نشانہ صرف اسلام ہے، صرف مسلمان ہیں- جس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی صداقت و سچائی کے آگے جھوٹے افکار، نظریات، مذاہبِ قدیمہ کی محرّف تعلیمات کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے- اسلام کا نور مَن کی دُنیا کو روشن کر رہا ہے اور تَن کو نکھار رہا ہے-

تمدنی رُخ سے حملہ:
اسلامی تہذیب و تمدن نے وحشت و اختراعات کا خاتمہ کیا- جہاں اسلامی تمدن کی روشنی پہنچی وہاں امن و سکون اور انسان دوستی کے معاملات پروان چڑھے- معاشرے سے بُری رسموں کی بیخ کنی ہوئی- گرچہ کوئی دل تاریک رہا تو اتنا ضرور ہوا کہ اسلامی تعلیمات کی خوبی نے بُرے احوال پر نظرِ اصلاح کا موقع فراہم کیا- مثلاً بوڑھوں کو تمام تہذیبیں نظر انداز کرتی ہیں؛ اسلام نے انھیں عزت و احترام دیا؛ ان کے تجربات و مشاہدات کی روشنی کشید کرنے کا ہنر دیا، اسی طرح اسلامی تمدن نے عریانیت کی نکیل کسی- مشرقی معاشرے کو مغربی فحاشی کا محور بننے سے بچائے رکھا- ہر تمدن کو اعلی' انسانی قدروں اور حقوقِ انسانی کے اُصولوں سے آگہی بخشی- اسی لیے پہلے مرحلے میں ہی اسلام دُشمن عناصر نے تمدنی رُخ مجروح کرنے کی سعی و کوشش کی-

نظام تعلیم میں لا دینی فکر:
تعلیم ہمارا بنیادی حق ہے- تاہم قوانین کی پاسداری بھی ضروری ہے- اسلام نے اصل علم دین کے علم کو قرار دیا ہے؛ اس کے حصول کے بعد دیگر معاصر علوم کا حصول نفع بخش ثابت ہو گا؛ جس کا مشاہدہ بھی ہو رہا ہے کہ جو دینی علوم سے لیس ہوتے ہیں انھیں مغربی یا دُشمنانِ اسلام کے زعفرانی نظام تعلیم کے زہر نقصان نہیں پہنچا پاتے، ہندوستان میں پہلے بہت دھیمی رفتار سے تعلیمی عمل میں اسلام مخالف نظریات کی شمولیت کی جاتی تھی؛ لیکن اب کھل کر بھگوا نظریات نصاب کا حصہ بنا دیے گئے، جس کا نتیجہ ہے کہ بعض مسلمان بھی دین پسند سلاطین سے متعلق منفی اثرات کے شکار ہیں، ملک کی تاریخ بھی مسخ شدہ پڑھائی جا رہی ہے، اورنگ زیب عالمگیر جیسے منصف کو ظالم کے بطور پیش کیا جا رہا ہے، ایسی درجنوں باتیں ہیں جو ہمارے مذہب سے دور لے جانے والی ہیں، جس کے مہیب نتائج ملنے شروع ہو گئے ہیں کہ ہماری ہی قوم سے وابستہ افراد ساختہ تاریخ جو تاریک بتائی جاتی ہے؛ کو سچ مان کر یاسیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں-

یوں ہی تصورِ الہ کے انکار پر مشتمل دہریت زدہ فکر بھی نصابی راہ سے نسلِ نو کی تباہی کا سامان کر رہی ہے؛ جس کا مشاہدہ مجھے یہ ہوا کہ ایک مشہور یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایک عالم دین کی اردو نثر پر اس لیے ریسرچ سے منع کر دیا گیا کہ؛ متذکرہ شخصیت کا بنیادی تعلق دین سے تھا، اور مہربان پروفیسرز ادب کے مذہب سے تعلق کے منکر تھے- ان کے نزدیک مذہبی شخصیت کا اردو ادب سے کیا تعلق ہو سکتا ہے-

یوں ہی سائنس کی راہ سے وجودِ انسانی کی تخلیق کا ساختہ نظریہ بھی خالقِ حقیقی کے انکار کی سازش کا چیپٹر ہے- عقلیات میں موشگافیوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنے معبودِ حقیقی کو بھول جائیں! یہ الحاد و بے دینی ہے؛ عقل تو وحی سے روشنی لیتی ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اپناتی ہے جبھی اس کی کامیابی کا آفتاب طلوع ہوتا ہے؛ وہ عقلِ خام ہے جو مغربی تعلیمات کے دھارے میں راہ کھو دے اور اپنے خالق سے منکر ہو جائے! ایسی عقلوں نے ہی انسانیت کو برباد کیا ہے اور ظلم و ستم کو عروج بخشا:
تازہ مِرے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفٰی عقل تمام بولہب

زوال پذیر تہذیبوں کی توقیر:
یوں ہی دین سے انحراف کی ایک فکر زوال پذیر تمدّن کی تکریم ہے- یہ حربہ کئی ملکوں میں آزمایا گیا؛ مصر میں فراعنہ؛ عراق میں امالکا، ایران میں کسری' اور برصغیر میں موہن جو دارو و ہڑپا کے کھنڈرات کو تمدن کا شاہکار بنا کر پیش کیا جانا اسلامی تمدن کے مقابل سازش ہے؛ اسلام کی روشنی نے تمام ساختہ تہذیبوں کی قلعی کھول دی اور ظلم کی آندھیاں تھم گئیں؛ اب تشدد کے ماضی کے آثار تمدن کے شاہکار بتائے جا رہے ہیں- اس تکریمی پہلو میں بوئے صداقت نہیں ہے- اس رُخ سے بھی باخبر رہنے کی ضرورت ہے-
حال کا منظر نامہ یہ اقتضا کر رہا ہے کہ اپنے تہذیبی ورثے اور تمدنی سرمائے پر ناز کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے لئے کوشاں رہا جائے اور اقوام مغرب کے فتنوں سے قوم کو بچایا جائے تاکہ ہمارا اختصاص باقی رہے؛ زوال پذیر راہیں تاباں آئینے کو دھندلا نہ سکیں-
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 261 Articles with 145443 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2018 Views: 359

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ