تعمیر ِ شعور

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انصر محمود بابر
رات کے 3بجے کا وقت تھا اورمکہ شہر سے مضافات کی جانب جانے والی کشادہ سڑک پر ہم دو نفوس رواں تھے۔ایک ٹیکسی ڈرائیوراوردوسرامیں تھا۔ابھی میں اس سے تعارف ہی کر رہاتھاکہ اچانک اس نے بریک لگادیے۔میں چونک کرمتوجہ ہواتودیکھاکہ سامنے اشارہ بندتھا۔حیرت کی انتہانہ رہی۔میں نے پوچھاکہ بندہ خدا رات کے تین بجے ہیں اور اس وقت سنسان سڑک پر دوردورتک کوئی ذی روح دیکھنے والی موجودنہیں توآپ نے خواہ مخواہ گاڑی کیوں روک لی؟۔وہ مسکرایااورمدبرانہ لہجے میں گویاہوا،’’آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ اس وقت پاکستان سے باہر ہیں‘‘؟احساس توہین اور صدمے سے میری زبان گنگ ہوگئی۔وہ میری کیفیت سے محفوظ ہوتے ہوئے بولا۔جناب یہاں پہ کوئی اشارہ نہیں توڑتا۔اس لیے بھی کہ لوگ با شعورہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ اشاروں کی پابندی مہذب قوموں کی نشانیوں میں سے ہے۔نیزیہاں اشارہ توڑنے کا تصوراس لیے بھی نہیں ہے کہ آپ کو جرمانہ ہی اتنا اداکرناپڑتاہے کہ نانی یادآجاتی ہے۔میں سمجھ گیاکہ کنایۃً اس نے مجھے غیرمہذب ڈکلیئر کیاہے۔بہرحال اس کے بعد کا سفرخاموشی سے کٹا۔چنددن بعد مدینہ شریف جاناہواتووہاں بھی ایسے ہی ایک تجربہ سے دوچارہوا۔ہواکچھ یوں کہ زائرین کے ایک گروہ کے ساتھ ساتھ میں خراماں خراماں جانب ِ مسجد ِ نبوی شریف گامزن تھا کہ سڑک پارکرتے وقت جو عجلت ہم اپنے ہاں اختیارکرتے ہیں اسی کے تحت زیبراکراسنگ سے چندقدم پہلے ہی ذراتیزتیزسڑک پارکرنے لگاتومیری طرف آتی ہوئی گاڑی مجھ سے چند قدم پہلے ہی رک گئی اورڈرائیور نے شیشہ نیچے کرکے ہلکی سی مسکراہٹ اچھالی اور ہاتھ سے مجھے گزرجانے کا اشارہ کیا۔

سڑک تو میں نے پارکرلی لیکن شرمندگی بہرحال اس دفعہ بھی محسو س ہوئی۔ایک بات اور بھی میں نے نوٹ کی کہ اشارہ کی بتی زرد ہوجائے تو لوگ گاڑیوں کی رفتارکم کرلیتے ہیں،اشارہ سرخ ہواجائے تو رک جاتے ہیں اوردوبارہ چلنے کے لیے سبزبتی کاانتظارکرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اشارہ زرد ہوتاجائے تورفتار اچانک بڑھادی جاتی ہے۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے اب کی بار اشارہ بند ہوگیاتوپھر حشرکے دن ہی کھلے گا۔ نوپارکنگ والے بورڈ کے عین نیچے آپ کو گاڑیاں پارک ملیں گی۔مساجد، اسکولوں اور ہسپتالوں کے قریب جہاں ’’ہارن بجانامنع ہے‘‘۔لکھاہوتاہے وہاں ہارن کے شورکی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میں رات کو دفتر سے چھٹی کرکے گھر کے لیے نکلتاہوں تویقین مانیے کہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی تیزہیڈلائٹس کی وجہ سے یوں لگتاہے جیسے آنکھوں میں سورج طلوع ہوگیاہو۔ پتا نہیں ایسے بے شعورے لوگوں کو لائسنس کون جاری کرتاہے؟اورکیاخبرکہ ان کے پاس لائسنس سر ے سے موجود ہی نہ ہو۔

انھیں کون بتائے گاکہ رات کوسڑک پر روشنیاں مدھم رکھتے ہیں؟۔ایسے لوگوں کی تربیت کون کرے گا؟۔پچھلے کچھ سالوں سے ہمارے یہاں عجیب روش چل نکلی ہے کہ ایکڑ دوایکڑ زمین بیچی اور گھر کے ناکارہ لڑکے کو یورپ سمگل کردیا ۔اگر مقدریاوری کرے تودوسال کے اندر اندر لاکھوں کی آمدنی شروع ہوجاتی ہے توپچھلوں کی توگویالاٹری نکل آتی ہے ۔نیاگھر بن جاتاہے، کپڑوں کو کلف لگنے لگتی ہے اورنئی گاڑی بھی آجاتی ہے۔اب یورپ کی کمائی سے خریدی گئی گاڑی ہوتی ہے اوریہ بے استادے ڈرائیور۔یہی لوگ زیادہ تر حادثات کی وجہ بنتے ہیں ۔ ایسے ڈرائیورز کوسمجھناچاہئے کہ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ سڑک پر چلنے والے دوسرے لوگوں کی زندگی بھی ان ہی کے رحم وکرم پرہوتی ہے۔زندگی اﷲ پاک کابہت قیمتی تحفہ ہے اس کی حفاظت کی جانی چاہئے۔ ایک بات اورکہ رات کے وقت گاڑی سڑک پہ پارک نہ کریں۔اگرمجبوراً ایساکرناپڑ ہی جائے توپارکنگ لائٹس کوآن رکھیں تاکہ پیچھے سے آنے والوں کی رہنمائی ہوسکے۔

آج کل سردیوں کا موسم ہے توصاف ظاہر ہے کہ گنے کاسیزن چل رہاہے۔تو دوردراز کے علاقوں سے گنالانے والے ٹرالہ ڈرائیورزخصوصی طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ سڑک پر ٹرالہ کھڑا کرتے وقت دوسری گاڑیوں کے گزرنے کی جگہ ضرور چھوڑدیں۔نیز اگر ممکن ہو تورات کے وقت ٹرالے کے پچھلی طرف کوئی لالٹین،کوئی چمکدار سٹکر،کوئی اچھاساریفلیکٹریا بیٹری سے جلنے والی لائٹ ضرور لگائیں۔تاکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں حادثات سے محفوظ رہیں۔سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ،جلدبازی اورغیر محتاط رویہ بھی حادثات کاسبب بنتاہے۔نیز گاڑی چلاتے وقت موبائل فون سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔جیسا کہ بعض شوقین مزاج لوگ گاڑی میں LCDبھی لگوالیتے ہیں توہو سکتا ہے کہ دوران ِ ڈرائیونگ دھیانLCDکی طرف چلاجائے اور حادثہ ہوجائے۔

لہذاخدارااپنی جان کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی جان بھی بچائیں۔ایک آزاد، مہذب ،تعلیم یافتہ اور باشعورقوم ہونے کا ثبوت دیں اورٹریفک سگنلز اوردیگر قوانین کی پابندی کریں۔اسی میں ہم سب کا فائدہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521621 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2019 Views: 227

Comments

آپ کی رائے