انڈے سے مرغی تک

(M.H BABAR, )

کنیز بتول کھوکھر، سرگودھا
مسخروں کا ٹولہ جہاں کہیں نظر آئے گا ان کا موضوع بحث انڈااور مرغی ہوگی ان کی بے نیازی کا یہ عالم کہ وہ خود نہیں جانتے جو بول رہے ہیں تنقیدہے طنزیا ان کی ضرورت، توانائی حاصل کرنے کے لیے جس کو شرط زندگی سمجھ کر آغاز صبح کرتے ہیں اسے حقیر سمجھ کر مذاق اڑانے والے اپنے منہ پر آپ تھپڑ مارتے ہیں کیوں کہ اپنی ضرورت نظرنہیں آتی صرف حجم یا قیمت سے اہمیت کا اندازہ لگاتے ہیں کوئی بھی چیز کارخانہ قدرت میں چھوٹی یا بے فائدہ نہیں ہوتی ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں تو کتنی ایسی اشیا ہونگی جن کی اہمیت سے نا واقف ہیں مثلا سوئی اس کو نکال کر ہم دیکھیں تو اس کے کردار کا اندازہ ہوگا بنیادی ضروریات میں سے دوسری لباس ہے وہ اس معمولی سی چیز کے مرہون منت ہے اس کا کام کوئی مہنگی سے مہنگی شے نہیں کر سکتی تب وقعت کا ادراک ہوتا ہے جاندار مخلوق کے زندہ رہنے کے لیے سب سے لازمی خوراک ہوتی ہے اس کا وجود رہے گا تو باقی ضروریات محسوس کی جائیں گی ہمارے ملک کی پچھتر فی صد آبادی گاؤں میں رہتی ہے آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے شہر نہیں دیکھا ان لوگوں کی زندگیوں پر موٹر وے میٹرو کا کتنا اثر ہوگا لیکن خوراک تو ہر انسان کی ضرورت ہے گاؤں میں ہو یا شہر میں جان ہے تو جہان ہے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ہمیں شعوری فیصلے کرنا ہوں گے مہنگائی کی نبض پر ہاتھ رکھ کر آشکوں کی برسات کو روکنا ضروری ہوگیا ہے تاکہ غریب کو دو وقت کا کھانا آسانی سے میسر آسکے محتاجی کا لحاف اوڑکر بے بسی کی راگ مالا گانے والوں کے لیے کچھ سوچنا ان کے لیے نظام کو بدلنا بلند خیالی ہے اسے ممکن بنانے کے لئے سوچ کو بدلنا ہوگا نوکری کا طوق بڑے شوق سے بلکہ فخرسے اپنے گلے میں ڈالنے کے لیے تیار ہوتے ہیں بے روز گاری نوکریوں سے نہیں روز گار سے ختم ہوگی وہ اگر اپنا ہو تو اس میں آگے بڑنے کے چانس زیادہ ہونگے کیونکہ اپنے کام میں محنت زیادہ کی جاتی ہے آج جس کی ابتدا چھوٹے درجے سے کریں کل وہ بلندیوں تک لے کر جاسکتی ہے جبکہ نوکری پوری عمر نوکری ہی رہتی ہے
فطرت سلیمہ کا یہ خاصہ ہے کہ وہ کسی بھوکے پیاسے دکھی کو دیکھ کر حرکت میں آجاتی ہے چاہے وہ حکمران ہو ں ادیب ہوں صوفی درویش یا شاعر ہوں کسی کو تماشہ بنا کر اس پر ہنسنادوسرے کے لیے کتنی تکلیف دہ کیفیت ہوتی ہے راضی رضوی لکھتے ہیں
وہی فریب میں لاکر پھنسا گیا مجھ کو
لگا جو شخص حقیقت میں پا رسا مجھ کو
پھر اس کی سادگی دیکھیں کہ ری ایکشن دیکھیں صاف دلی سے کہتے ہیں
وہ ہنس کے بول پڑا تھا تو میں نے جانے دیا
و گرنہ پیا ری بڑی تھی مری آنا مجھ کو

انڈہ اور مرغی کا مذاق اڑانے والے اپنے گردونواح کا جائزہ لے کر بتائیں کہ یہ دونوں چیزیں ا ن کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہیں اگر ایک دن نہ ملیں تو کیا گزارا ہو سکتا ہے ان کی قیمت جتنی بھی بڑھ جائے باعث فکر نہیں آج کل پچیس روپے کا ایک دیسی انڈہ مل رہا ہے جو غریب کی پہنچ سے باہر ہے اس کو اپنا روز گار بنالے تو اس کی بے روزگاری بھی ختم اور ضرورت بھی پوری مرغی خانوں میں بھی تو مزدور کام کرتے ہیں وہ بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں اس لئے پروجیکٹ کہلاتے ہیں جو مالکان بڑے فخر سے بتاتے ہیں اور خوب پیسہ کماتے ہیں یہی کام غریب کرے تو باعث شرم ؟سوچنے کی بات ہے اگر وہ اپنا کام شروع کرے تو غلامی سے نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑاہوجائے گا اس کے بچے بھوکے نہیں سوئیں گے تو وہ ایک پلیٹ بریانی کی خاطر سارا دن نعرے نہیں لگائے گا مرغ پلاؤکی خوشبو سے وڈیروں کے ڈیرے نہیں سجے گے چکن روسٹ کے لالچ میں مفلس غیروں کی شادیوں پر خوشیوں کے ترانے نہیں گائے گا چکن کورمہ انتخابی نشان یاد نہیں کروائے گا سجی کا خیال کام سے روک کر گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے پر مجبور نہیں کرے گا گرم گرم ابلے انڈے سردی کے موسم میں کسی راہ چلتے کو امیر کے گھر سلام کے لیے نہیں بلائیں گے حلوے کے شوقین بھی اب تو مرغ مسالم پسند کرتے ہیں اگر غریب نہیں ہوگا تو امیراپنی امیری کس کو دیکھائے گا ان کے کام کون کرے گا مزدور نہیں تو فیکٹری کارخانہ، مل،پلازے سب کون چلائے گا اپنی ترقی کے لیے دوسروں کی سوچ کو قید کرو،ورنہ دولت و اقتدار کو تکیہ بنا کرغفلت کی نیند سونے والے بیدار ہوجائیں،کیا یہ انسانیت ہے اس میں خواس با ختہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ظلمت ذات سے نکل کر نئی جہت کا سراغ لگانے کے لیے صحراکے ریگزاروں پر چل کر اپنے لئے راہ متعین کرنا پڑتی ہے تبھی منزل کے نشاں ملتے ہیں اندھیرے مٹانے کے لیے چراغ جلانا پڑتے ہیں فلک بوس منزل تک پہنچنے کیلئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنا پڑتا ہے آؤ سب مل کر سوچیں اپنی سوچ کو عمومی بنائیں ہم مسلمان ہیں ہمارا یہ ایمان ہے کہ کائنات کی سب سے افضل و علیٰ ہستی ہمارے نبیﷺ ہیں جنہوں نے بکریاں بھی چرائیں اور اپنا ہر کام اپنے ہاتھ سے کیا تاکہ امت کو شرمندگی نہ ہو اور ساتھ اجر عظیم بھی ملے اس تعلیم کو بھلاکر ہم کیا ترقی کر پائیں گے چھوٹے کاروبار کا مذاق اڑانے والوں نے شاید آپ ﷺ کاایک وقعہ نہیں پڑھا جب ،ایک صحابی(رض) نے آ کے کہاکہ گھرمیں کچھ کھانے کو نہیں اور کاروبار بھی نہیں آپ ﷺنے پوچھا کچھ بھی نہیں تو صحابی(رض) نے کہابس ایک پیالہ ہے جس کو منگواکر بیچ کر کلہاڑی منگواکر اپنے دست مبارک سے دستہ ڈال کر دیا اور فرمایا جنگل میں جاؤ لکڑیا ں کاٹ کر بیچو کیوں کہ محنت میں عظمت ہے ہم کیسے مسلمان ہے سود پرلیا گیاقرض مال غنیمت سمجھ کر کھالیتے ہیں اور کام کرتے ہوئے اپنا سٹینڈر دیکھتے ہیں کام میں کوئی آر نہیں دنیا جس کو دی ہے وہ بھی امتحان میں اورجس کو نہیں دی وہ بھی امتحان میں اگر مفلس کو صبر کی تلقین کی ارشاد باری تعالیٰ ہے (ان اﷲ مع الصابرین) بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تونگر پر بھی شکر واجب ہے۔(لئن شکر تم لازیدنکم)۔اگر تم نے شکر کیا توتم کو اور زیادہ دوں گا ۔ یعنی اس کے دئے ہوئے مال سے اس کی راہ پر خرچ کرنا،کسی کی مدد نہیں کرسکتے تو اس کی غربت کا مذاق اڑا کر نفسیاتی مریض مت بنائیں تاکہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت بھی کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.H BABAR

Read More Articles by M.H BABAR: 70 Articles with 22666 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2019 Views: 391

Comments

آپ کی رائے