معیار زندگی بلند کرنے کے لیے کیا یہ ضروری ہے؟

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: سید شاہ زمان شمسی
اقتصادیات کی سطح پر ہماری غلطی بنیادی طور پر لالچ اور حسد کے جذبات کی افزائش کرتے چلے جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہمارا لالچ ہی ہے جس نے ہمیں مشین کا غلام بنا کے رکھ دیا ہے اگر لالچ جدید انسان کا آقا نہ ہوتا اور حسد اس کا مددگار نہ ہوتا تو زندگی کا اعلی معیار حاصل کرنے کے لیے انسان ایسی سفاکانہ جدو جہد نہ کرتا جو کہ چاپلوسی، حسد، جھوٹ، کینہ پروری، منافقت، ٹانگیں کھینچنے کی رسم، غیبت خوری کرنے میں مضمر ہیں حالانکہ یہ کام روح کو برباد کرنے والے ہیں۔ اکتا دینے والے بے رحم کام انسانی فطرت کی ہتک کے مترادف ہیں جس میں محنت اور تگ و دو کرنے والے بندے کی کوئی حیثیت نہیں اسے دوسرے لفظوں میں آپ ’’ اسمارٹ ورک‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں اور اسی رویے کے باعث مختلف صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے اندر فرار اور تشدد کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں مگر روٹی کپڑا اور مکان کسی طرح بھی اس نقصان کو پورا نہیں کر سکتے۔

معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ایسی کئی رکاوٹیں عبور کر کے انسان کو سخت دلی، بے حسی، مردہ دلی اور بے ضمیری پیدا کرنی پڑتی ہے پھر جا کے ایک اچھے عہدے پر براجمان ہوا جا سکتا ہے۔ تنخواہ بھی اچھی خاصی کما سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لالچ اور حسد کی مقدار کو حد درجہ اپنے اندر منتقل کیا جائے جب یہ اچھی طرح انسان کے خون میں اتر جائے تو اس کے ساتھ جھوٹ اور اس جیسی کئی بیماریاں خودبخود منتقل ہو جایا کرتی ہیں جو معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ فیکٹری ایریا میں پروڈکشن یعنی پیداواری عمل جو مل مالکان کی خوشنودی کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع خوری کا رجحان بڑھاتا ہے وہیں اس نے انسانی رنگ و روغن اور اس کی اصل اساس یعنی ہمدردی نیک دلی، نیک خیالی اور حساسیت کو بھی ختم کر کے انسان کو متشدد اورمنافق بنا دیا ہے۔

یوں سارا عمل مشینی ہو کے رہ جاتا ہے جس نے مزدور کو کچرے کا ڈھیر بنا کے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ جسمانی محنت جو اساسی گناہ کے باوجود جسم اور روح انسانی کی بہتری کے لیے قائم رکھی گئی ایک بے حیثیت آلے میں تبدیل ہو کر رہ گئی اور اس کے مقابلے میں فیکٹری میں داخل ہونے والا خام مال بہتر صورت اختیار کر کے فیکٹری سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ مگر انسان پہلے سے برے اور کم درجے کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ کیا معیار زندگی بہتر بنانے کے یہ سب ضروری ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501685 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jan, 2019 Views: 381

Comments

آپ کی رائے