میری پہچان مستحکم پاکستان

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی بنیاد11جنوری 2002؁ء میں چند صالح ،متدین،باصلاحیت اورمحب الوطن نوجوانوں نے رکھی،اخلاص ،ﷲیت اور انتھک محنت کا ثمرہ ہے کہ یہ طلبہ تنظیم اپنے قیام کے چندہی سالوں میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے دینی جامعات اورعصری تعلیمی اداروں ،کالجزاور یونیورسٹیز کے طلبہ کی مقبول جماعت تصور کی جانے لگی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان یونٹ سے مرکز تک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے جب کہ تنظیم میں ہر ذمہ دار کے لیے احتساب کا ایک مربوط نظام موجود ہے گویاوہ بارگاہ الہی کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کی عدالت میں اپنے آپ کو پیش کرنے کے جذبہ اور تصورکے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھا رہا ہوتا ہے ۔

ایم ایس او پاکستان کا ماٹو غلبہ اسلام واستحکام پاکستان ہے ،بلاشبہ دینی اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ میں پائی جانی والی خلیج کوکم کرکے نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا ہی خاصہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ایم ایس او پاکستان نے جہاں دینی تعلیم کے حامل طلبہ کوجدیدعلوم کے حصول اورملک وملت کی ترقی کے لیے کرداراداکرنے کی طرف راغب کیا ہے وہیں کالجز اوریونیورسٹیز کے طلبہ کواسلامی تعلیمات اور روایات سے روشناس کرانااور حوالے سے تربیتی پروگرامز ترتیب دینا اس کے نصب العین کا حصہ ہے ،گویا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان لادین قوتوں کی سازشوں کامنہ توڑ جواب دیتے ہوئے دوانتہاؤں پر کھڑے نوجوانوں کو قریب لانے اور اسلامی معاشرے کے قیام کی عملی جدوجہد کررہی ہے۔ایم ایس او پاکستان ایجوکیشن ریفارمز کے ذریعے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ چاہتی ہے ،تاکہ ملک میں یکساں نظام و نصاب تعلیم رائج کیا جاسکے ۔مسلم سٹوڈنٹس پاکستان تعلیم وتعلیمی اداروں کاتحفظ و تقدس اور طلبہ کے حقوق کے لیے مؤثر جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ،طلبہ کی صلاحیتوں کو مثبت اور نظریاتی سرگرمیوں کے ذریعے نکھار کرملک وملت کی ترقی کے لیے انہیں مواقع مہیاکرنا ایم ایس او پاکستان کی محنت کا مرکزی نقطہ ہے ،مشرقی اقدارواسلامی شعار کے فروغ کاشعور اجاگر کرنے اورپیغمبراسلام ،خاتم الانبیاء ﷺ ،صحابہ کرام و اہلبیت اطہاراوراسلام کی مقدس شخصیات کی ناموس کے تحفظ اوردنیا کے کسی خطہ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور باوقار آواز اٹھانا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے ۔

اس میں دو رائے نہیں کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی سترہ سال پر محیط جد وجہد اس کے عالی نصب العین کی عکاس ہے کہ اس طلبہ تنظیم نے بڑی کامیابی کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں اوروطن عزیز کو درپیش مسائل سے باخبر رہتے ہوئے بحیثیت طلبہ تنظیم اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ،مدارس دینیہ اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر لاکرسامراجی سازش کو ناکام کرنا ہویا ایجوکیشن ریفارمز کے لیے مؤقر پلیٹ فارمز پر جدوجہد کرنا ،تحفظ ناموس رسالت کی تحریک ہو یا سوشل میڈیا پر اصحاب رسول ﷺ واہلبیت سمیت مقدس شخصیات کی توہین کی روک تھام کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنا ،برماوشام اورفلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو یا دخترپاکستان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا ،بھارتی مظالم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کشمیری عوام کے حق میں یوم احتجاج منانا ہو ،مشرقی روایات کی احیاء کے لیے" حیاڈے" ہویااسلامی تعلیمات کے فروغ اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے "پیغمبراسلام ﷺ کی سیرت وکردار"کو عام کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز ترتیب دینا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا خاصہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہMSOپاکستان نے ملکی و بین الاقوامی مذہبی،سیاسی،سماجی اور علمی شخصیات کا اعتماد بھی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان 18واں یوم تاسیس" میری پہچان مستحکم پاکستان " کے عنوان سے 11جنوری 2019کو منارہی ہے ،اس پرمسرت موقع پر ایم ایس او پاکستان کا پیغام یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کے نام پر۔۔۔۔وطن عزیز پاکستان۔۔۔۔ عظیم اور لازوال قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے ۔۔۔قیام پاکستان کی طرح ۔۔۔استحکام پاکستان کے لیے بھی طلبہ کا کردار ناگزیر ہے ۔

اے وطن عزیز کے نوجوانو۔۔۔!آو۔۔۔۔گروہ بندیوں اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہوکر۔۔۔۔ جدید تقاضوں کے مطابق علم و ہنر سے لیس ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک وملت کی قیادت کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے محنت کو اپنا شعاربنائیں تاکہ ہم وطن عزیز کو درپیش مسائل سے نکال کرترقی اور استحکام کے راہ پرڈال سکیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137813 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
10 Jan, 2019 Views: 283

Comments

آپ کی رائے