مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان قدم بقدم

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

 بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مسلم سٹوڈنٹس آگنائزیشن پاکستان 11 جنوری 2002 کو معروض وجود میں آنے والی واحد طلبہ تنظیم ہے، جو اپنا واضح نصب العین اورمنشوررکھتے ہوئے آزاداورخودمختار حیثیت سے نظریاتی جدوجہد پریقین رکھتی ہے۔MSOپاکستان کے محب الوطن ،باصلاحیت اورمتدین نوجوان قائدین نے" غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان ـ"کے لیے نظریاتی ،فکری اورتحریکی جدوجہد کو دینی وعصری تعلیمی اداروں سے شروع کیا،ایم ایس او پاکستان نے تعلیمی اداروں میں گروہ بندی، تشدداوراسلحہ کلچر کے فروغ کے بجائے پرُ امن اورنظریہ پاکستان سے ہم آہنگ جدوجہد کو اپنا شعار بناکردینی و عصری تعلیمی اداروں کے مابین پائی جانے والی ملاں اور مسٹر کی تفریق کے خاتمہ اورطبقاتی نظام تعلیم کے خلاف مؤثر آواز بلند کی اور تعلیم وتعلیمی اداروں کے تقدس کاشعوراجاگر کرنے کے لیے انتھک محنت شروع کی۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے اپنی سترہ سالہ جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ ایم ایس او پاکستان نے ہمیشہ اسلامی روایات اور مشرقی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثرآواز اٹھائی ہے ،بلاشبہ خاتم الانبیاءﷺکی بعثت کے بعد امت محمدیہ کے ہر فردکی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ واشاعت اور صیانت ِدین کی ذمہ داری کو بھرپورانداز میں ادا کرے ،اس حوالے سے انفرادی اور اجتماعی طور پرذہن سازی اورمذہبی اقدار کی جانب رغبت ، اہمیت اورضرورت کو جاگر کیا جاناانتہائی ضروری ہے تا کہ ہرایک مسلمان کونظریاتی پختگی حاصل ہو یعنی وہ نظریاتی طورپر کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور عملاً بھی مسلمان ہو یعنی اس کے قول وعمل، گفتارو کردار میں سو فیصد اسلام اورایمان کی خوشبومہکتی ہو اور وہ اپنے اعلیٰ ترین کردار و سیرت کی بنیاد پر انسانیت کو اپنا جیسے بن جانے کی دعوت دے سکے،بلاشبہ افراد سازی ہی معاشرہ سازی میں معاون وممدثابت ہوتی ہے ۔اس تناظرمیں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان دینی و عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کی کردار سازی کررہی ہے تاکہ جب یہ نوجوان عملی زندگی میں صاحب ِمنصب واختیار ہوں تو ایمان ،تقویٰ ،دیانت اور امانت داری کے اوصاف سے متصف ہو کر اپنے فرائض منصبی کو ادا کرکے اسلامی وفلاحی معاشرہ کے قیام میں بنیادی اکائی ثابت ہوں ۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان دوقومی نظریہ کے تحفظ اور بقا کے لیے سرگرم عمل ہے ،بلاشبہ کلمہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی مملکت خداداد پاکستان کے بانیان اسے مثالی اسلامی اور فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، یعنی وطن عزیز کی بنیاد ہی اسلام اور خالصتاً اسلامی نظام کی مثالی تجربہ گاہ کے طور پر رکھی گئی تھی ، جہاں مسلمان خدائے واحد کی اطاعت، آنحضور ﷺکی اتباع، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام ؓ جیسا طرز زندگی یعنی سچائی، بہادری، سادگی ،خود اعتمادی، عاجزی و انکساری، عبادت گزاری، حقوق اﷲ اور حقوق العباد کا خیال رکھتے ہوئے یہاں کے باشندے امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں،جہاں اقلیتوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں اور پاکستان کا وجود پورے عالم اسلام کے لیے اتحاد و یگانگت کا محور ہو ۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے استحکام پاکستان کے لیے چند بنیادی نکات پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا، ان میں سرفہرست تعلیمی شعور کی بیداری و آگہی،ملاں اور مسٹر کی طبقاتی تفریق کا خاتمہ ،درسگاہ و استاد کے تقدس اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ، لسانی ،علاقائی،گروہی اور مسلکی تفریق سے بالا تر ہو کر یکساں نظام تعلیم کے لیے جدوجہد،اسلامی تہذب اور شعار کے تحفظ ،مشرقی روایات کے فروغ اورو طن عزیز پاکستان کو ایک مستحکم اورترقی یافتہ اسلامی فلاحی مملکت بنانے کی جدوجہدشامل ہے ۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے پلیٹ فارم پر دینی وعصری تعلیمی اداروں کے طلبہ بلاتفریق سرگرم عمل ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ایم ایس او پاکستان نے بڑی کامیابی کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں اوروطن عزیز کو درپیش مسائل سے باخبر رہتے ہوئے بحیثیت طلبہ تنظیم اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ،مدارس دینیہ اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر لاکرسامراجی سازش کو ناکام کرنا ہویا ایجوکیشن ریفارمز کے لیے مؤقر پلیٹ فارمز پر جدوجہد کرنا ،تحفظ ناموس رسالت کی تحریک ہو یا سوشل میڈیا پر اصحاب رسول ﷺ واہلبیت سمیت مقدس شخصیات کی توہین کی روک تھام کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنا ،برماوشام اورفلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو یا دخترپاکستان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا ،بھارتی مظالم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کشمیری عوام کے حق میں یوم احتجاج منانا ہو ،مشرقی روایات کی احیاء کے لیے" حیاڈے" ہویااسلامی تعلیمات کے فروغ اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے "پیغمبراسلام ﷺ کی سیرت وکردار"کو عام کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز ترتیب دینا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا خاصہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہMSOپاکستان نے ملکی و بین الاقوامی مذہبی،سیاسی،سماجی اور علمی شخصیات کا اعتماد بھی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی عہد ساز جدوجہد کے بارے میں تاریخ ساز شخصیات نے مندرجہ ذیل کلمات میں اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔

فخر پاکستان سابق DG.ISIجنرل (ر)حمید گل رحمہ اﷲ نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا، "ہر محب وطن نظریہ پاکستان کی بقا اور تکمیل کی جدو جہد میں کوشاں ہے جب کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس حوالے سے ایک جا مع پروگرام رکھتی ہے ، ایم ایس او کے اغر اض و مقا صدبھی بڑے واضح اور دو ٹوک ہیں ،میں اس تنظیم کو اس لیے بھی پسند کرتا ہوں کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اور گزشتہ چودہ سالوں میں اس کی کوئی سرگرمی ایسی نہیں ہے جو ملکی سلامتی یا دینی اقدار کے خلاف ہو ، جو بڑی خوش آئند بات ہے اور یہی خصوصیت اس کو دوسری تنظیموں سے ممتاز کرتی ہے، MSO تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے میں اہم کردار اد اکر رہی ہے، اور دوسری اہم بات یہ کہ ہماری تعلیم کو دو حصو ں میں تقسیم کیا گیا ‘سیکولر تعلیم اور دینی تعلیم ، جس سے قوم تقسیم ہو کر رہ گئی ، MSO کا ایک وقت میں دینی مدارس اور یو نیورسٹیز کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، دونوں اطراف میں پل کا کردار ہے جو انتہائی اہم اقدام ہے ۔

شہید نامو رسالت ،امیر جمیعت علماء اسلام ومہتمم جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اﷲ نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے تھے "

میں سمجھتا ہوں کہ حضرۃ شیخ الہندؒکے خوابوں کی عملی تعبیر مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ، شیخ الہند کی یہی فکر تھی کہ قدیم اور جدید دونوں طبقوں کو بیدار کیا جائے ، انہیں یکجا کیا جائے تاکہ قدیم اور جدید مل کر کتاب و سنت کا پیغام لے کر اٹھیں ، اسے گھر گھر پھیلائیں۔ایم ایس او کے کارکنان جس ولولے کے ساتھ یہ پیغام لے کر اٹھے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں یہ بہت بڑا مقام عطاء فرمایا ہے ۔ ایم ایس او کی سرگرمیاں دیکھ کر یقین کیجئے کہ مجھے ایک نیا حوصلہ مل رہا ہے ، اور میری نظر میں آج کل پاکستان اور پاکستانی قوم جن مسائل کا شکار ہے اور جس طرح یہ قوم بھٹک رہی ہے ایم ایس او ایسے میں ہمارے لئے امید کی ایک روشنی بن کر قوم کے سامنے آئی ہے ۔ ایم ایس ا و اور اس کے نوجوان ہمارا قومی سرمایہ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ جب قافلے اسی عزم کے ساتھ نکلیں گے تو ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر پائے گا ۔ میری د عائیں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیش کے ساتھ ہیں ۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کوشیخ الحدیث مولانا زاہدالراشدی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل کا اعتماد ان الفاظ میں حاصل ہوا "مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان دینی اور اصلاحی ذوق رکھنے والے طلبہ کی تنظیم ہے،جو ایک عرصہ سے طلبہ میں دینی بیداری اور شعور کی فضا قائم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور اس کا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ دین اسلام اور نظریہ پاکستان کے مطابق ایک اصلاحی معاشرہ کی تشکیل اور نئی نسل کی فکری و دینی تربیت کے لیے مؤثر کردار ادا کریں ۔"

مولاناقاری محمدحنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے یہ الفاظ بھی مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا فخر ہیں " مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن محب وطن اور اسلام پسند نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کے عہدایداروں اور کارکنان سے ملنے اور ان کے جذبات واحساسات اور عزائم کے بارے میں جاننے کا موقع ملا تو دلی خوشی ہوئی ۔چونکہ ملک وقوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اس لیے ایم ایس او سے وابستہ نوجوانوں کی سنجیدگی ،دین سے وابستگی اور حب الوطنی کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔

سردار محمد یوسف‘سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امورپاکستان نے MSOپاکستان کی عہد ساز جدوجہد کے بارے میں تاریخ الفاظ تحریر فرمائے "ایم ایس او کے نصب العین غلبہ اسلام و استحکام پاکستان میں ملک و ملت دونوں کی فلاح کی ہے ،ایم ایس او پاکستان کے پروگرام سے مجھے آگاہ ہو کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ ایم ایس او پاکستان دو انتہاؤں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے،دینی وعصری اداروں کے طلبہ کے متفقہ پلیٹ فارم کی کمی کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا جس کو ختم کرنے کی عملی صورت ایم ایس او پاکستان پیش کررہی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان میں بھی طلبہ نے مثالی کردار ادا کیا تھا اور اب استحکام پاکستان میں بھی طلبہ ہی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔میں MSOکے تمام کارکنوں اور قائدین کو یوم تاسیس کے موقع پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔"

سفیرامن ،راہنما پاکستان دفاع کونسل وسرپرست اہلسنت والجماعت پاکستان مولانامحمداحمد لدھیانوی نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا "جب بھی ایم ایس او کے کسی سیمینار یاپروگرام اور ریلی کی خبر ملتی ہے اور تعلیمی اداروں میں اس کی سرگرمیوں کے متعلق پتہ چلتا ہے تو مجھے از حد خوشی ہوتی ہے کہ اس طلبہ جماعت نے قلیل وقت میں ملک بھر میں اپنی منظم تنظیمی سازی کر کے اپنا آپ منوایا ہے اور درا صل یہ سب اس طلبہ تنظیم کے انتھک اور محنتی کارکنوں کے اخلاص ، ﷲیت اور جہد مسلسل کا نتیجہ ہے کہ آج اس طلبہ تنظیم کاشمار ملک کی ایک بڑی تنظیم میں ہورہا ہے ۔"

سینیٹرومرکزی راہنما جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا عبدالغفورحیدری نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بارے میں یہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے ـ"ایم ایس او کی جدو جہد میں ایک بڑی پیش رفت یہ ہے کہ یہ مسلم دنیا کو لڑانے کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے اپنے دامن میں وسعت اختیار کئے ہوئے ہے ۔ضرورت ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کے فلسفے پر عمل کیا جائے ، انہوں نے تحریکی انداز سے جو کارنامہ سرانجام دیا ہمیں بھی اسی تحریکی راستے کو اپنانا ہوگا ۔ شیخ الہند ؒ کی تحریک میں ہر مسالک اور مذہب کے لوگ تھے اور میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اسی وجہ سے انگریز کو یہاں سے جانا پڑا تھا کہ وہ اتنی بڑی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور آپ کی کوششوں کے ثمرات پوری دنیامیں پھیلیں۔

معروف صحافی وتجزیہ نگار خورشید ندیم نے ایم ایس او پاکستان کے بارے میں اپنے اعتماد کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ "مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ساتھ میرے تعلق کی کئی وجوہ ہیں ، سب سے بڑی وجہ پاکستان میں جاری گروہ در گروہ تقسیم کے عمل کو روکنے کے لیے ایم ایس او پاکستان کی جاری جدوجہد ہے، MSOکی سب سے بڑی کاوش مدارس دینیہ اور عصری اداروں کے طلبہ کوایک پلیٹ فارم پر ملکی استحکام کے لیے جمع کرنا ہے۔MSOمجھے اس لیے پسند ہے کہ اس تنظیم کے بانیوں نے ایم ایس او کے قیام کے وقت تقسیم کے اس عمل سے بالا ہو کر ملا اور مسٹر کو ایک پلیٹ فارم پر غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کی جدوجہد کے لیے یکجا کیا ہے ،ایم ایس او کی یہ مساعی قابل تحسین اور باعث مسرت ہے۔ جب تک اس ملک میں مضبوط ویلیو سسٹم ، نظام اقدار و سماج کو مستحکم نہیں کیا جا تا اس وقت تک پاکستان کا استحکام نہیں ہو سکتا ہے۔MSOکو معاشرے میں تقسیم کے عمل کو کم کرنے اور ویلیو سسٹم کی حفاظت جیسے ایشو زپر کام کرنا ہوگا۔

تجزیہ نگار اوردانشور اوریا مقبول جان نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بارے میں کہا کہ "مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان دین و دنیا کی دوری کو ختم کرنے کی جدوجہد کررہی ہے اوریہ جدوجہد ہمارے اسلاف کا ورثہ ہے ۔"

سینئر صحافی و تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی نے ایم ایس او پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں اپنے احساسات کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ "بڑی خوشی ہے کہ دینی مدارس وعصری تعلیمی اداروں کے طلبہ اگٹھے ہو کر مشترکہ مقاصد کی جدوجہد کررہے ہیں ،اس کی داد دی جانی چاہیے ۔پاکستان میں پرائمری سے یونیورسٹی لیول تک متفرق نظام تعلیم رائج ہیں جب کہ قیام پاکستان کے وقت دعویٰ کیاگیا تھا کہ یہاں اسلامی اقدار کے مطابق یکساں نظام تعلیم ہوگا جو ہر قسم کی تفریق سے پاک ہوگا ۔ہمیں مجموعی نظام تعلیم کو تبدیل کرنا ہوگا۔"

میاں محمد اسلم ، مرکزی راہنماجماعت اسلامی (سابق ایم این اے)نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی خدمات کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا کہ "میں ایم ایس او کو مبار ک باد پیش کرتا ہوں، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے نوجوان نسل پر مغربی تہذیب اور ثقافت کی یلغار کی روک تھام اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جو جدوجہد شروع کر رکھی ہے ‘جس انداز سے دینی و عصری اداروں میں یہ طلبہ جماعت کام کر رہی ہے ‘میں سمجھتا ہوں کہ یہ امت کا مجموعی نظریہ سامنے لائی ہے ۔ ہمیں اس مغربی یلغار کے خلاف مزید جدو جہد کرنا ہوگی ۔"

حافظ حسین احمدمدظلہ‘راہنما جے یو آئی (ف)نے ایم ایس او پاکستان کی عہد ساز جدوجہد کو ان الفاط میں خراج تحسین پیش کیاکہ "سیرت طیبہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جتنا بڑا مشن ہوتا ہے اس کے لیے اتنی ہی زیادہ محنت اور جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے ،دنیا کی راہنما ئی کے لیے پیغمبر اسلام کی زندگی اور محبت سے رشتہ جوڑنا بہت ضروری ہے ، اس سلسلے میں ایم ایس او کی جدو جہد لائق تحسین ہے‘اور یوم تاسیس پر اس کے ہر ہر کارکن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔"

ڈاکٹر ولی خان المظفرسرپرست پاکستان عربک لینگویج بورڈ نے MSOپاکستان کے بارے میں اپنے اعتماد کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ "مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ،دینی و عصری اداروں پر مشتمل ہمارے نوجوان طلبہ کی وہ تنظیم ہے جس نے فرقہ واریت ،لسانیت ،اور رنگ و نسل کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا ،پاکستانیت اور اسلامیت اس طلبہ تنظیم کے دو واضح شعار ہیں،اسی بنیاد پر یہ نوجوانوں میں شعور وآگاہی کے لئے کوشاں رہتی ہے ۔مجھے ایم ایس او کے متعدد پروگراموں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے ،میں نے اس کے کارکنوں میں علم کی تڑپ اور اسلام وپاکستان سے بے پناہ محبت دیکھی ہے ،ان کے قائدین بے لوث بھی ہیں ،زمانے کے تقاضوں سے واقف اور ہم آہنگ بھی ہیں ۔"

ترجمان وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولاناعبدالقدوس محمد ی نے ایم ایس او پاکستان کو قومی امیدوں کا مرکز قرار دیا کہ "مجھے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ان میں منفرد اورامتیازی حیثیت کی حامل تنظیم نظر آئی۔غلبہ اسلام و استحکام پاکستان کے نصب العین کی حامل یہ خود مختار طلبہ تنظیم دینی وعصری تعلیمی اداروں میں یکساں طور پر مصروف عمل ہے جو دور جدید کے چیلنجز اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے طلبہ کی فکری و نظریاتی تربیت کر رہی ہے۔منفرد تنظیمی ڈھانچہ،کارکن سے لے کر قائد تک خود احتسابی،اپنے مشن سے وابستگی اور اخلاص MSOکے نمایاں پہلو ہیں۔"

طلبہ راہنما ،سابق امیدوارصوبائی اسمبلی وماہر تعلیم حافظ اقراراحمدعباسی نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ "ایم ایس او پاکستان معاصر طلبہ تنظیموں سے اس لیے ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ یہ تنظیم روایتی جمود سے بالاتر ہوتے ہوئے مدارس و جامعات عربیۃ اور کالجز و یونیورسٹیز کے طلبہ کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے،جو ملا اور مسٹر کی تفریق کو ختم کرنے کی عملی صورت ہے۔ایم ایس او اپنے نظم میں خود مختار ،مستقل وجود رکھنے والی، محب وطن اورنظریاتی طلبہ کی جماعت ہے جس کی قیادت سے لے کر کارکن تک ہر فرد نظم جماعت کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔

حسب سابق مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان 11جنوری 2019کو 18واں یوم تاسیس"میری پہچان مستحکم پاکستان "کے عنوان سے مناکر یہ پیغام دے رہی کہ دوقومی نظریہ اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں قربانیوں کے بعد وطن عزیز پاکستان کو حاصل کیا گیا،بلاشبہ دیگرطبقات کی طرح طلبہ کی جدوجہد اورقربانیاں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،اس میں دو رائے نہیں کہ قیام پاکستان کی طرح استحکام وترقی کے لیے بھی تعلیم یافتہ ،باصلاحیت اور نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ نوجوانوں کا کردار ناگزیر ہے ، ایم ایس او پاکستان کی دعوت یہ ہے کہ وطن عزیز کا نوجوان بلاکسی تفریق اورگروہ بندی کے جدید تقاضوں کے مطابق علم و ہنر سے لیس ہو کرملک وملت کی قیادت کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے محنت کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ہم وطن عزیز کو درپیش مسائل سے نکال کرترقی اور استحکام کے راہ پرڈال سکیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 140857 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
10 Jan, 2019 Views: 244

Comments

آپ کی رائے