حقیقی زندگی کا رنگ

(Kaneez Battol Khokhar, Sargodha)

لوڈشیڈنگ سے جہاں کاروبار زندگی بند ہو تا ہے وہاں سکون زندگی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتاہونا تو ایسے چاہئے تھا کہ بجلی کی بندش سے شور شرابے کے ختم ہوتے ہی ہر طرف خاموشی کا راج ہوتا مگر ایسا نہیں ہوتاکیونکہ جب باقی اشیائے زندگی بند ہوتی ہیں وہاں بچوں کے کارٹون چینل بھی بند دوسرا وہ شوجہاں ڈیزاینرز اپنے فن پاروں کی نمائش کرتے دیکھائی دے رہے تھے ادھورے رہ جاتے ہیں جو گھر میں بیٹھی خواتین کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنتے ہیں کیونکہ وہ اتنے شوق سے دیکھتی ہیں جیسے کل کو انہوں نے اس کو ضرور زیب تن کرنا ہو ان میں سے اکثر وبیشتر وہ ہوتی ہیں جو ساتھ ساتھ استغفار کا ورد بھی جاری رکھے ہوتی ہیں کہ ایسے لباس پہنے والوں نے مرنا نہیں ہوتا کل کو اﷲ کو کیا منہ دیکھانا ہے یہ کلمات ان کے ہوتے ہیں جن کو یقین کامل ہو کہ وہ زندگی میں کبھی ایسا لباس خریدنے یا پہننے کی حالت میں نہیں آسکتیں تو چلو انگور کھٹے ہی سہی اور دیکھ دیکھ کر اندر کی حسرتیں اندر ہی دم توڑتی ہیں ان مردہ حسرتوں کی نعش گل سڑکر دماغ میں راکھ کی مقدار میں اضافے کا سبب بنتی ہے پھر اس کچرے کے گودام میں مثبت سوچیں آٹے میں نمک کے برابر ہو نے سے اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں اور ہر طرف اضطراب کا راج شروع جس سے گھر کے ماحول میں تبدیلی آنے لگتی ہے وہ خود ترسی کی کیفیت میں چلی جاتی ہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں کھڑی ہیں اصل میں دنیا کہیں بھی نہیں جا رہی وہیں کی وہیں کھڑی ہے بس ہمارے دیکھنے کے انداز بدل گئے ہیں ۔۔ جو کچھ ٹی وی شو میں دیکھایا جاتا ہے وہ ہمارے معاشرے کے پانچ فیصد لوگوں کا ماحول ہوتا ہے کہ اب یہ فیشن اِن ہو گیا اب یہ اوٹ ہوگیا مورننگ شو میں تو اکثر چینل پر اسی قسم کے پروگرام ہوتے ہیں جو دیکھنے والوں کے زخموں پر نمک کا کام کرتے ہیں مہمان اور میزبان دونو ں اس میں بڑ چڑ کر حصہ ڈالنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتیں اس تصوراتی ماحول کو حقیقت کے قریب کر دیتیں ہیں ہم تو ہمیشہ فلاں برانڈ استعمال کرتی ہیں اور کچھ تو اسے بھی چار قدم آگے نکل جاتی ہیں جی میری تو ساری شاپنگ پاکستان سے باہر ہوتی ہے یہاں ملتا ہی کیا ۔کچھ خاص نہیں یہ کس کی تو حین ہوتی ہے اپنی ہی ، ایسی گفتگو کرنے والے لوگوں کا جوش و جزبہ ۱۴ اگست کو بھی دیدنی ہوتا ہے جب وہ حب الوطنی کے گیت گاتے سبزو سفید رنگ کے لباس میں لپٹے چلتے پھرتے پرچم پاکستان نظر آتے ہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہ سب وہ دیکھاوے کے لیے کرتے ہیں بلکہ یہ جزبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کیونکہ جب کبھی وطن عزیز کو کسی قربانی کی ضرورت پڑ ی تو عوام میں سب سے پہلے یہی طبقہ خود کو پیش کرتا ہے اس طرح ڈراموں اور فلموں کے ہیروز اصلی ہیروز کا روپ دھار لیتے ہیں میل اور فی میل دونوں کا بھرپور کردار ہوتا ہے ان کی ذات میں اتنی لچک ہوتی ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ خود کو بدل سکیں اور ہونا بھی یہی چاہئے اگر پانی بھی ایک حالت میں رہے تو خراب ہوجاتا ہے مگر ان کے ٹاک شو دیکھنے والوں میں یہ صلاحیت نہیں ہو تی کہ وہ بھی اس تبدلی کا مظاہرہ کر سکیں ۔ ان کی پوری زندگی اسی سٹیج پر نہیں گزرتی اس لیے اپنی عقل بھی استعمال کرنی چاہئے ،کہ کس میں ہمارا فائدہ اور کس میں نقصان ہے جہاں تک بات برانڈ کی ہے تو ہمارے ملک میں ہنر کی کوئی کمی نہیں انسان کا دماغ ایک کان کی طرح ہے جس سے خزانے نکالے جاسکتے ہیں جس کو کان کنی کا جتنا فن آتا ہے وہ اسی کے مطابق اس قدرتی ذخیرے سے استفادہ کر سکتا ہے یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس دولت بے حساب کا استعمال کر بھی سکتا ہے یا نہیں جن کو یہ صلاحیت مل جائے وہ لوگ آگے مختلف گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں ایک گروہ تو یہ سوچ رکھتا ہے کہ اپنا ہنر ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جن کے پاس کی پیسے کی قلت ہو اگر پیسہ ہے تو پھر دماغ استعمال کرنے کی ضرورت کیا؟پیسہ ضرورتیں پوری کرتا ہے شوق نہیں دوسرا طبقہ جن کے حالات ان کو برانڈ مافیا کی اجازت نہیں دیتے پھر بھی وہ لوگوں کی نظروں میں اپنا مکام اونچا کرنے کے لیے صرف مہنگے لباس اور چیزوں کو ہی اہمیت دیتے ہیں ان کی اپنی ذات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے جو حقیقی معنوں میں عزت دلواسکتی ہے خود کو سودھارنے کی فکر سے آزاد ہو کر سوچتے ہیں اس غلط نظریہ کی وجہ سے کبھی اس عروج تک نہیں پہنچ پاتے جن کا تصور کرتے ہیں یہ سب فریب ذات کا نتیجہ ہے حسن و عزت کا تعلق رنگ و لباس سے بالکل نہیں ہوتا اگر کسی انسان کی سوچ اچھی ہوتو اس کو ظاہر کرنے کے لیے مناسب الفاظ اور خوبصورت لہجے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کوئی ایک خوبی اس وقت تک اپنا وجود برکرار نہیں رکھ سکتی جب تک اس سے متعلق تمام چیزیں اپنے مناسب مکام پر نہ ہوں ۔ میعار بدلنے سے خریدار بھی بدل جاتے ہیں عورت نے محبت کو دولت میں تلاش کرنا شروع کیا تو مرد نے دل کے عین اوپر جیب لگوالی مرد نے ظاہری حسن کو اہمت دی تو عورت نے خود کو کاسمیٹکس میں چھپا لیا اور دونوں کے قدرتی اوصاف لحاف اوڑ کر سوگئے ۔خوبصورتی کس کو پسند نہیں زندگی کا حقیقی حسن کس میں ہے سورت النسا ء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہـ:مرد قائم رہنے والے ہیں (یعنی حاکم ہیں)اوپر عورتوں کے بہ سبب اس کے کہ بزرگی دی اﷲ نے بعضے ان کے کو، اوپر بعض کے اور بہ سبب اس کے کہ وہ خرچ کرتے ہیں مالوں اپنے سے پس نیک بخت عورتیں فر ما بردارہیں نگہبانی کرنے والی ہیں بیچ غائب کے ساتھ محافظ اﷲ کے۔ سورۃ النسآء آیت۳۴۔ اﷲ تعا لیٰ نے خاندگی شیرازہ بندی کے لیے مرد کو گھر کا قوام(نگران،ذمہ دار)قرار دیا ہے عورت کوصنف نازک ہونے کی وجہ سے اس کے ماتحت رکھا مرد کو طبعی طور پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ گھر کے اخراجات نان ونفقہ سمیت سب پورے کرے اور بیوی کی زمہ داری کیا ہے ایک حدیث کے مطابق اچھی بیوی وہ ہے جس کو دیکھ کر شوہر خوش ہو اور اپنے شوہر کے حکم کی اطاعت کرے اور اس کی عد م موجودگی میں گھر مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے اس طرح دونوں کو اپنا اپنا مکام دیا مرد کو عورت کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر اورعورت کو گھر مال عزت و آبرو کی حفاظت کا۔اور ان میں خیانت نہیں کرنی اگر کوئی کرے گا تب بھی دوسرے سے پوچھا جائے گا آپ نے اپنا فرض پورا کیا ہر ایک نے اپنا حساب دینا ہے فرائض کا الگ اور حقوق کا الگ۔اب ہم اپنی زندگیوں میں دکھیں کیا ہم نے ان کو اصلی حسن دیا جب ایک چیز ہمارے پاس موجود ہے تو پھر اس کو چھوڑ کر مسنوئی خوشیوں کے پیچھے کیوں پڑے ہیں اسی وجہ سے ہمارے احساسات اور تعلقات کمزور پڑ گئے جس کو پریکٹیکل لائف کا نام دیتے ہیں اسی سے خوشیاں برباد ہو رہی ہیں۔ ان کو کیسے روکا جائے سوشل میڈیا کے تما م بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ ان حالات سے اپنی قوم کو نکالیں تبدیلی کا آغاز آپ لوگ کریں عوام کو سادگی کی اہمیت سے آگاہ کرائیں کیونکہ یہ قوم آپ لوگوں کے پیچھے چلنے والی ہے برانڈ مافیاجیسی مرض سے نجات دلواکر حقیقی زندگی کا رنگ واپس لاکر شکریہ کا موقع دیں۔(قیامت کے روز )وہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی ضرور اٹھائیں گے ،اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ ( سورۃ العنکبوت، آیت ،۱۳)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kaneez Battol Khokhar

Read More Articles by Kaneez Battol Khokhar: 3 Articles with 916 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jan, 2019 Views: 216

Comments

آپ کی رائے