یہ عالَم شوق کا دیکھا نہ جائے

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

یہ شوق دیکھا بھی جا رہا ہے اور لکھا بھی جا رہا ہے اور پڑھا بھی جا رہا ہے اور دن بدن بڑھتا بھی جا رہا ہے اور یہ شاعری سے شروع ہوا تھا اور اب تحریر تک جا پہنچا ہے اور اب شاعری کی طرح تحریر میں بھی آمد ہونے لگی ہے اور اس کا اسٹارٹر جیسے کسی ہوٹل میں سوپ ہوتا ہے اور کہیں تو ایسا اسٹارٹر ہوتا ہے کہ اسی سے طبیعت سیر ہو جاتی ہے اور شکر کہ تحریر کا محرک اشتہا کو قائم رکھتا ہے اور ختم کر کے ہی دم لیتا ہوں اور پھر دم سادھ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ اب کمنٹ کیسا آتا ہے کہ اس سے دم نکلے یا اس پر دم نکلے ورنہ تحریر پر دم کرانا لازم ہو جاتا ہے اور کسی تحریر پر تو قاری کی طرف سے واجبی سا لائک کا ہاتھ پھیر دیا جاتا جیسے کسی بکرے پر حلال ہونے سے پہلے اور دم بھر کے لیے خوشی آکر چلی جاتی ہے اور کبھی ایسا کمنٹ کہ انسان دم بخود رہ جاے اور یقین نہ آنے اور پھر سے اپنی تحریر پڑھے اور لگے کسی اور نے لکھی ہے اور ایسا کمنٹ شوق کو اور بڑھاتا ہے ساتھ میں شرمندگی بھی کہ ظرف سے زیادہ تعریف ہو گئ مگر پھر شکر کرتا ہوں مالک کا جس کے کرم سے کرم ہوتا ہے اور پھر تحریر پھر سے دما دم جاری ہو جاتی ہے اور پہلے تو ایک خاص وقت ہوتا تھا جو خاص طور پر رات کا تیسرا پہر ہوتا تھا مگر اب تو کچھ پتہ نہیں کب آمد ہو جاے اور اکثر دفتر سے واپس آتے ہوے گاڑی میں ہی آمد شروع ہو جاتی ہے گھر آمد سے پہلے اور پھر گاڑی روک کر کسی قریبی ریسٹورنٹ میں چاے کا آرڈر دے کر بیٹھ جاتا ہوں اور موبائل کی نوٹ بُک پر لکھنا شروع کر دیتا ہوں اور ختم کیے بغیر چین نہیں ملتا اور جو چین کبھی دیتے تھے شرمیلے نین وہ دیتے ہیں اب بے باک تحریر کے فین جو تلاش کریں کچھ سطور کے بَین اور تعلق شاعری کے دو مصرعوں کے مابین اور ہوتی ہے یہ خدا کی دَین
اور اس کا محرک اچانک مل جاتا ہے کوی موبائل کی پوسٹ کسی کا رویہ کوی پرانی یاد کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کمنٹ بھی غیر متوقع طور پر ناہموار یا پسندیدہ مگر انتظار رہتا ہے اور قاری کا کمنٹ کیسا بھی ہو بڑی اہمیت کا حامل اور جس میں حوصلہ افزای شامل اور اصلاح کا عامل اور کوی نہیں ہے کامل

کچھ حال کے کمنٹ یہ ہیں کہ
۱ آج کی تحریر مشکل اور اُلجھی ہوی ہے

۲ بہت ہی عمدہ اور منفرد تحریر ہے

۳ سچ کہا

۴یہ ایسا نہیں بلکہ ایسا
ہے اور ساتھ میں کوی شعر

اور ایک نے تو بس ہلا کے رکھ دیا اور کبھی اپنے آپ کو دیکھتا ہوں اور کبھی اس کمنٹ کو
۵ بہت ہی شاندار تحریر ہے
اور لکھنے والے سمجھدار اور عقل مند ہاتھوں کو اپنی کم عقل اور ناسمجھ بہن کے ہاتھوں داد وصول کریں اور خدا آپ سے راضی ہو آمین

ویسے تو مفت کی دعا کس کو اچھی نہ لگے مگر میں یہ سوچ رہا تھا کہ سمجھدار بھای کی حقیقت تو بس وہ جانے اور خدا جانے
میں نے بھی شکریہ ادا کر کے لکھ دیا کہ
اتنی اچھی بہن کا اتنا اچھا کمنٹ اور ایسی ناسمجھی پر کئ سمجھداریاں قربان

ایک نا سمجھ قلم کی طرف سے جسے خود علم نہیں کہ کیا لکھ رہا ہے اور کیوں لکھ رہا ہے

اب اس کے بعد لکھنا کیسے چھوڑ سکتا ہے کوی اور جب کہ دلچسپی بھی موجود ہو اور بفضلِ خُدا جو محبت کرنے والا ودُود ہو اور محرر نومولود ہو اور بن دیکھے قاری کی محبت اور میری ان سے رغبت اور کچھ عزیز اور دوستوں کی شفقت جنہوں نے سب سے پہلے حوصلہ افزای کی

اور کچھ قاریوں کا نام تو اصلی ہوتا ہے اور کچھ نے فرضی نام رکھے ہوتے ہیں فیس بک پر اور بڑے دلچسپ ہوتے ہیں جن میں کچھ یہ ہیں
لاڈلی جان
گُم سُم دل
اُداس نگر کا شہزادہ
بنتِ حوا
خاک زادی
وغیرہ وغیرہ

اور پیغام اس طرح پہنچتا ہے کہ
" اُداس نگر کا شہزادہ نے پسند کیا
اور میں بھی جواباً کہتا ہوں کہ
"خوشی نگر کی رعایا کا سلام "
میرے لیے یہ نئ بات تھی اور تحریر سے پہلے میں فیس بک اور واٹس ایپ ان پڑھ تھا اور پڑھا لکھا ہوے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے

تحریر میں لکھتے وقت اتنا محو ہو جاتا ہوں کہ اس
دوران اتفاق سے کوی آے اور بات کرے تو سنتا بھی ہوں اور جواب بھی دے دیتا ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ سوال کیا تھا اور جواب کیا دیا مگر میرا لا شعور شائد صحیح جواب دے دیتا ہے اور ایک بار ریسٹورینٹ میں بیٹھا لکھ رہا تھا تو برابر والی ٹیبل پر کوی سالگرہ مناتے لوگ ہونگے ان میں سے ایک خاتون نے کہا
ماچس ہو گی آپ کے پاس ؟

لاشعور نے فوراً جواب دیا

جی جی !!

حالانکہ نہ سگرٹ کا شوق ہے اور نہ ماچس تھی
اب کہہ کر پھنس چکا تھا اور اپنا کہا ہوا مجھے بہت عزیز ہوتا ہے اور اس کو پورا کرنا کچھ قدرتی غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے اور اسی لیے بہت سوچ سمجھ کر کہتا ہوں اور اب کہہ چکا تھا تو بھاگا بھاگا باہر گیا رکشے والے کھڑے تھے جنہوں نے کہا ہمارے پاس تو نسوار ہے اج سگرٹ کی جگہ یہ ٹرای کر لیں
خیر ایک کے پاس نکل آی اور اور اس نے دے دی اور پیسے نہیں لے رہا تھا تو زبردستی دے کر واپس آیا اور ان کو دے کر پھر لکھنے بیٹھ گیا

میں نے سوچا کسی کا چھوٹا سا کام کرکے بعض وقت اتنی خوشی کیوں ہوتی ہے جو شاید بڑی خواہش کے پورا ہونے سے بھی نہیں ہوتی یہ کیا راز ہے؟
اور وہ ایک رکشہ والے کی مزاح کی حس اور دوسرے کا محبت سے کچھ دینا اور پیسے لینے سے انکار اور میرا اسرار اور یہ محبتیں شہر کے ایک کونے میں ہو سکتی ہیں تو پورے شہر کو محبتوں میں پرویا جا سکتا ہے باوجود زبان اور کلچر کے فرق سے اور زاتی طور پر اس کے کتنے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں شخصیت اور طبیعت پر
اس پر یاد آیا ایک دفع کسی بات سے رنجیدہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک میری گاڑی کے سامنے ذرا فاصلے پر ایک رکشہ میں بیٹھی بچی نیچے گر گئ اچانک جھٹکہ کی وجہ سے جو کسی آگے والی گاڑی سے ٹکرانے کی وجہ سے تھا تو میں اتر کر گیا اور لوگ بھی آگئے وہ کچھ خوفزدہ ہو گئ تھی اور دوبارہ رکشہ میں بیٹھنے سے انکار کر رہی تھی اور منہ پر چوٹ بھی آی تھی تو میں نے اس کو بہن سمیت بٹھا لیا اور ایک راہ گیر خاتون رضا کارانہ طور پر بیٹھ گئیں ساتھ اس نے اتنی اپنایت سے کہا انکل ہمیں نانی کے گھر اتار دیں مگر باہمی مشورہ سے انہیں ہسپتال چھوڑا اور نانی وہیں آگئیں تو انہوں نے شکریہ ادا کیا اور میں جس بات پر رنجیدہ تھا وہ اداسی ختم ہو گئ اور دعا بھی مل گئ اور وہ بیچارے یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کوی نیکی کی ہے خدا ہماری آور ہمارے گھر والوں کی حفاظت فرماے

یا حافِظُ

بتانے کا مطلب یہ تھا کہ کچھ نیکیاں خود آپ تک چل کر آتی ہیں اور یہ خدا کی مہربانی کہ وہ آپ سے کوی کام لے لے اور مفت میں آپ کی غلطیوں کا اذالہ کر دے

اور کچھ آپ ضمیر کے جھنجھوڑنے پر کر گزرتے ہیں اور اکثر میں راہ چلتے ضمیر کے ہاتھوں پکڑا جاتا ہوں اور اس سے آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے کبھی وہ جیت جاتا ہے اور کبھی میں اسے چپکے سے سُلا دیتا ہوں اور دبے پاوں اپنی مرضی کے کاموں پر نکل پڑتا ہوں اور کبھی وہ جاگ جاتا ہے اور میرا جینا دوبھر کرتا ہے حالانکہ اسے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے دوسروں کی زندگی میں زبردستی داخل ہونا اور حکم چلانا اور اس دن بھی میں ضمیر صاحب کی ڈیوٹی میں تھا اور کچھ خدا کے نیک بندے بھی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اور کسی کو بھی ڈیوٹی پر لگا دیتے اور فرشتے تو مسلسل ڈیوٹی پر ہوتے ہیں

بات تحریر میں محو ہونے کی ہو رہی تھی تو اپنی پسند کے کام میں محو ہونے کے بڑے فائدے ہیں اور بہت سی نفسیاتی بیماریوں اور اُداسیوں کے علاج بھی ہیں تفریحی ہوں یا تعمیری ہوں اور کچھ خوش نصیب خدا کے زکر اور ایسی محفلوں میں محو ہو جاتے ہیں

مجھے لکھنے سے محبت ہو گئ ہے اور دعا ہے کہ لکھتا رہوں اور پہلے کی طرح نہ ہو کہ کچھ شوق تھے جو ادھورے رہ گئے میری ادھوری محبتوں کی طرح اور کچھ یوں جو فیض صاحب نے کہا تھا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام کو عشق سمجتے تھے
ھم جیتے جی مصروف تھے

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

عشق کام کے آڑے آتا رھا
اور کام سے عشق الجھتا رھا
آخر تنگ آ کر ھم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

اور یہ شوق قائم رہے اور ذوق سلامت رہے
اور یہ لکھنے کا کام ادھورا نہ رہے اور جاری رہے اور اس کا انجام اچھا ہو اور قلم چلتا رہے
نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْن
ن، قلم کی قسم ہے اور اس کی جو اس سے لکھتے ہیں

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 227 Print Article Print
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 207 Articles with 49677 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: