اوکاڑہ کی صحافت کی دنیا میں ایک اہم نام

(Tanveer Ahmed, Okara)

 میں شروع شروع میں صحافت کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ دراصل میر ا تعارف ان صحافیوں سے ذیادہ تھا جو ذرد صحافت سے منسلک تھے اور ان کا کام لوگوں کو معمولی باتو ں پر بلیک میل کرنا اور ان سے ہر ماہ ایک مخصوص رقم وصول کرنا ہوتا تھا۔ اس طرح کے صحافی آجکل بھی پائے جاتے ہیں اور بڑے زور وشور سے اپنے ہاتھ گرم اور لوگوں کی جیبیں خالی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ میں ایک ایسے صحافی کو بہت قریب سے جانتا ہوں جو انگوٹھا چھاپ ہے لیکن لوگوں کو بلیک میل کیسے کرنا ہے؟اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

مظہر رشید چوہدری سے میری پہلی ملاقات ان کی رہائش گاہ پر میرے ایک طالب علم منان رشید کے توسط سے ہوئی تھی جب 2004میں میں نے گورئمنٹ کالج آف کامرس اوکاڑہ میں پڑھانا شروع کیا تو کچھ طالب علموں نے مجھ سے کالج کے بعد پڑھانے کی درخواست کی اور منان نے مجھے بتا یا کہ ان کے گھر کا اوپر والا پورشن خالی ہے اور آپ وہاں پڑھانا شروع کردیں۔ اسی سلسلے میں میری پہلی مظہر رشید چوہدری سے ہوئی اس میٹنگ میں ان کی سسٹر مس صائمہ رشید ایڈوکیٹ بھی موجودتھیں ۔ چند ایک رسمی جملوں کے بعد مجھے وہاں پڑھانے کی اجازت مل گئی ۔وہاں پڑھانے کے دوران مجھے ماڈاMADAکے بارے میں پتہ چلااور مظہر صاحب کی انتھک کوششوں کے بارے میں بھی معلوم ہوا۔ اسی دوران مجھے اِن کی شادی میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ طبیعت کے لحاظ سے میں نے انہیں بہت سادہ انسان پایا۔ اکیڈمی میں کوئی خاص فرنیچر نہیں تھا اور میری ایک فیمیل سٹوڈنٹ نے مجھ سے اس لیئے پڑھنے سے انکار کردیا کہ وہ نیچے بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتی ۔ایک اور طالب علم کو اس بلڈنگ کی سیڑھیوں پہ اعتراض تھاجو سانپ کی طرح بل کھاتی تھی اور میں بھی ان کوپکڑ کر چڑھتا تھا۔ہر ماہ جتنا بھی حصہ میں نے مظہر صاحب کو دیا انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ شکریہ ادا کرکے ساتھ میں چائے بھی پلائی۔ان دنوں میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور میر ی بیگم کو میر ا دیر سے گھر آنا پسند نہ تھا ۔اس وجہ سے میں نے ٹیوشن پڑھانا چھوڑ دیالیکن گاہے بکاہے میر ی ملاقات منان اور حنان کی وجہ سے مظہر چوہدری سے ہوتی رہی۔ میں دیپال پور چوک کی ایک مسجد میں نماز پڑھتا تھا جہاں پر عبدالرشید میموریل اکیڈمی کا بورڈ لگا ہوا تھا جو شاید آج بھی لگا ہوا ہو اس کو دیکھ کر مجھے اپنی اوکاڑہ میں پہلی اکیڈمی یاد آجاتی تھی۔ان دنوں میں نے دیکھاکہ مظہر چوہدری کی ذیادہ تر توجہ اپنی NGOکی طرف تھی جس کا نام ماڈا ہے۔اس تنظیم کا بنیادی مقصدڈرگز کے خلاف جہادہے اور یہ تنطیم ورلڈ لیول پر تسلیم شدہ ہے۔ تقریباًمیر ی اوکاڑہ میں دس سالہ سروس کے دوران میر ی کسی نہ کسی ذریعے سے مظہر رشید چوہدری سے ملاقات ہوتی رہی اور ہمیشہ میں نے ان کو ہنس مکھ اور اپنا مددگار پایا۔ انڈر پاس سے گزرتے ہوئے میر ی نظر نہ چاہتے ہوئے بھی عبدالرشید میموریل اکیڈمی کے بورڈ پر پڑھ جاتی تھی ۔ اپنی مہران کار کو اکثر روک کر میں اس اکیڈمی کا بورڈ پڑھتا تھا۔ 2014میں مجھے دبئی جانے اور وہاں رہنے کا موقع ملا اور وہاں پر قیام کے چار سال میر ا ان سے کوئی رابط نہ رہا۔ وطن واپسی کے بعد جب میں پہلی بار اوکاڑہ گیا تو اچانک میری نظر اکیڈمی کے بورڈ پر پڑی ۔ میں مظہر رشید چوہدری سے ملاقات تو نہ کر پایا لیکن گھر واپس جاکر میں نے فیس بک پر ان کا نا م سرچ کیا تو پتہ چلا کہ اب وہ باقاعدگی سے اخبارات میں آرٹیکل لکھ رہے ہیں اور بہت سے اخبارات کے نامہ نگار ہیں اور نیوز چینلز کے ساتھ بھی کا م کررہے ہیں ۔ میر ی مظہر رشید چوہدری سے باقاعدہ ملاقات کا آغاز ا اوکاڑہ میں ای لائبریر ی کے قیام سے ہوا۔ لائبریری کے انچارج محترم ابراہیم وڑائچ کے سر اس بات کا سہر ا جاتا ہے کہ ان کے توسط سے ہماری ملاقاتو ں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا۔مظہر رشید چوہدری کی ذات میں میں نے وہی متا نت اور وقار دیکھاجو میں دس سال پہلے دیکھا تھا مجھے ان کے اندر کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ موٹیوشنل سپیکنگ کے دوران میر ے ذہن میں خیال آیا کہ مجھے بھی آرٹیکل رائیٹنگ کرنی چاہیے۔ مجھے لکھنے کا چسکا ساتویں جماعت سے ہی تھا ۔اس وقت میں بچوں کے اخبارات میں لکھتا تھا۔ لیکن یہ سلسلہ اس وقت ختم ہو گیا جب میڑک کے داخلہ ٹیسٹ میں میں چار مضامین میں فیل ہو گیا۔ اس دن سے میں نے لکھنا چھوڑ کر پڑھنا اور پھر پڑھانا شروع کر دیا۔جب دوبارہ لکھنے کی خواہش نے سر اٹھایا تو میں نے مظہر رشید چوہدری کے گھر کے باہر موجود تھا۔ کئی بار گھنٹی بجانے پر کوئی باہر نہ آیا تو باہر لگے ہو ئے بورڈ سے موبائل نمبر لے کر میں گھر واپس آگیا۔ اگلے دن فون کیا اور جواب ملنے پر ان کے گھر پہنچ گیا ۔ سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر گیا ۔ اب وہ خم دار سیڑھیاں اتنی خطرناک نہ تھیں ۔ اپنا مدعا سنانے پر مظہر صاحب نے مجھے اپنا ای میل آئی ڈی لکھ کر دیا اور کہا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے وہ لکھ کر اس آئی ڈی پر بھیچ دیا کریں۔ میں نے کہا کہ آپ ایک نظر میر ی تحریروں کو دیکھ لیا کرنا اور کوئی تجویز ہو تو بتا دینا اس پر انہوں نے کہا کہ میں آپ کی تحریر میں کوئی تبدیلی نہیں کرونگا صرف میں اس کو اپنا آئی ڈی لکھ کر آگے فارورڈ کر دونگا ۔اور انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ میرا پہلا کالم تقریباً بیس اخبارات میں شائع ہوا۔ اس کی تصویریں بھی مجھے انہوں نے بھیجیں۔

میری اپنی ذات کے علاوہ بھی مظہر رشید چوہدری کی ذات میں وہ خوبیا ں ہیں جو مجھے انسپائر کرتی ہے۔میں نے آج تک کسی شخصیت پر کالم نہیں لکھا لیکن میں ان کی ذات پر کالم لکھنے کے لیئے مجبور ہو گیا ۔ یہ سب ان کی بے جا تعریفیں نہیں ہیں اگر آپ میں سے کسی بھی قاری کا ان سے ملنے کا اتفاق ہو ا ہو تو آپ میر ے ساتھ اتفاق ضرور کریں گے۔زیادہ تر آپ سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں اور ان کی تحریروں میں اعدادوشمار کافی ذیادہ ہوتے ہیں۔مجھے نہیں یا دکہ ان کا کوئی بھی کالم بیس سے کم اخبارات میں چھپا ہو ۔ کالم نگاری کے علاوہ ان کی رپوٹنگ بھی کمال کی ہے۔ ہمیشہ سچ کہا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہا۔ دوسروں کی مدد کی لیکن لوگو ں نے ان کی کبھی مدد نہ کی۔ اچھی شخصیا ت کی تعریف اگر ان کی زندگی میں ہی کر دی جائے اور ان کے کاموں کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑی بات کوئی نہیں۔عہدے ہونے کے باوجود سادگی ان کا طرح امتیا ز ہے۔ ایف ایم پر بھی حالات حاضرہ پر جناب اعجاز علی صاحب کے ساتھ کافی عرصہ پروگرام کرتے رہے۔ چند دنوں پہلے مجھے ان کے ساتھ تین چار ردیڈیو پروگرام کرنے کا بھی اتفاق ہوا جس میں معروف موٹیوٹر عثما ن ہا دی بھی موجو د تھے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اچھا کالم نگار کیسے بنتے ہیں تو انہوں نے بتا یا کہ جو دل میں آئے وہ لکھو اور جو بھی لکھو سچ لکھو۔ ہم دوسروں کے بار ے میں تو سچ سننا چاہتے ہیں لیکن اپنے بارے میں سچ سننا نہیں چاہتے۔ ایک اچھا صحافی وہی ہے کہ جو اس کے اندر ہو وہی باہر ہو ۔ جو دل سے لکھتا ہے اسے لوگ دل سے پڑھتے ہیں اور وہ لوگو ں کے دلوں میں رہتا ہے۔ یقینا مظہر رشید چوہدر ی کا شما ر اسی قسم کے لوگو ں میں ہوتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 268 Print Article Print
About the Author: Tanveer Ahmed

Read More Articles by Tanveer Ahmed: 60 Articles with 24137 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: