کراچی ایک تجرباتی شہر!

(Arshad Qureshi, Karachi)

اس شہرِ قائد پر قائد کے انتقال کے بعد سے ہی تجربات شروع کردیئے گیے تھے جو سلسلہ اب تک جاری ہے اس شہر کی ملک کے دارلحکومت کی حیثیت ختم کرنے سے لے کر آج شاہراہ فیصل پر موٹرسائیکل ٹریک کے نشان بنانے تک اتنے تجربات کیئے گئے ہیں کہ جس نے اس شہر کو روشنیوں کے شہر سے ایک تجرباتی شہر بنا کر رکھ دیا ہے۔
 


اس شہر میں کئی آپریشن کے تجربات کر کے آپریشن در آپریشن کیئے گئے لیکن یہ شہر اب تک مکمل صحت یاب نہ ہوسکا ۔ مقامی حکومتوں کا قیام ، سٹی مئیر، ناظم ِ شہر، خدمت کمیٹیاں، سرکلر ریلوے کی بندش اور کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے قیام سمیت نہ جانے کیا کیا تجربات کیئے گئے ۔ اس شہر میں کچھ عرصے قبل موٹر سائیکل سوار شہریوں کو ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا جو نہایت اچھا قدم ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو قابلِ شرم امر ہے کہ جو چیز ہمیں خود احتیاطی تدابیر کے تحت اختیار کرنی چاہیے وہ بھی ہم سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کروا رہے ہیں اس پر عمل درآمد کرانے کے لیئے بھی اس شہر میں نیا تجربہ کیا گیا کہ پیٹرول پمپوں کو پابند کیا گیا کہ اگر کسی بھی موٹر سائیکل سوار جس نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہو اگر اسے پیٹرول دیا گیا تو اس پمپ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کو آسان لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ پیٹرول پمپس کو یہ بات باور کرائی گئی کہ اگر شہریوں نے موٹر سائیکل سواری کے دوران ہیلمٹ نہیں پہنا تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

آج کل اس شہر کی اہم اور مصرف ترین شاہراہ ِ فیصل پر موٹرسائیکل کا علیحدہ ٹریک بنانے کی خاطر پوری شاہراہِ فیصل کے بائیں جانب کلر کر کے موٹرسائیکل کے ٹریک کی نشاندہی کردی گئی لیکن نہ ہی کبھی موٹرسائیکل سواروں نے اس ٹریک پر چلنے کی زحمت کی نہ ہی ٹریفک پولیس نے انہیں اس ٹریک پر ہی چلنے کے لیئے پابند کیا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں روپے خرچ کرکے جو یہ نیا تجربہ کیا گیا اس کے نشانات مٹنا شروع ہوگئے لیکن اس کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا اس پر عمل نہیں ہوا۔

چند سال پہلے اس شہر پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تحت کئی مکانوں کو نوٹس جاری کیئے گئے کہ آپ کا مکان اس کے منظور شدہ نقشے کے مطابق نہیں جو ادارے کی جانب سے منظور کیا گیا ہے اس وجہ سے جو بھی جگہ نقشہ کے علاوہ باہر نکال دی گئی ہے وہ غیر قانونی ہے اسے قانونی بنانے کے لیئے مکان کے نقشہ کے ساتھ تجاوز کی گئی جگہہ قانونی بنانے کی درخواست دی جائے اس کے بعد لوگوں کو چالان بنا کردیئے گئے اور فیس جمع ہونے کے بعد ان تجاوز کی گئی جگہوں کو قانونی قرار دے دیا گیا ۔ جن پر آج کل گرانے کا بہت شور شرابا ہے۔
 


قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس ادارے سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جارہی ہے جس نے غیرقانونی تعمیرات کو قانونی قرار دیا اس کے برعکس ان کو ناجائز تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔اس طرح کے اس شہر میں نت نئے بے شمار تجربات کیئے گئے جن میں زیادہ تر ناکام ہی ثابت ہوئے لیکن افسوس کہ کبھی سنجیدگی سے اس شہر کے مسائل کے حل کے لیئے عملی طور وہ کام نہیں کیئے گئے جو اس شہر کا حق ہے ۔

کاریں چوری ہونے اور چھیننے کے واقعات کا سدِ باب نہیں کیا گیا بلکہ کاروں میں ٹریکر لگانے کی حوصلہ افزائی کی گئی اب شنید یہ بھی ہے کہ موٹر سائیکلوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں کو روکنے میں ناکامی کے بعد ان میں ٹریکر نصب کرانے کا مشورہ دینے کا سوچا جارہا ہے ۔

اس شہر نے وہ وقت بھی دیکھا جب مقامی اور صوبائی حکومتوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پیش نظر شہریوں کو اپنی حفاظت آپ کے تحت محلہ کمیٹیاں بنانے کا مشورہ دیا جس کے بعد اس شہر کی گلی کوچوں میں بڑے پیمانے پر گیٹ اور رکاوٹیں لگنے شروع ہوئے جن سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی اس کے بعد ان ہی کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور گلیوں میں نصب گیٹ اور رکاوٹوں کو بھی غیر قانونی قرار دے کر ہٹا دیا گیا ۔

اس تجرباتی شہر کی اس سے زیادہ بد نصیبی کیا ہوگی جہاں جگہ جگہ بورڈ لگے ہیں کہ شہر قائد کو صاف رکھیں اور صفائی نصف ایمان ہے اس شہر کا کچرا بھی اس شہر کے ادارے نہ اٹھا سکے اور اس شہر کے کئی علاقوں میں کچرا اٹھانے کا انتظام بھی چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا ۔کبھی اس شہر کو پرانا نام دینے کی بات کی جاتی ہے تو کبھی اس شہر کو چالیس سال پرانا شہر بنانے کی بات کی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم ترین اداروں کے صدر دفاتروں کو یہاں سے منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے ۔
 


آج بھی اس شہر پر کئی دہائیوں تک حکمرانی کرنے اور مضبوط گرفت رکھنے والی پارٹیاں اب بھی اقتدار میں ہونے کے باوجود اس شہر کے بنیادی مسائل کے حل کی خاطر سر جوڑ کر بیٹھنے کے بجائے آپس میں دست و گریباں ہیں ایک معمولی سی بارش اس شہر کو مفلوج کردیتی ہے ۔آج بھی روشنیوں کے اس شہر میں بار بار بجلی کے بریک ڈاون ہوتے ہیں ، آج بھی شہر کی اہم شاہراؤں اور گلی محلوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں ۔آج بھی اس شہر کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں آج بھی ملک کا معاشی حب کہلانے والے اس شہر میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات کا فقدان ہے ، اب نہ جانے اس شہر میں مزید کتنے تجربات کیئے جائیں گے نہ جانے کب اس شہر کے باسیوں کے مسائل حل ہونگے ،جو شہر ملک کا معاشی حب ہو، جس شہر میں ملک کے بانی ابدی نیند سورہے ہوں ، جو شہر روشنیوں کے شہر کے نام منسوب ہو اس کو تو ملک کا ایک مثالی شہر ہونا چاہیے اس پر تو خصوصی توجہ دینی چاہیے اس کے لیے تو تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنے چاہیئے اس کے شہریوں کو تو تمام بنیادی سہولیات میسر ہونی چاہیے ، لیکن افسوس وہ شہر مسلسل تنزلی کا شکار ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1908 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

ارشد صاحب
بہت عمدہ
By: Syed Musarrat Ali, Karachi on Feb, 04 2019
Reply Reply
0 Like
Language: