مائے نی میں کنوں آکھاں

(Iftikhar Chaudhry, )

تڑاخ تڑاخ تڑاخ کی آوازیں آئیں میں بخار سے پھنک رہا تھا عنبر نمبر ۳ کے دروازے بند ہونے کی بڑی مکروہ سی آواز جانی پہچانی دن میں کوئی تین بار یہ دروازہ کھلتا ناشتے دوپہر کے کھانے اور رات کے بھوجن کے لئے۔کبھی کوئی نیا قیدی آتا تو دروازہ وا ہوتا۔یہاں جس بیرک میں مجھے بند کیا گیا تھا یہ در اصل جدہ کے پرانے ائر پورٹ کا حصہ تھا کسی زمانے میں جدہ کا بین الاقومی ایئر پورٹ یہیں تھا ۱۹۷۷ میں جب خوابوں کی گٹھڑی اٹھائے بہت سے پاکستانی عروس البلاد احمر جدہ میں روزی کی تلاش میں آئے تو اسی ائر پورٹ پر اترے۔ان دنوں عمرے کے ویزے پر ان گنت افراد یہاں پہنچے سعودی عرب میں مدت دراز سے تیل نکل رہا تھا لیکن تیل کو بطور ہتھیار ۱۹۷۵ میں شاہ فیصل کے زمانے میں استعمال کیا گیا آنا فانا تیل کی قیمتیں زمین سے آسمان کو پہنچ گئیں۔شاہ فیصل تو شہید کر دئے گئے لیکن دولت کا ایک سیلاب سعودی عرب میں آیا۔ہمیشہ کی طرح غریب ملکوں کے لوگ جائز ناجائز طریقوں سے سعودی عرب پہنچے۔ان میں مسلمان عمرے کے ویزہ لے کر ارض حرمین پہنچے ان لاکھوں میں ایک میں بھی تھا۔گجرانوالہ کے شاہ بک ڈپو کی وساطت سے کئی ہاتھوں بکتا میں بھی ۲۵ جولائی ۱۹۷۷ کو جدہ پہنچ گیا۔کیسے پہنچا کون لوگ میرے میز بان بنے یہ کہانی پھر سہی میں تو آپ کو پچیس سال بعد کی کہانی بتانے جا رہا ہوں۔سعودی عرب میں کچھ عرصہ پہلے کوئی بیس لاکھ پاکستانی رہتے تھے۔پاکستانی کیا دنیا کا کوئی بھی ملک پردیس میں اتنی بڑی تعداد میں رہے تو اس کا مقام مقامی لوگوں کے سامنے کیا ہو گا۔عارف کھڑی شریف رومی ء کشمیر میاں محمد بخش گوجر نے کیا خوب تشبیہ دی اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی پردیسی کا وزن ککھ سے بھی ہولا ہوتا ہے۔یعنی پر کاہ یعنی گھاس کے ایک پر سے بھی ہلکا۔آج ویسے ہی یاد آ گیا۔سردی ہو اور جھڑی لگی ہو تو وہ دن ضرور یاد آتے ہیں جو آپ کے ذہن پر اثرات چھوڑ گئے ہوتے ہیں جب خاص طور پر آپ پردیسی رہے ہوں یا آپ کے بچے پرائے ملک رہتے ہوں تو دل تو تڑپتا ہے۔میں نے ساری زندگی کوشش کی کہ جس کا کھایا اس کا گن بھی گایا۔سعودی عرب تو بہت اچھا ہے تم نے میرے جیسے ان گنت لوگوں کے مقدر بدلے۔جب کوئی اور تمہارے بارے میں برا کہے تو یقین کرو جی چاہتا ہے اس کا منہ نوچ لوں ماں مارے پر مارنے نہ دے۔
میں ۲۰۰۲ کے ان برے دنوں کو جب یاد کرتا ہوں تو زمین پاؤں کے نیچے سے سرکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔مجھے مشرق واطی میں رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے دکھوں کا احساس ہے۔جن مشکل حالات سے وہ گزر کر آئے ہیں مجھے علم ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کو اگر آپ ہی ترازو میں تولیں تو اس سے بڑی کوئی زیادتی نہ ہو گی۔یورپ کے پاکستانی کا دکھ اور ہے اور مشرق وسطی کے پاکستانی کا دکھ اور۔یورپین پاکستانیوں نے بھی بڑی تکلیفیں سہی ہوں گی مگر ان کو ایک مدت تکلیف کے بعد معاشرے میں مقام مل گیا انہیں پاسپورٹ مل گئے انہی انسانی حقوق ان ملکوں کے لوگوں کے برابر مل گئے۔لیکن سعودی عرب خلیجی ریاستوں کے لوگوں کو کچھ نہیں ملا پہلے دو سال بعد کفیل کے دروازے پر جانا پڑتا تھا اب سال کے سال۔جو کماؤ وہیں لگاؤ۔موجودہ دور میں جو ٹیکسز لگائے گئے ہیں اس سے بے شمار پاکستانی سعودی عرب سے چلے گئے ہیں۔ان کے دکھ کسی نے محسوس نہیں کئے اور نہ کوئی جاننا چاہتا ہے۔اس لئے کے لینے والا ہاتھ دینے والے ہاتھ کے نیچے رہتا ہے۔

۲۰۰۲ میری زندگی کا بھیانک سال تھا اس لئے نہیں کہ میں سعودی عرب کی ترحیل جیل میں گیا اس لئے کے بے گناہ گیا اور اس کے اتنے برے اثرات میری اور پورے خاندان کی زندگی پر پڑے جس کو سترہ سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بھی نہیں بھلا سکا۔میرے ایک دوست کالم نویس ہیں اور اینکر بھی پچھلے برسوں میں اس موضوع پر بار بار بات ہوئی تو کہنے لگے چودھری صاحب اب تو سعودی عرب سے پاکستانیوں کے جبری انخلاء کی بات تو آپ کی چھیڑ بن گئی ہے۔ایک اور لاہوری بھائی کا بھی یہی خیال ہے۔بھولے بادشاہ ہیں یہ لوگ جب کسی یاد کے ساتھ آپ کی ماں موت جڑی ہو یا کسی کے باپ کا اچانک چلے جانا تو بات تو بیٹوں کو ہی یاد رہے گی۔چھوٹا سا تھا بیٹری سیل والے ریڈیو پر نسیم بیگم کا یہ گانا لگتا تھا۔دکھی دل دا حال کی جانن لوگ بیگانے جدا دل ٹٹ جائے جدی گل مک جائے جنہوں چوٹ لگے او جانے۔یہ بات رحیم یار خان کے عظمت نیازی،باغبانپورہ گجرانوالہ کے افتخار چودھری جو اس بھیانک واقعے کے بعد نہ تو نلے کا رہا اور نہ ہی باغبانپورے کا۔کوئی گگھڑ منڈی کے شہباز دین بٹ سے پوچھے آفتاب مرزا،نعیم بٹ،خواجہ امجد سے۔در اصل دکھ اپنا ہی دکھ ہوتا ہے۔ویسے بھی کہا جاتا ہے دنیا کا سب بڑا رنج اپنا رنج ہوتا ہے۔یقین کیجئے جب لوگ یہ کہتے ہیں مجھے اپنے دکھ میں برابر کا شریک سمجھیں تو میرے نزدیک ایک بڑے جھوٹ سے کم نہیں۔کون برابر تولتا ہے۔میرے دوست کا خیال ہے کہ کون پڑھے گا آپ کی بپتاء کو۔لیکن میں اپنوں میں رہتا ہوں جو میرے جیسے ہیں ہو سکتا ہے کہ میں اپنے معتبر دوست کے حلقہ ء احباب میں کچھ بھی نہ ہوں۔لیکن اگر ضیاء شاہد جیسے لوگ میری تحریروں پر شاباشی دیتے ہیں تو میرے لئے کافی ہے۔
یہ لوگ کیوں جیلوں میں گئے اور کیسے گئے۔جی چاہتا ہے ان پر ایک کتاب لکھوں۔میاں نواز شریف،جنرل مشرف،جنرل اسد درانی یہ وہ تین بڑے کردار ہیں جو اس ٹریجڈی فلم کے تخلیق کار ہیں۔نواز شریف جیل میں ہیں یہ ۲۰۰۲ کے ان دنوں کی بات ہے جب وہ اٹک قلعے سے جدہ کے سرور پیلس جیل میں گئے تھے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ آزاد تھے۔مجھ سے زیادہ ان کے ان ایام کو شائد ان کی فیملی،ڈاکٹر سعید الہی یا چند اور لوگ جانتے تھے جن میں ارشد خان،قاری شکیل اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔یا پھر لاہور میں ایک شخص سہیل ضیاء بٹ رہتا ہے،کیپٹن صفدر کا کہہ لیں۔مجھے علم ہے کہ میاں صاحبان کی آزادی کتنی تھی عیاشی کا لیول کیا تھا۔اﷲ کسی کو مقید نہ کرے۔ایک محدود پنجرے میں بند لوگوں کو کوئی یہ کہے کہ وہ آزاد تھے تو غلط تھا ہاں البتہ اٹک قلعے سے بہتر تھے۔اور ہو سکتا تھا کہ ایک جعلی کیس کی بنیاد پر انہیں بھی مشق ستم بنا دیا جاتا۔جس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی گردن لمبی کر دی گئی وہاں نواز شریف کیا تھے۔ان لوگوں کا کیا قصور تھا قاری شکیل،مرزا آفتاب،عظمت نیازی اور چند لوگ ترحیل میں بند کر دئے گئے۔ترحیل رحلہ سے ماخذ ہے جہاں سفر کرنے والوں کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے انگریزی میں ٹرانزٹ کیمپ بھی کہتے ہیں۔یہاں کہ لوگ مختلف بیرکوں میں بند اپنے پاسپورٹوں یا کاغذات کا انتظار کرتے ہیں۔پاکستانی قونصل خانے کے لوگ ان کی سفری دستاویزات تیار کرتے ہیں اس دوران انہیں بند رکھا جاتا ہے۔میں کالم کے شروع میں تڑاخ تڑاخ کی آواز کی بات کی تھی ۔اس شیڈ میں آئے چند دن ہی گزرے تھے کہ سعودی شرطے جو ہٹے کٹے تھے ایک خوبصورت پٹھان نوجوان کو مارتے ہوئے اندر لائے اس کی قمیض پھٹ چکی تھی۔سفید بدن پر سرخ نشانات نظر آ رہے تھے۔جوان کے منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا اور کنڈ سے بھی۔زندگی میں بزدلی کا جو مظاہرہ میں نے کیا مجھے اس پر افسوس رہے گا۔عنبر کے اندر کوئی چالیس لوگ تھے سب میری طرح بزدل۔جب وہ اب جہل کی اولاد پٹھان کو مار مار کر ادھ موء ا چھوڑ گئی تو بدلوں کی ٹولیاں اس سے پوچھنا شروع ہو گئیں کہ ہوا کیا؟اس نے بتایا مجھے میرے کفیل نے دس ماہ تک تنخواہ نہیں دی میں موقع پا کر بھاگ نکلا لیکن بد قسمتی میں چیک پوسٹ پر پکڑا گیا وہاں پولیس والے نے مجھے میرے کفیل کے بارے میں پوچھا اس سے تلخی بڑی جس سے مار پیٹ تک نوبت پہنچی۔یہاں آیا تو موقع پا کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن سیڑھی پر چڑھنے سے پہلے ہی دھر لیا گیا۔سترہ سال گزر گئے میں اس پٹھان نوجوان کو آج بھی اپنی آنکھوں کے سامنے پاتا ہوں۔آج بھی کفیل اسی طرح ان سے بیگار لیتے ہیں آج بھی لوگوں کو تنخواہیں نہیں ملتیں۔سوچتا ہوں کہ ہم نے پاکستانیوں کو خواب دلائے ہیں کہ آپ کے پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔یقینا عمران خان میرا لیڈر وہ عزت دلا کر رہے گا۔لیکن عربوں سے اربوں لینے کے بعد کیا ہم احترام عزت اور وقار کی امداد لے پائیں گے۔میری اور میرے دوستوں کی کہانی گزشتہ کئی سالوں سے زندہ ہے کیا آپ کو علم ہے کہ جب جنرل اسد درانی سے کسی نے پوچھا آپ نے پاکستانی پکڑوائے کیوں؟تو اس کا جواب تھا میں نے نہیں پکڑوائے۔ہماری حکومتیں گونگی اور بہری حکومتیں کیا اب بھی اسی طرح کے سفیر لگائیں گی۔یونان کا ایک نامور پاکستانی اس ملک میں لگائے گئے سفیر کی زیادتی کا شکار ہے۔وہ ای سی ایل پر ہے۔اس نے کیس کیا وہ پاکستان سے یونان اپنے کاروبار پر واپس جانا چاہتا ہے لیکن ہماری ایف آئی اے عدالتی فیصلے کے بعد بھی اسے کلیئر نہیں کر رہی۔

چینج جسے تبدیلی کہتے ہیں حضور بندے بدلیں گے تو تبدیلی آئے گی۔جناب شاہ محمود قریشی صاحب مڈل ایسٹ میں مقیم پاکستانی بھائی چاہتے ہیں کہ ان کے سفیر وہ ہوں جو ان کے دکھ درد کے ساتھی ہوں۔اگر یہی وزارت خارجہ جو آمروں کو سلام پیش کرتی رہی اور ان کی آلہ کار بنتی رہی اسے ہی آپ سفارت کی کرسی پر براجماں رکھیں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی۔ایک بھاشن اور ایک تقریر سے یہ لوگ سدھرنے والے نہیں اکھاڑ پچھاڑ کریں۔آپ میرے لیڈر بھی ہیں دوست بھی ساتھی بھی مجھے ہنسی آتی ہے ایک بھاری بھرکم نوجوان کو وزارت خارجہ کی انتہائی اہم ذمہ داری پر دیکھ کر وہ اب تبدیلی کا نقیب ہے ۔برسوں پہلے جب جدہ میں گیا تو قونصلیٹ میں اس سے اس بات پر جھڑپ ہو گئی جب میں نے ڈکٹیٹر کے آلہ کار جرنیل سفیر کی کلاس لی۔بہر حال جو حشر میں نے کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے لوگوں کو جیلوں میں بند کروانے والوں کے طرفدار کیا بدلیں گے۔

سعودی عرب کے کارکنوں کی ترجمانی کرنے کے لئے جناب وزیر اعظم اسے چنیں جو ان کے دکھ جانتا ہو۔یہاں کے لوگ کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔سید ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری بہت اچھے ہوں گے لیکن جناب انہیں خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے پاکستانیوں کی حالت زار کا علم نہیں ہے۔میں ان پسے ہوئے محروم پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو مدتوں سے کفیل گردیوں کا شکار ہیں اور آہ بھی نہیں کرتے۔انگریز میں کہتے ہیں کوئی لنچ مفت نہیں کراتا۔سعودی عرب کو جو لنچ ہم کرا رہے ہیں اس کے بدلے میں ڈالروں کے ساتھ عزت نفس اور احترام بھی مانگ لیجئے۔اس لئے کہ پھر کوئی درانی انہیں جیل میں بند کرا دے گا اور پھر کسی کی ماں یا باپ مرے گا۔تڑاخ تڑاخ تڑاخ کا شکار پاکستانیوں کا دکھ بانٹیں۔مائے نی میں کنوں آکھاں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 202 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 381 Articles with 121853 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Language: