عوام کو بچانا ہے تو واپڈا کو پرائیوٹ کر دو

(Syed Maqsood Ali Hashmi, )

آؤ ہر دفتر سے حرام کھانے والے حرامی مکائیں۔ ا ﷲ سے ڈرنے والوں کی اسی دفتر میں تعداد بڑھائیں
واپڈا کا حال اس سانپ جیسا ہے جو اپنے بچے خود ہی کھاجاتاہے مثال کے طور پر یعنی اگر واپڈا نے 12ارب کی بجلی پیدا کی تو 9ارب کی بجلی وہ خود کھا جاتاہے واپڈا کے چپڑاسی لیکر بڑے آفسر تک سب کو بجلی مکمل فری ہے جسکا تمام لوڈ صارف پر ڈالا جاتاہے جو کے کھلی زیادتی ہے ۔اور پھر دوبارہ 12ارب کا خرچہ پھر عوام سے چارج کرتاہے جو کے سراسر عوام پر ظلم ہے۔ ٔ

اور پھر یہ سائل کا اس طرح انتظار کرتے ہیں جیسے کتا ہڈی کے انتظار میں بیٹھاہوا ہے۔ گھریلو کنکشن ، ہو یا کمرشل کنکش ہو یا پھر انڈسٹریل کنکشن رشوت کے بغیر کام ہو ہی نہیں سکتا۔

جہاں سے بھی شوروع کرو گے ہر محمکمہ اس وقت رشوت اور لوٹ مار کی دلدل میں پھنساہو ا ہے۔واپڈا دفترسے جب گھریلو میٹر لگاناہو تو رشوت اور سفارش کے بغیر کام ہونا ناممکن ہے۔ جسکی کم از کم رشوت گھریلو میٹر کی 15000/-روپے ہے اور میٹر کی قیمت اس کے علاوہ ہے۔اگر رشوت نہیں دو گے تو یہ ٹال مٹول کرکے بہانے بنانے لگتے ہیں کے میٹر شارٹ ہیں سال دو سال سے میٹر نہیں مل رہے پھر یہ اپنے مفاد کے لئیے اپنے ہی محکمہ کو گالی بکنے لگتے ہیں کے نظام درست نہیں میٹر پیچھے سے نہیں آرہے لیکن جب صارف انکو رشوت دے دیتاہے تو میٹر ایسے لگ جاتاہے جیسے کسی اندھے آدمی کا آپریشن ہواور اسکی بینائی واپس آگئی ہو۔ہربنس پورہ سیکٹر میں واپڈا کے دفتر میں گوہر نامی شخص ہے جو کے نماز بھی پڑتاہے لیکن رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتایہ سرعام رشوت ہر سائل سے طلب کرتاہے۔ اسی دفتر میں ایک جا وید نامی شخص میٹرلگانے کے بہانے صارف سے پیسے اکھٹے کرکے عمرہ کرنے چلا گیا یہ بدبخت دین سے کتنی دور ہیں اسکا مطلب یہ کے اس سے اوپر کے تمام آفیسر کرپٹ اور رشوت خور شیطان ہیں جنکو قبر کے گھپ اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا ان حرام خوروں کی گاڑیاں ۔رہائش ، بھاری تنخواہیں سب عوام پر بوجھ ہیں۔جب یہ محکمہ میں بھرتی ہوتے ہیں تو حلف اٹھاتے ہیں ۔

۔ دوسری حقیقت بھی آپ کو بتائے چلتاہوں بارش کی وجہ سے مین تار سے بجلی کی تار میں آگ لگ گئی سب گلی والے نکل آئے واپڈا کو فون کیا کہیں زیادہ نقصان نہ ہو جائے لیکن کو ئی شخص نہیں آیا صرف میرے گھر کی بجلی گزشتہ چار دن ہو گئے بند پڑی دفتر جاکر شکائیت درج کرائی فریش جمع شدہ بل کی کاپی پر SDOسے مارکنگ کراکر 5دن سے دفتر کے چکر لگاتے رہے یہاں تک کے گھر میں وضو کرنے کے لئیے بھی پانی نہیںSDOاور XENاور بھی بل پر جس جس آفیسر کا نمبر لکھا اسکو میسج کیادرج کمپلینٹ کا حوالہ بھی دیالیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی تھی5دن بڑی پریشانی میں گزرے واپڈا کے دفتر جاکر بیٹھ گیا اور بھی لوگوں کے شکائیت کے فون آرہے تھے لیکن یہ بدبخت فون کم ہی اٹھاتے تھے ۔ اگر سن بھی لیں تو کہتے لائین مین فلاں visit پر بجلی صیح کرنے گیا ہے جبکہ میرے سامنے یہ لوگ آگ جلاکر ہاتھ سینک رہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ روزانہ 2سے 3 گھنٹے جاکر انکی منت سماجت کرتا مگر ندیم نامی لائن مین مجھ پر گرم ہوگیا کہتا ہے تم کو نہیں معلوم ہم کیوں نہیں جارہے چائے پانی دو گے تو کا م ہوگا۔
میں نے کہا کے میں اپنے رب کے حکم کو نہیں جھٹلاسکتا رشوت نہیں دوں گاتمھاری یہ ڈیوٹی ہے ۔ میں قرآن کے حکم کو نہیں جھٹلاسکتا۔ تو 6دن بعد صرف مین تار سے جوڑ لگاناتھا۔ پھر ایک خدا ترس اس محکمہ کے چیرمین نے فون کرکے مجھے کہا کے فکر نہ کرو میں کروا دیتا ہوں لیکن ایک بزرگ لائین مین آیا صرف موقع دیکھ کر چلاگیا مجھ سے بولا سیڑھی لاؤ میں نے کہا کتنے فٹ کی وہ اسی وقت واپس چلاگیا میں ایک گھنٹے بعد پھر آفس ہربنس پورہ چلاگیاتو اس حرام خور نے شکائت رجسٹر پر OKلکھ دیا میرے پوچھنے پر بتایا کام ہوگیاآپ نئی Complaintدرج کرائیں میں نے کہا نئی کیوں کراؤں پھر سات دن بعد ایک تار میں صرف جوڑ لگاناتھاجو کے لگ گیا میں نے اﷲ کریم کا شکریہ ادا کیا کے میں رشوت جیسے گھناؤنے جرم سے بچ گیااور قرآن کے حکم کو جھٹلانے والے بدبخت کے چنگل سے بچ نکلا۔حدیث میں آتاہے
ِ عبداﷲ بن امر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کے رسول اﷲ ﷺ نے لعنت کی اس شخص پر جو رشوت دیتا ہے اور اس پر بھی جو رشوت لیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد کتاب 24 حدیث نمبر 3573) ِجس طرح پہلے پاک ٹیل موبائل آیا اب اسکا نام زونگ ہے اسکی SIM 30000/- روپے کی تھی پھر آہستہ آہستہ 5000روپے کی ہو اگئی اور اب ہر SIMفری میں مل رہی ہے وجہ کیا ہے کمپنیاں زیادہ ہیں اس لئے کسی کی monoplyنہیں ہے اسی طرح بجلی کے لئے بھی دوسرے ملکوں کی کمپنیوں کو پاکستان میں بزنس کے لئے لایا جائے جیسے چائینہ صرف 300روپے ماہانہ پرجتنی مرضی بجلی جلاؤ کی سہولت پاکستانی عوام کو دینا چاہتاہے ۔ تاکہ ان حرام خوروں سے عوام کی جان چھوٹ جائے 14سال ہوگئے بجلی کانظام ان سے صیح نہیں چل رہا بجلی آرہی نہیں لیکن بل روز بروز دوگنا آرہا ہے یعنی جو بل 250روپے آتا تھا اب وہ 3500روپے آرہاہے جسکی وجہ سے عوام پریشانی اور سوچ کی وجہ سے کینسر، شوگر، ہارٹ اٹیک،، فالج، بلڈ پریشر، ہیپاٹائیٹس جیسی بیماریوں میں تیزی سے مبتلا ہو رہی ہے صرف اس بدبخت حرام خور محکمہ کے وجہ سے ہسپتال میں مریضوں کا اضافہ روزانہ ہو رہاہے ۔ اب کرپشن کی انتہادیکھیں ۔۔۔۔

7سال پہلے SDOنصیراﷲ ناصر LS وسیم SDCراشد لائن مین اسداﷲ ، اور اسکا بیٹا اقبال، 20کروڑ کا واپڈا میں فراڈ کیا۔ اسی طرح واپڈا کلرک نے بجلی کے بلوں میں 64کروڑ روپے کا تمام صارف کو زائد بل بھیج کر فراڈ کیا کلرک حافظ عقیل احمد اور آصف، اسی طرح لاہور میںFIA راجہ محمدّ احمد ، ایو ب افضل، راجہ محمد اصضر، اظہار، الطاف، شاہد ،راشدطور، محمد ناصر، ملک زاہد، محمد اقبال، محمد سعید، چوہدری منظور،زولفقار بلوچ، اور رمضان221ملین کا واپڈا میں فراڈ کیا ۔ اور اس طرح 980بلین کا عوام کے ساتھ واپڈا کے بدبختوں نے فراڈ کیا یہ فیگر آپ گوگل پر بھی دیکھ سکتے ہیں اور سینکڑوں کیس جو پینڈنگ پڑے ہیں عدالتوں میں جسکا کوئی حساب نہیں۔ یہ پرچیز میں بھی اربوں روپے کا فراڈ کرتے ہیں اور تو اور ٹرانسفارمر کا سکریپ بھی فروخت کر دیتے ہیں۔اور نئے ٹرانسفارمر خریدنے کی مد میں سالانہ 25بلین کی چوری غبن کیا جاتاہے۔ یہ سب مردہ ضمیر اس پاکستانی عوام پر پڑتاہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا وہ جسم جسکی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا اسلام میں رزق حلال کی بڑی اہمیت ہے رزق حلال کو نماز اور روزہ کی طرح فرض قرار دیا ہے ۔ حرام خوری دراصل ایک ایسی لعنت ہے جسکے باعث معاشرے میں زبردست بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور خیروبرکت کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں. الیکشن کے دنوں میں اور ہر سیاسی پارٹی کے ڈیروں پر بجلی چوری ہوتی ہے جسکا بل غریب عوام کو بھرنا پڑتاہے ِ

" قرآن فرماتاہے "رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں دوزخی ہیں" اگر عوام صیح ہوجائے تو یہ تمام حرام خور تیر کی طرح سیدھے ہوسکتے ہیں۔ جو بھی قرآن کا حکم جھٹلاتاہے کم از کم اسکا تو بائیکاٹ یہ بے ضمیر عوام تو کرسکتی ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 325 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood Ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood Ali Hashmi: 38 Articles with 15590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: