پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: مغیزہ امتیاز
موجودہ حالات میں دیکھا جائے توملک کی بنیاد سیاست، معیشت اور احتساب پر ہے۔ اس معاشرے میں ہرفرد خصوصی اہمیت کا حامل ہے جس کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ممکن نہیں۔ فرد کے ساتھ ساتھ معیشت بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس ملک کی معیشت جتنی مضبوط ہوگی وہ ہر لحاظ سے اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کی آبادی اس وقت دنیا میں پانچویں نمبر پر جب کہ معیشت کے لحاظ سے تئیسویں اور خریداری میں اڑتیسویں نمبر پر ہے۔

ذات باری تعالیٰ نے اس گوشہ جنت کو اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سے نوازا ہے یعنی کہ تمام معدنی وسائل سے ہمکنار کیا ہے۔ اس دھرتی کی مٹی ذرخیز ہے اور اس کے با شندے اس سے بے لوث محبت کی بنا پر ہر وقت ترقی کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ہماری پاکستانی فوج کے وہ جوان ہیں جو بلا خوف و خطر اپنے فرائض کو ایمانداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو آزادی سے اب تک جنگی، سیاسی تنازعات، بڑھتی ہوئی آبادی اور براہ راست کم سرمایا کاری جیسے مسائل کا مسلسل سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس سے ملک کی صنعت و تجارت پر متاثر کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی اس حالت کے ذمے دار ہمارے سیاسی رہنما ہیں جن کے اپنے مفاد پرستانہ فیصلوں نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناتے میں اس بات کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہوں کہ ملکی ترقی کے لیے ہمیں فرداً فرداً کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں وطن کو بلندی کے مینار پر استوار کرنے کے لیے حکومت کا قدم بہ قدم ساتھ دینا ہوگا۔

معیشت کی مضبوطی اور ملکی استحکام کے لیے بنیادی دینی و عصری تعلیم و صحت کا نظام، یکساں احتسا بی نظام، ملکی مصنوعات کا فروغ، مہنگائی کا سدباب، سرمایا کاری پر توجہ، بدعنوانی اور کرپشن کی روک تھام، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی، حکومتی قوانین پرعمل داری، ٹیکس کی بروقت ادائیگی، بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول، اسراف سے انحراف، جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ذرائع پیدا کرنے ، باہمی اخوت و محبت کا فروغ اور سیاسی اتحاد سمیت کئی دیگر عوامل پر غور کرنا ہوگا۔ یہ وہ چیدہ چیدہ عوامل ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معاشی ناؤ کو پار لگایا جا سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ساخت مضبوط بنائی جاسکتی ہے۔

آئیے! آج ہم سب پاکستانی مل کراس بات کا عزم کریں کہ ہم مسلم دور حکومت کو واپس لانے اور اقبال و قائد کے سنہرے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے وطن کو خوش حال بنائیں گے اور اس کام کی ابتدا ابھی سے، خودی سے کریں گے۔ وہ دن دورنہیں جب پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی اولین معیشت میں ہوگا، ان شاء اﷲ
بقول اقبالؒ
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر
بہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر
اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 112 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 346170 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: