میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فاطمہ خان
جموں کشمیر برصغیر کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ جموں کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جب کہ بھارت کشمیر کی قدرتی افادیت اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کے ضمن میں کشمیر کو بھارت ماتا کا حصہ مانتا ہے۔ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں بھی زیرِبحث ہے لیکن گزشتہ 70 برس سے جوں کا توں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ممبران خصوصاً ویٹو پاور ممالک کا منافقانہ رویہ اس مسئلے کو طول دیے چلے جا رہا ہے۔ وادی کشمیر اپنے لیے کسی عیسی کی تلاش میں ہے اور چیخ چیخ کر پکار رہی ہے۔
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

بھارت کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خودمختار قرار دیتا ہے۔ جموں کشمیر کی سحر انگیز وادی جو کہ خوبصورتی کی اعلی مثال ہے کو متنازعہ بنانے میں جن افراد کا ہاتھ ہے ان میں مہاراجہ ہری سنگھ ، جواہر لال نہرو اور لارڈ ماونٹ بیٹن شامل ہیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو خطرہ محسوس ہوا جس کی آگاہی جواہر لال نہرو نے دی کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرنے کی صورت میں کشمیر کا سربراہ شیخ عبداﷲ جو کہ گورننگ نیشنل کانفرنس کے راہنما تھے کو بنا دیا جائے گا۔ ایک مسلم اکثریت کی ریاست کا سربراہ بھی ایک مسلمان ہو گا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے بھی مہاراجہ ہری سنگھ کو یہ باور کروایا کہ اگر کشمیر کا الحاق پاکستان سے کیا گیا تو یہ ایک غیر دوستانہ فعل ہو گا۔ لہذا تقسیم کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ دردِ قولنج کا بہانہ بنا کر منظر سے غائب ہو گئے۔نہرو اور لارڈ ماونٹ بیٹن کی اس سازش کا جو نتیجہ جو وہ خواہش رکھتے تھے کہ پاکستان اک غیر مستحکم ملک ہوگا اور مجبور ہو کر دوبارہ متحدہ ہندوستان کا حصہ بن جائے گا لیکن ایسا نہ ہو پایا البتہ اس سازش کا نتیجہ کشمیر کی خون میں ڈوبی وادی ہے۔

کشمیر زمین پر جنت کا روپ ہے لیکن بھارت کے سفاکانہ کردار نے کشمیر کو مقتل بن دیا ہے۔ جہاں روزانہ سینکڑوں کشمیری بھارتی سکیورٹی فورسز کے تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ پہلی جنگ جس میں پاکستان نے جموں کشمیر کا 25 مربع میل رقبہ آزاد کروالیا جو کہ آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس جنگ کے دوران 1948 میں بھارت کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں لے گیا اور کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا۔ اقوام ِمتحدہ نے جنگ بندی کروادی اور کشمیر کا حل کشمیری عوام کی رائے شماری قرار دیا۔ جموں کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداﷲ نے ریفرنڈم کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد انڈین گورنمنٹ نے شیخ عبداﷲ کو برطرف کر دیا اور قید کر دیا اور بھارتی حکومت کے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خودمختار قرار دی۔ 1965 کی جنگ بھی کشمیر کو بنیاد بنا کر پاکستان پر مسلط کی گئی۔1971ء کی جنگ اسی کا شاخسانہ تھی۔ 1990ء کی دہائی میں کشمیر کو میدانِ جنگ بنا دیا گیا جہاں بھارتی فوج نے داخل ہوتے ہی خون کی ندیاں بہا دیں۔ وادیِ کشمیر کی برفیلی چوٹیاں بے گناہ کشمیریوں کے لہو سے رنگین نظر آنے لگیں۔ کشمیرکی وادی جلنے لگی اور کشمیر کی گلیاں ماوں کے ماتم سے گونجنے لگیں۔ بچے سہمے ماوں کی قبروں پر پتھر بننے لگے۔
کوئی آواز اب اٹھائے کہ کشمیر جل رہا ہے
کوئی انصاف اب دلائے کشمیر جل رہا ہے
ہر فرد ہے پریشان، بے چین ودل شکستہ
کوئی مرہم انہیں لگائے کہ کشمیر جل رہا ہے
ماوں کی گود سونی، ہر باپ تڑپ رہا ہے
کوئی ان کی سن لے ہائے کشمیر جل رہا ہے
ظالم ہے سینہ تانے مظلوم بے سہارا
کوئی ظلم اب مٹائے کہ کشمیر جل رہا ہے
دن میں بھی ہے اندھیرا، خورشید بھی ہے بے نور
کوئی شمع بن کر آئے کہ کشمیر جل رہا ہے

قتل، نوجوانوں کے پر اسرار اغواہ، خواتین کی عصمت ریزی، پرتشدد واقعات، جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے چلے گئے۔ مائیں بچوں کے لوٹ آنے کی منتظر بوڑھی ہو گئیں اور بچے بے گوروکفن رہ گئے۔ نامعلوم قبروں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔2010ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کے اس فعل پر اظہارِافسوس کیاجب کشمیر میں 6000 نا معلوم قبریں دریافت ہوئیں۔ 4جون 2018کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 49 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں کشمیریوں کے بے دریغ قتل اور پر تشدد واقعات پر پاکستان اور بھارت دونوں کو مورد ِالزام ٹھہرایا گیا۔

اس رپوٹ کے بعد کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی تفتیش کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔ تو پاکستان نے اس حل کو خوش آئیند قرار دیا جب کہ بھارت نے ان حقائق کو غلط قرار دیا۔ کشمیر میں جنسی ہراساں کرنے اور تشدد کے بڑھتے واقعات نے خواتین کو خودکشی پر مجبور کردیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ 20 سال میں یہ واقعات 17 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔ 2013 میں شہید کیے گئے افراد کی تعداد 135 جب کہ 2014ء میں 185، 2015 میں 130 اور 2016ء میں 247 بے گناہ کشمیریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ سلسلہ 1990ء سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ 2017 اور 2018 میں 258 اور 413 معصوم شہید کیے گئے۔اقوام ِمتحدہ اور تمام ممالک کشمیر میں جاری اس تشدد پر خاموش ہیں۔ آخر کشمیری کب تک بھارت کی لگائی اس ظلمت کی آگ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ کشمیر کے باسی کس کو اپنی بے بسی کا الزام دیں خود پر ہونے والے ظلم کا حساب کس سے لیں۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 86 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 346169 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: