مثبت اور منفی سوچ

(Ayesha Tariq, )

مثبت سوچ پتہ ہے کس کو کہتے اس چیز کے بارے میں سوچنا جو انسان کے پاس بچ گئی ہو۔ اور منفی سوچ اس چیز کے بارے میں سوچنا جو کھو کئی ہو۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس چیز کے بارے سوچنے کے عادی ہیں۔ جو ہم کھو چکے ہوتے ہیں۔ اور اس سب کے دوران ہم اس چیز کو بھی بھول جاتے ہیں جو ہمارے پاس ہوتی ہے۔ جو ہماری دسترس میں ہوتی ہے۔

کیا آپ کو پتہ ہے برے حالات میں بھی مثبت سوچ بنائے رکھنے سے کیا ہوتا ہے۔ انسان کو برے حالات میں سرویو کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ اور وہ طاقت انسان کو زندگی میں لڑنا سکھاتی ہے، آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔ مگر ہم اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ہر وقت ماضی میں کی گئی غلطیوں اور گناہوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ ان کا گلٹ لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم گناہ کرنے کے بعد عذاب اور سزا پر بس فوکس کرتے ہیں مگر اس بات پر فوکس نہیں کرتے کے قرآن میں جہاں پر اللہ نے گناہ کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے کی یا بعد کی آیات میں اپنے غفور ورحیم ہونے کا ذکر بھی کیا ہے۔ اگر کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کے گلٹ میں ساری زندگی گزارنے اور منفی رویہ اختیار کرنے کی بجائے اللہ سے معافی مانگے اور خود بھی خود کو معاف کرنا سیکھیں۔

پتہ نہیں کیوں ہم لوگ اتنی منفی سوچ کیوں رکھتے ہیں ہر وقت منفی سوچتے رہتے ہیں۔ جو چیز ہوئی ہی نہیں ہوتی اس کے بارے میں سوچ کے پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ بری چیز ہمارے سا کتنا برا کر سکتی ہے۔ مگر مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آتا ہم اس کے بارے میں کیوں ہر وقت سوچتے رہتے ہیں۔ جو ہم کھو چکے ہوتے ہیں۔

" یہ دنیا بہادر اور daring لوگوں کی ہے۔ جو آگے بڑھیں اور اس کو اپنی مثبت سوچ سے فتح کریں"

دنیا میں ایک واحد مثبت سوچ ہی ہے جو انسان کو آگے بڑھانے، کچھ کرنے کے لیے اکساتی ہے۔ انسان صرف مثبت سوچ سے ہی اس دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ مثبت سوچ سے انسان کے اندر مثبت شعائیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور مثبت شعائیں پتہ ہے کیا ہوتی ہے۔ جب انسان اچھے کام کرے، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو وہ ان سے بدل کا لالچ رکھنا چھوڑ دے۔ ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان کبھی حالات سے ہارتا نہیں ہے۔ وہ وقتی مشکلات اور حالات کے بارے میں سوچنے کی بجائے انعام ( پھل ) پر نظر رکھتا ہے۔ وہ جو صبر کا پھل ہوتا ہے اس پہ۔ ایک مثبت سوچ رکھنے والے انسان کے لیے کوئی بھی تجربہ برا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے تمام حالات واقعات اس کو کچھ سکھانے کے لئے ہیں۔ ان میں اس کے لیے کچھ ہے۔

مگر ایک منفی سوچ رکھنے والا انسان ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ برے، حالات واقعات اس کے ساتھ کتنا برا کر سکتے ہیں۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتے رہتے جو کھبی ہوئی ہی نہیں ہوتی۔ منفی سوچ انسان کو مفلوج کر دیتی ہے انسان کی grow کو روک دیتی ہے۔ اور انسان ناکامیوں کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔

مثبت سوچ انسان کو مضبوط کرتی ہے۔اور منفی سوچ انسان کو کمزور اور ڈرپھوک بنا دیتی ہے۔ انسان کے اندر کی ساری توانائیوں کو دمگ کی طرح کھا جاتی ہے۔ مگر مثبت سوچ انسان کو آگے بڑھانے اور کچھ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ انسان کو حالات کے آگے ہتھیار ڈالنے نہیں دیتی۔ مثبت سوچ رکھنے والے لوگ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی پر امید ہوتے ہیں۔ ان میں اندر شکر گزاری کی عادت ہوتی ہے۔ مگر منفی سوچ کا ملک انسان ہر وقت مایوسیوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت گلے شکوے کرتا دکھائی دیتا ہے۔

انسان بہت عظیم مخلوق ہے اس میں بہت طاقت ہے اسے دنیا کو سنبھالنا ہے اور وہ اپنے آپ کو ہی نہ سنبھال پائے کتنے دکھ کی بات ہے۔ ہمیں اگر زندگی میں خوشی اور کامیابی حاصل کرنی ہے تو ہمیں مثبت رویہ اپنانا ہوگا۔

اگر ہم مثبت رویہ اپنا چاہتے ہیں تو پہلے قدم کے طور ہمیں اپنے موڈ کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔ لوگوں کی بجا تنقید سے پریشان ہو کے منفی سوچنے کی بجائے ان کی بجا تنقید کو وقار کے ساتھ اگنور کرنا سیکھنا ہوگا۔ یہ سوچ کے پریشان ہونا چھوڑنا ہو گا کہ بری چیز ہمارے ساتھ کتنا برا کر سکتی ہے۔ بلکہ اس چیز پہ فوکس کرنا ہوگا کہ ہم دنیا میں کتنی اچھی پھیلا سکتے ہیں۔ اللہ سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور ان کو تقسیم کرنے کا شرف بھی عطا فرمائے اور اللہ ہم سب مثبت رویہ اختیار کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 353 Print Article Print
About the Author: Ayesha Tariq

Read More Articles by Ayesha Tariq: 27 Articles with 7483 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: