ویلنٹائن ڈے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انعم ثناء
’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ایک خاص رومی تہوار ہے جس کی ابتداء کے متعلق کوئی تحقیقی بات کہنا غلط ہو گا البتہ کتابوں اور کہانیوں میں اس کے بارے میں پتا چلتا ہے کہ اس کی ابتداء 1700ء میں ہوئی، جب رومی بادشاہ کلادیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیارکرنے میں مشکل پیش آئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتا لگوایا۔ بادشاہ کو معلوم ہوا کہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھر بار چھوڑ کر جنگ پر نہیں جانا چاہتے تو اس نے شادی پر پابندی لگوا دی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کو ماننے سے انکار کیا اور شادی رچا لی بلکہ سپاہیوں کی بھی شادی کروانے لگا۔ جب بادشاہ کو اس بارے میں معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور بعد میں اس کو پھانسی دے دی گئی۔ جس دن اس کو پھانسی دی گئی وہ دن 14فروری کا تھا۔ محبت کرنے والے اس دن کو اس کی یاد میں مناتے ہیں۔

اپنے اندر کی ناجائز آرزوؤں کو مقدس تہوار کی آڑ میں منانے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایسی ہی نادرمثالوں میں سے ایک ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ ہے کہنے کو تو یہ اب ہمارا ایک خاص تہوار بن گیا ہے جسے ہم سب بہت ہی شایان شان طریقے سے ہر سال لاکھوں کڑوڑوں لگا کر مناتے ہیں۔ آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو ذرائع ابلاغ کس طرح ایک مقدس تہوار بنا دیتے ہیں اس کی واضح مثال ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ یورپ میں بھی ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کو آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن اور اجتماع سمجھا جاتا تھا۔ سننے میں عجیب لگے کہ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک کثیر تعداد ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کو برا سمجھتی ہے مگر ذرائع ابلاغ ان کے خیالات کو منظر عام آنے نہیں دیتا۔ پاکستان میں جس طرح ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ مٹھی بھر خاص لوگوں سے نوجوان نسل اور مغرب زدہ طبقات میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے اس کی توقع ایک ایسے معاشرے کے لیے زہر قتل ہو سکتی ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔

’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی جس وسیع پیمانے پر اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں تشہیر کی جاتی ہے اور جس والہانہ انداز میں مختلف ادارے اس کو خاص بنے میں جتے ہوتے ہیں اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ مورننگ شوز میں خصوصاََ سرخ لباس پہن کر ہوسٹ آتی ہیں ان شوز میں آنے والے مہمان بھی سرخ لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں۔ جہاں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ایک خاص اور زندگی کا اہم دن ہے اس لیے اسے لازمی منائیں۔ چینلز باقاعدہ اپنے چینل پر پٹی چلاتے ہیں کہ اپنی محبت کیااظہار کے لیے ایس ایم ایس کریں۔ آخر یہ ہے کیا؟پہلے ہر سال جنرل اسٹورز اور کتابوں کی دکانوں پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کارڈز کی بھر مار ہوتی تھی مگر اب اسمارٹ فون نے باقی سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ سہولت بھی فراہم کردی ہے۔ اس کے علاوہ پھولوں، چاکلیٹ کا بھی تبادلہ کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں ہی اوسطاََ 189 ملین گلاب تحفے میں دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں معاشرے کا ایک بڑا حصہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے حوالے سے کچھ خاص رائے قائم نہیں کر سکا ہے۔ وہ جن کی رائے عام افراد کی رائے کو متاثر کرتی ہے ان کے مطابق ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی ہمارے معاشرے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ادیب امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں لبرل ازم آرہا ہے جو کسی حد تک ناگریز ہے اس تہوار کا ہماری ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو اسے اپنا رہے ہیں وہ محض فیشن سمجھ کر تہوار کواپنا رہے ہیں۔ اس کی ہمارے ملک اور ہمارے مذہب میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ڈرامہ نگار اور ناول نگار ماہا ملک اس تہوار کو معاشرے میں بے راہ روی کے فروغ کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔

پاکستان قو م کا المیہ یہ ہے کہ یہ احساس کمتری کی ماری ہوئی ہے یہ آج بھی غلامی کے احساس سے باہر نہیں آسکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی اپنے آپ کو غلام سمجھتی ہے اور جو اس آقا کرتا ہے وہ وہی اپنا لیتی ہے کیونکہ غلام وہی کرتا ہے جو اس کا آقا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ استاد بھی اس روش کے لیے ذمہ دار ہیں، بچے والدین اور استاد سے سیکھتے ہیں جب کہ آج کے دور میں سنتے صرف استاد کی ہیں۔ بڑے پرائیوٹ اسکول خود اس کو فروغ دے رہے ہیں ایسے حالات میں بچوں میں ان تہواروں کے بارے میں شعور کیسے بیدار ہو؟

ایک طرف اس کو اپنانے والے موجود ہیں اور دوسری طرف اس کی مذمت کرنے والے بھی بہت ہیں۔ گزئشتہ سالوں میں جس طرح یہ تہوار مقبول ہو ا ہے اس کی روشنی میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمارا معاشرہ مغربی تقلید میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے۔

پاکستان میں اہل مغرب سے نفرت کرنے والے عناصر ہی نہیں اس کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے والے بھی بہت ہیں۔ سب اپنی جگہ لیکن افسوس ہم اس قدر مادہ پرست ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے چاہنے والوں کے لیے وقت نہیں کہ جو ہم اپنی محبت کے اظہار کے لیے ایک خاص دن کا سہارا لیں۔ وہ دن چاہے ویلنٹائن ڈے ہو یا فرینڈ شپ ڈے، مدرز ڈے ہو یا فادرز ڈے ہمیں اپنے اپنوں کو ئی بتانے کے لیے کہ وہ ہمیں کتنے عزیز ہیں ہمیں ایسے بے ہودہ تہواروں کو ہرگز ضرورت نہیں۔خدارا ہوش کے ناخن لیں ا بھی بھی وقت ہے اپنی اولاد کو، بہن بھائیوں کو، دوستوں کو جہنم کا ایندھن بننے سے روک لیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 137 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345849 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: