ہم پر اپنا کرم کر

(Maria Shabbir, )

 پہلے سب کہتے تھے تم تنگ نہیں پڑتی؟ میں کہتی تھی کس چیز سے؟لوگ کہتے تھے یہ ہر وقت کا سہمے رہنا چُپ رہنا کمرے میں بند رہنا میں چُپ رہتی تھی آج جب میں اندر ٹوٹ چکی ہوں تب بھی ہنستی ہوں لوگوں کے سامنے ہنستی ہوں تب بھی سب کہتے کیسے ہنستی ہو تھکتی نہیں ہو کیا؟ تو میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہنس دیتی ہوں بس کیوں کے لوگ اپنے نظریے سے دیکھتے ہیں بس بری پہلے بھی لگی تھی بری اب بھی لگی بس اتنا ہوا کے حالات وقت انسان کو سب سیکھا دیتا ایک کہانی بنا دیتا کبھی جوکر بنا دیتا کبھی پتھر کبھی موم پر، یقین جانو لوگ پھر بھی طعنہ کشی کریں گے ہاتھ میں زخم کر کے اُس پر نمک چھڑکنے لگے گے ،مگر پھر بھی ان کا من نہیں بھرے گا ،میں اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ کا آگے چل پڑی اُس منزل جو آخری منزل جو ایک سفر ہے رستے میں کسی کی آواز پر روکنا نہیں ہے ایسے لگتا ہے لوگوں نے ٹھیکا لیا ہو زندگی اجیرن کرنے کا ،لوگ ہمیشہ بس گراتے ہیں یقین جانے کے اگر انسان خود ایک سیڑھی پر چڑھتا ہے یا پھر بلندی کی طرف جاتا ہے اُن کو برداشت نہیں ہوتا کہ یہ شخص اتنی ترقی کیسے کر سکتا ہے ۔آج کے دور میں انسان کبھی انسان کو سہارا نہیں دے گا مگر ﷲ جسے چاہتا تھام لیتا ہے اُس سے مانگے وہ دیتا چلا جاتا ہے لوگوں سے کیا امید لگانی لوگ تو یہاں حسد کر سکتے یہاں پیٹھ پیچھے چھری مار سکتے اتنی صفائی سے ان کا وار ہوتا کے ہمیں یقین نہیں آتا ،اور وار غیر نہیں کرتے اپنے کرتے تو اُن کے وار سے عجیب ہنسی آتی خود پر کے وہی اپنے ہیں جن کا سوچا تھا تھامے گے انہوں نے ہاتھ تھاما بھی تو کیوں کے کسی گہری کھائی میں گرا سکیں لوگ کبھی مکمل نہیں ہو سکتے، آپ گورے ہیں تو کہیں گے گورے کیوں ہیں آپ کالے ہیں تو تو کہیں گے آپ کالے کیوں ہیں ؟ آپ پتلے ہیں تو پتلا ہونے کا طعنہ آپ موٹے ہیں تو موٹا ہونے کا طعنہ آپ چُپ رہو گے تو باتیں آپ بولوں گے تو باتیں یہ باتیں کبھی ختم ہو نہیں سکتی ہیں۔ لوگ بس اُتنا کہتے جتنا سوچتے ہمیں بھی اپنی حد نہیں اسلام میں رہتے کرنا ہوتا پر اسلامی کو بہن جی اور فیشن کو بے حیائی کا نام دیتے ہیں لوگ تو لوگ ہوتے ہیں بجائے اس کے ہم ﷲ سے مانگے کیوں کے لوگ تو کچھ کر نہیں سکتے اگر کوئی اچھا ہے تو رب وسیلہ بھجتا ہے لوگ بس باتیں کرنا بنانا جانتا ہے اگلے کے گھر کیا ہو رہا وہ پتہ کروانا اپنا گھر نا دیکھنا لوگ جو آتے ہیں بیچارہ بیچارہ کہتے ہیں پیٹھ پیچھے یہی تیری چغلی کرتے ہیں لوگوں میں تُجھے نیچا کرتے ہیں یہ دنیا محض ایک دھوکا ہے۔

آنکھوں کا ہم اسے دنیا سمجھ بیٹھے آخرت بھول بیٹھے کے وہ رب جب حساب لے گا کیا بتاؤ گے کہ لوگوں کو ستایا تو سزا پاؤ گے ارے انسان سنبھل جاؤ یہ فانی دنیا اصلی دنیا کی تیاری کرو ہم ایسے ہر چیز سے آزاد گھوم رہے کہ کہیں پکڑ نہیں ہماری بھول بیٹھے ہیں وہ جو آسمان میں رہتا اُس کی پکڑ بھول بیٹھے لوگ خُدا کو بھول بیٹھے اپنے الگ ہی کاروبار کھول رکھے ہیں اُس کے احکام بھول بیٹھے ہیں ہم الگ دنیا خود ہی بنا بیٹھے ہیں ہم ظالم ہوئے بیٹھے ہیں ہم ایک خُدا، والے تنہا کھڑے ہیں اور سینکڑوں رب والے اکٹھے ہیں ہمیں ناجانے کیا ہو گیا ہے ہم کسی کا بھلا نہیں کر سکتے تو کم سے کم تکلیف بھی مت دیں ،مگر افسوس ہم بے حس ہو چُکے ہیں ہمیں سنبھال ائے رب کائنات ہمیں اِس فانی دنیا کا خیال نکال پھینک ہم تیری عبادت کے لیے بنائے گئے پیدا کیے گئے نہ کے دُکھ درد کی وجہ بننے کے لئے ﷲ ہدایت دے ہم سب کا دل پھیر دے ان برے کاموں سے ، ہم پر اپنا کرم کر رحم کر مولا ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 124 Print Article Print
About the Author: Maria Shabbir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: