پی ایچ ڈی (Ph.D)کے بارے میں

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ان چند ڈگریوں میں سے ہے جن کو الٹا پڑھا جاتا ہے جیسا کہ LLB,MBBS وغیرہ ہیں۔ ان ڈگریوں کے الٹا پڑھے جانے یا لکھے جانے کی وجوہات کا ہمیں ادراک نہیں لیکن ان کو عام طور پر ایسا ہی لکھا ، پڑھا اور بولا جاتا ہے ۔ خیر جو باتیں معاشرہ قبول کر لیتا ہے وہ رواج پا جاتی ہیں اور انہیں اپنا لیا جاتا ہے۔
جس طرح پی ایچ ڈی کی ڈگری کے نام کی ترتیب پر اعتراض نہیں رہا ایسے ہی اس بات پر معترض ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ یہ ڈگری تعلیم کے صرف ایک پہلو پر دی جاتی ہے جس کو عرفِ عام میں’ تحقیق ‘یا’ ریسرچ ‘کہا جاتا ہے۔ جب کہ تعلیم کے اس کے علاوہ بھی بہت سے پہلو موجود ہیں ان باقی سب پہلوؤں کو ڈگری سے کیوں محروم رکھا گیا ہے یا رکھاجا رہاہے، اس کے متعلق کبھی کوئی بات یا بحث سننے یا پڑھنے کو نہیں ملتی۔
انسان اپنے مزاج کے لحاظ سے مختلف النواع واقع ہوا ہے۔ اس کی خواہش، کوشش، جستجو اور شوق کے دائرے بے شمار ہونے کے ساتھ ساتھ متنوع و مختلف ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ادب، طب، طبیعات، کیمیا، ریاضی، فلکیات وغیرہ میں علیحدہ علیحدہ نوبل پرائز زسے، منفرد قسم کا کام کرنے والی شخصیات کو، نوازا جاتا ہے۔لیکن کمی اس بات کی ہے کہ تعلیم کے میدان میں صرف ریسرچ کو ہی پی ایچ ڈی کے اہل سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بڑی حد تک نا مناسب اور غیر موزوں محسوس ہوتی ہے ۔
ہم اس بحث کا آغاز ’ پی ایچ ڈی‘ (Ph.D)کے ٹائیٹل ہی سے کرتے ہیں تا کہ بحث کو معقول شروعات میسر آ سکے۔ پی ایچ ڈی کا مطلب ہے ’ڈاکٹر آف فلاسفی‘۔اور لفظ’ ڈاکٹر‘ کا لغوی مطلب کمی بیشی کرنا، ملاوٹ کرنا ، تبدیلی کرنا،ترمیم کرنا وغیرہ یا ایسا کرنے والا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ’ڈاکٹر آف فلاسفی ‘سے مراد فلسفے میں دخل اندازی کرنے والا، فلسفے کی تشریح، توضیح پیش کرنے والا، فلسفے کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنے والا وغیرہ ہے۔اصل فلسفی تو وہ ہے جو اپنا فلسفہ پیش کرے اور اس کے تشریح و توضیح کے ساتھ اس کا استدلال پیش کرے۔اب بات یہ ہے کہ فلسفے کا تعلق صرف مقالے سے نہیں ہے اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے اس لئے ہر شعبے اور انداز کے لئے بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا اجرا مناسب تقاضا کہا جا سکتا ہے۔پہلے فلسفی مقالہ لکھ کر فلسفی نہیں بنا کرتے تھے بلکہ وہ زبانی بھی اپنا فلسفہ پیش کر دیا کرتے اور پھر زبانی بحث و تکرار سے وہ سننے والوں پر اپنا فلسفہ یا سوچ واضح کر دیا کرتے۔ مقالہ تو ایک رسمی اور محدود انداز یا اظہار ہے حتمی یا لازمی نہیں ہے۔
میڈیکل ڈاکٹرمختلف شعبوں میں سپیشلائیزیشن کرتے ہیں کوئی آنکھ، کوئی کان، کوئی ہارٹ اور کوئی دماغ وغیرہ میں۔ ہر شخص کی ترجیحات کا ایک جیسا ہونا فطرت کے خلاف ہے۔ خود فطرت بھی انواع و اقسام میں منقسم ہے جیسا کہ ہر چیز کی بہت سی اقسام اپنا وجود رکھتی ہیں۔ ( اس موضوع پر علیحدہ سے بحث کی ضرورت ہے۔) لیکن بات صرف اتنی مختصر، سادہ اور غیر فلسفیانہ ہے کہ انسان کے ذوق میں بہت بڑی رنگینی اور بوقلمونی ہے۔ اس کو چند روایتی اصولوں یا رواجوں میں باندھ دینا بالکل نا مناسب اور نا معقول ہے۔انسانی نفسیات کی تغیریت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس لئے تعلیم جیسی بہت سے پہلوؤں والی حقیقت کو ریسرچ کی ایک ہی تنگ وتاریک گلی سے گزارنا کسی طرح بھی معقول محسوس نہیں ہوتا۔
تعلیم کے کچھ نمایا ں پہلو جن سے سارا زمانہ واقف ہے یہ ہیں: پڑھنا، پڑھانا، لکھنا، سننا، سنانا ، سمجھنا وغیرہ۔ ہر شخص کا مزاج لکھنے کا نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ہمیشہ دنیا کے ہر علاقے میں موجود رہی ہے جو پڑھتے تو بہت ہیں لیکن لکھتے کچھ نہیں۔ اور ایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے بہت کم ہیں لیکن لکھتے بہت زیادہ ہیں۔کچھ لوگ پڑھاتے بہت اچھا اورزیادہ ہیں اور کچھ سنتے بہت زیادہ اور اچھا ہیں۔اب تعلیم کے ان نمایاں پہلوؤں میں سے صرف ایک یعنی لکھنے کو ہی ڈگری سے نوازنا اور باقی پہلوؤں کو اس ڈگری یا اس کے ہم پلہ کسی پہلو کو ڈگری سے محروم رکھنا کسی طرح بھی قرینِ انصاف نہیں ٹھہرتا۔
جن لوگوں نے سینکڑوں یاہزاروں کتابوں کا مطالعہ کیا، ان سے ان کے علم کے مطابق کوئی امتحان (انٹرویو وغیرہ)لے کر ان کو ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی ڈگری سے کیوں نوازا نہیں جا سکتا۔ اگر بی اے اور ایم اے تک کتابی علم کے ادراک اور پیپر ورک کی بنا پر ڈگری دی جا سکتی ہے تو اس سے آگے یہ سلسلہ کیوں روک لیا جاتا ہے۔ اس میں روایت پرستی کو الہامی اصول کا درجہ کیوں دے دیا گیا ہے کہ اس میں کسی تبدیلی یا ترمیم کو اچھی نظر سے دیکھا ہی نہیں جاتا ، بلکہ اس تبدیلی کے متعلق سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔اور صدیوں پرانے مقالہ لکھنے کے طریقہ کار کو ہی روا رکھا جا رہا ہے۔اصل میں ڈگری کسی اعلیٰ سطح کا کام کرنے والے دماغ کو دی جاتی ہے۔ اب کام کی نوعیتوں میں فرق کی کوئی حد نہیں۔ دماغ کا اپنے آپ کو کسی اعلیٰ سطح پر لے کے جانا بھی تو ایک بڑا کام ہے۔ اب اگر کوئی دماغ اس قدر بلندی حاصل کر چکا ہے کہ اس کو ڈگری سے نوا جا سکتا ہے تو اسے ڈگری مل جانی چاہیئے۔ شاید اسی تناظر میں اعزازی ڈگری متعارف کروائی گئی۔ دنیا کے بہت سے ایسے لوگوں کو مختلف یونیورسٹیوں نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا ہے جو کسی مقالے کے مصنف نہ تھے، انہیں صرف کسی ایک فیلڈ میں ایسی نمایا ں خدمات انجام دینے پر پی ایچ ڈی کی ڈگریوں سے نواز دیا گیا اوراس طرح ان لوگوں کی حوصلہ افزائی اور سر پرستی کی گئی۔ اگر یہ اعزازی ڈگری دینا جائز سمجھا جا سکتا ہے تو تعلیم کے باقی پہلوؤں پر، جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے، ڈگری جاری کرنا تعلیم کی ترقی، عزت ووقار اور اس کے تقدس میں کسی قسم کی کمی کا موجب نہیں بنے گا، بلکہ تعلیم افزا ہو گا ، دوسرے پہلوؤں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی ہو گی اور اس طرح مختلف مزاج رکھنے والوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جو بڑی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
ایک شخص ساری عمر بہترین قسم کا استاد بن کر زندگی گزارتا ہے لیکن اپنے عہدے سے بغیر کسی اعزاز کے ریٹائر ہو جاتا ہے، اس کے مقابلے میں دوسرا استاد جو اپنی کلاسیں اچھے طریقے سے نہیں پڑھاتا اور اپنا زیادہ وقت پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے میں صرف کرتا ہے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا جاتا ہے۔ ایک نے تعلیم پھیلائی ہے اور دوسرے نے کچھ حوالے جمع کئے ہیں ، دونوں میں سے پہلے کی خدمت زیادہ ہے جب کہ زمانے کا رواج دوسرے کو اعزاز سے نوازتا ہے اور پہلے کو نظر انداز کرتا ہے۔ جو کہ نا انصافی ہی نہیں بلکہ ظلم بھی ہے( میرا مطلب یہ نہیں کہ مقالہ لکھنے والے اپنا کام نہیں کرتے ،لیکن کچھ لوگ ایسے ہو بھی سکتے ہیں)۔
ایک شخص کئی کتابوں کا خالق ہے لیکن وہ کوئی خاص مقالہ نہیں لکھتا ۔اس کی لکھی گئیں سب کتابیں اس لحاظ سے اتنی کار آمد نہیں کہ ان پر اسے کوئی ڈگری عطا نہیں کی جائے گی چاہے ان کے لکھنے میں اس نے زندگی ہی کیوں نہ صرف کر دی ہو۔ لیکن کتابوں کے حوالے اکٹھے کر لینے والے پرڈگری واجب ہو جاتی ہے۔ بلکہ جن کتابوں پر وہ پی ایچ ڈی کر رہا ہوتا ہے ان کتابوں کے مصنف کو کوئی ایسی اہمیت حاصل نہیں ہوتی جب کہ ان پر مقالے لکھنے والے کو اعزاز بھی ملتا ہے اور اعزازیہ بھی۔ یہ بات بڑی حد تک نا صرف قابلِ اعتراض ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی لگتی ہے۔ کتاب یا کتابیں لکھنے والے کو بھی کو ئی شاباش ملنی چاہیئے نہ کہ سب کچھ مقالہ لکھنے والے کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے اور باقی سب کو فارغ کر دیا جائے۔
کسی شخص میں جو خوبی یا نیکی ہو اسے ماننا چاہیئے۔ اگر کوئی شخص عبادت گزار ہے لیکن غریب ہے تو اسے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چوں کہ اُس کے پاس دولت نہیں ہے اس لئے وہ عبادت گزاری کے اعزاز کا بھی مستحق نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص سخی ہے لیکن نمازی نہیں تو اسے یہ نہیں کہا کا سکتا کہ چوں کہ وہ نمازی نہیں ہے اس لئے اس کی سخاوت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بات کا مقصد یہ ہے کہ ہر خوبی کو اس کے اپنے لحاظ سے پرکھا اور دیکھا جائے نہ کہ ایک خوبی کو کسی اور خوبی کے تناظر میں لیا جائے جو کہ کسی طرح سے بھی قابلِ تحسین نہیں ہے۔
مزید یہ کہ بعض مقالوں میں کسی قسم کا لیول بھی مدِ نظر نہیں رکھا جارہا ۔بس کچھ لوگوں کا ان پر اظہارِ تسلی کر دینا کافی سمجھا جاتا ہے۔ چاہے ان میں تحقیق یا ریسرچ نام کی چیز نہ ہو۔ ہمارے یہاں ادب کے لحاظ سے لکھے جانے والے اکثر مقالے ’حیاتی اور فن ‘کے عنوان تلے لکھے جا رہے ہیں اور پھر ان پر ڈگریوں کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ حیاتی اور فن کی بجائے مقالے میں کوئی نئے ادبی گوشے یا ایسی بات جو کسی اور میں نہ ہو تلاش نہیں کی جاتی جو کہ مقالے کا اصل مقصد ہے۔بعض اوقات بعض مقالے تحقیق کے معیار کے مطابق نہ بھی ہوں تو کوئی بات نہیں بس تعلقات کی مضبوطی ، مقالے پاس کروانے کے کام آسکتی ہے اور یہ تعلقات بہت سے تنقیدی معیاروں پر بھی حاوی ہوتے سکتے ہیں۔
میرے ذاتی مشاہدے میں ایسے کئی احباب آئے ہیں جن کی ذاتی لائبریریوں میں سینکڑوں یا ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ ہے یا تھا۔ اور جن میں سے اکثر وبیشتر ان کے ذوقِ مطالعہ کی تسکین بھی کر چکی تھیں لیکن ان بیچاروں کے لئے کسی یونیورسٹی کے پاس کوئی ڈگری نہیں تھی یا نہیں ہے۔
صرف مقالے کو ڈگری سے نوازنے کا پرانا انداز تعلیم اور علم کی اصل روح کو موت کی گھاٹ بھی اتار رہا ہے۔ اس دور میں ڈگری ہولڈروں کی کوئی کمی نہیں رہی لیکن علم کی حقیقی سپرٹ رکھنے والے لوگ بڑی تیزی سے ناپید ہورہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دور میں تعلیم ، علم اور کردار اپنی موت، ہمارے جیسے روایت پرستوں کے ہاتھوں، مر چکے ہوں گے۔ اور ہر طرف ڈگری ہولڈروں کا ہولڈ ہو چکا ہو گا۔ اُس دور کے ( اﷲ نہ کرے )وارد ہونے سے پہلے ہی اس کے متعلق کچھ سوچنا ہو گا اور ایسی وجوہات کا سدِ باب بھی کرنا ہو گا ورنہ نوشتہ دیوار یہی ہے یعنی ڈگری عام ، علم تمام۔
اب رہی بات کہ مقالے کے علاوہ ڈگری دینے کا ہمارے پاس نہ کوئی رواج ہے اور نہ کوئی طریقہ کار ہے۔ تجویز کی حد تک تو بات معقول ہے لیکن اس سوچ کے اطلاق کا کوئی طریقہ یا اندا ز بھی توسامنے ہو تا کہ اس پر عمل پیرا ہونے میں آسانی ہو سکے۔
اس ضمن میں عرض ہے کہ:
۱۔ پہلے اس سوچ کو مان لیا جائے کہ ہاں تعلیم کے دوسرے پہلو بھی ڈگری کے مستحق ہیں۔
۲۔ اس کے بعد تعلیم کے ہر پہلو کے لحاظ سے یونیورسٹیوں کے سینڈیکیٹ اتفاق رائے سے کچھ ضابطے اور اصول وضع کریں۔
۳۔ پھر ان اصولوں کے مطابق امیدواروں کو پرکھنے کے لئے ہر یونیورسٹی میں ایک بینچ یا بورڈ تشکیل پائے اور میرٹ لسٹ تیار کی جائے۔
۴۔ اس میرٹ لسٹ کی تشہیر کی جائے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کرایا جائے۔
۵۔ اس میرٹ لسٹ کے مطابق درخواستیں وصول کی جائیں اور بے لاگ گواہی،جائزے اور معلومات حاصل کی جائیں۔
۶۔ ان معلومات کی تصدیق کے بعد ان کی روشنی میں حق دار امیدواروں کو ڈگریوں سے نوازا جائے۔
یہ اگرچہ سنی سنائی بات ہے لیکن اگر اس کا وجود نہیں بھی ہے تو پھر بھی کوئی بات نہیں کہ شاید امریکہ کی کسی یونیورسٹی نے کورس ورک پر بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا اجرا کیا ہوا ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہت اچھی ابتدا ہے جو کہ معقول ہے اور مستقبل قریب میں زیادہ مقبول بھی ہو سکے گی۔اگر ایسا نہیں بھی ہے تومیری گزارش ہے کہ ایسا ہونا چاہیئے تا کہ بہت سے لوگ اس ڈگری کا اعزاز حاصل کر سکیں جو کہ تعلیم کے صرف ایک پہلو کو روایتی انداز میں دی جا رہی ہے۔اگر کوئی سیاحت میں کتابیں لکھتا یا معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کام پر بھی پی ایچ ڈی دی جائے۔ اگر کوئی اور کارنامہ کرتا ہے جس کا تعلیم کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہے تو اسے بھی اس ڈگری سے نوازا جائے۔
میرے ایک جاننے والے ہیں جو کہ قصور شہر کی ایک منفرد شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا نام یہاں اس بحث کے ضمن میں لینا مناسب لگتا ہے، وہ ہیں جناب سردار قیصر خاں صاحب۔ موصوف گفتگو میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں اور دانشوروں کی مجلس میں بیٹھ کر وہ کسی اور کو بولنے کا موقع کم ہی دیتے ہیں اور اپنی بات کا تسلسل ٹوٹنے بھی نہیں دیتے۔ یہ ان کی سب سے نمایاں خوبی ہے اور وہ باتیں بھی علمی، ادبی، سیاسی معاشرتی، معاشی ہر طرح کی کرتے ہیں لیکن کبھی معیار سے گری گفتگو ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتی۔ اتنا تھوڑا سا تعارف ان کی بات کے حوالے سے ضروری تھا کہ تبھی بات کا صحیح ادراک ہو سکتا ہے۔ ان سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ جناب آپ کی تعلیم کیا ہے۔ انہوں نے برجستہ جواب دیا: پی ایچ ڈی ان کنورسیشن ( Ph.D in Conversation) ۔ یہ چھوٹا سا لیکن خوبصورت واقعہ اوپر کی گئی بحث کی بہت مدلل تائید کرتا ہے۔جناب ناصر ناکا گاوا صاحب کو کہ اردو نیٹ جاپان کے بانی وسرپرست ہیں غالباً چار کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں دنیا بھر کی معلومات سمیٹ دی گئی ہیں ان کتابوں پر ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کا اجرا کیا جاسکتا ہے۔جناب محترم پروفیسرمقصود حسنی صاحب زبان وادب پے اتنا کچھ لکھ چکے ہیں کہ ان پر ایم فل کے کئی مقالے ہونے کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کے بھی مقالے ہو رہے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ ادب پر بھی خود ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جا سکتی ہے۔جناب پروفیسر جیکب پال صاحب میرے ایک بہت پیارے دوست ہیں ۔ ان کے پاس پاکستانی اردو اور پنجابی فلموں اور اداکاروں کا اتنا مواد ہے کہ ان کو فلمی دنیا کی پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جا سکتی ہے۔میرے ایک دوست پروفیسر یونس حسن کوئی تین سو کے قریب ریسرچ آرٹیکل لکھ چکے ہیں جن پر ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جا ری کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح تجربہ کار اینکر پرسنز جو ہزاروں پروگرام کر چکے ہیں ان کو اس کام میں مہارت حاصل کرنے کی پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جا سکتی ہے۔ سیاست کا طویل تجربہ حاصل کرنے والے اور اس شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو بھی اس ڈگری سے نوازا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر شعبے میں ذہن کا ارتقاع حاصل کرنے والوں کو یہ ڈگری دی جا سکتی ہے۔
پی ایچ ڈی کے متعلق ایک اور فکر مندی کی بات یہ ہو گئی ہے کہ پی ایچ ڈی بجائے ریسرچ کے، حوالوں کی مشق بن گئی ہے۔ ایک مقالہ نگار اپنے مقالے کا پیٹ بھرنے کے لئے لائبریریاں کھنگالتا ہے۔ بہت سی کتابیں فراہم کرتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے حوالے پے حوالے چڑھانا۔اور اپنا مقالہ خوب مرصع کر لینے کے بعد تسلی کر لیتا ہے کہ اب اسے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہو ہی جائے گی۔ جو شخص اپنی تحریرسو دو سو کتابوں کے حوالوں کے حوالے کر دے گا وہ اپنی بات کیا کہے گا۔ اس کی حالت کتابوں کے بوجھ تلے دبے چیخیں مارنے والے ذہن کی ہوتی ہے جس کی چیخ وپکار سن کر کچھ مہربان محرمِ حال اس کی حالتِ زار پر ترس کھاتے ہوئے اس کے سر پر ڈگری رکھ دیتے ہیں تا کہ اس کی چیخ وپکار بندہو جائے۔ مقالے کے اندر حوالوں کے علاوہ بھی تو کچھ ہونا بنتا ہے۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص کیا بات کرتا ہے ، اور اس بات کے حق میں کیا دلائل وبراہین لاتا ہے۔
بات کا مقصد یہ ہے کہ روایت پسندی کو غیر منطقی انداز میں روا رکھنا کوئی بڑی خدمت نہیں ہے۔ پی ایچ ڈی کا مقالے کوئی پانچ سو صفحات کی سرحد عبور کرے تو قابلِ تحسین سمجھا جاتا ہے جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایسی کون سی بات تھی جو تھوڑے صفحات میں نہیں کہی جا سکتی۔ اور کسی بات کو ثابت کرنے یا پیش کرنے کے لئے چار پانچ سو صفحات کی ضخامت کیوں ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ دنیا کی بہترین باتیں مختصر ترین انداز میں کہی گئی ہیں اور کہی جا سکتی ہیں۔ مقالے کی اتنی لمبائی کو بھی استدلالی اور منطقی انداز میں دیکھ لینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔
اب مزید یہ ہو گیا ہے کہ مقالے کے ساتھ ساتھ کچھ ریسرچ آرٹیکل بھی یسرچ کے رسالوں میں چھپوائے جانے ضروری ہو گئے ہیں۔ بات کو اس طرح مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔چار پانچ سو صفحات کا مقالہ بھی اپنی معنویت سے محروم سا ہونے لگا ہے۔
ہم اس بات کے حق میں نہیں کہ مقالے نہ لکھے جائیں اور نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ سارے مقالے ہی غیر معیاری ہوتے ہیں۔ نہیں ایسی بات بھی نا انصافی اور حقیقت سے روگردانی ہے۔ مقالے کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ برقرار ہے اور رہے گی بھی اور بعض مقالے واقعی انقلابی سوچ کے نقیب ہوتے ہیں۔ ہم ان کو انتہائی عزت و اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور یہ عزت و اہمیت ان کا حق ہے جو کہ دیا جانا چاہیئے۔ لیکن ہماری بحث کا مرکز اپنی جگہ قائم ہے کہ مقالے کے ساتھ ساتھ دوسرے پہلوؤں کو بھی پی ایچ ڈی جیسی عزت و اہمیت سے سرفراز کیا جائے، کیوں کہ باقی پہلوؤں کا بھی حق ہے کہ ان کی سرپرستی کی جائے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 452 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 159 Articles with 141996 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: