ضرورت

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ خونی رشتہ بھی آڑے وقت میں آڑے آسکتا ہے اور بغیر کسی غلطی کے اور آپ کے تمام تر ریکورڈ کی درستگی کے باوجود آپ کو جواب دیا جاے گا جو مجھے ۵ گھنٹے انتظار کے بعد صاف جواب دے دیا گیا کہ کیونکہ آپ کے خونی رشتہ دار کااندراج غلط ہوا ہے تاریخ پیدایش کا اور اپ کے شناختی کارڈ کی تاریخ تنسیخ کے باوجود آپ کے نئے کارڈ کی پیدایش ممکن نہیں اگر اپ اپنی موجودہ درست تاریخ کو اس غلط اندراج کے مطابق غلط داخل کر دیں حلفیہ لکھ کر کہ اس کی ذمہ داری تمام تر مجھ پر ہو گی تو ہم آپ کو بنا کر اور اس کا ذمہ دار بھی آپ کو ٹھیرا کر اپنی زمہ داری سے باعزت بری ہو سکتے ہیں اور اس ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں اور اس کے بعد مجھے اپنا خونی رشتہ واقعی میں خونی لگنے لگا اور ساتھ ہی یہ احساس کہ انسان انسان سے کس قدر دور ہو کر بھی جڑا ہوتا ہے اور اس کے بعد میں نہ صرف اپنے لیے بلکہ ان کی درستگی کی دعا مانگنے پر مجبور ہو چکا تھا
لیکن اپنی شناخت کھو چکا تھا معاشرے میں اپنی ایک شناخت کے باوجود

اور دوسرا یہ کہ اصول کی بات اپنی جگہ اور ان اصولوں سے انحراف اپنی جگہ اور وہ انسان جس کے لیے ہی اصول اور قانون بنتے ہیں وہی ان اصولوں کی زد میں آکر دھکے کھاتا ہے اور وہ اس کے اپنے بناے اصول ہوتے ہیں جو بعد میں اسی کے گلے پڑتے ہیں جیسے آج کل اسمبلی کا قانون 62 63 جو سیاست دانوں کو کو بھاری پڑ رہا ہے اور کچھ لوگ اسی پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں حالانکہ اس پر شائد ہی کوی پورا اترے اور اور ایک تو پورا کا پورا اس میں اتر کر اپنے عہدہ سے ہی اتر گیا اور ایک کی عمر 62 اور ایک کی 63 اور ایک تیسرا جس نے خوبصورتی سے اس 62 63 کے سانچے کو زرا بڑا کر کے اپنے ناپ کا بنوا لیا خرچہ کر کے
میں نے بھی سوچا کہ اس میں پورا اتروں تو میں بڑی مشکل سے چلا تو گیا اندر مگر بری طرح پھنس گیا اور سانچے کو کاٹ کر مجھے رہای ملی

اور انسانوں میں باسٹھ برایاں تو تریسٹھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں جن پر اگر نظر کی جاے تو مسئلے مملکت اور معاشرے اور خاص طور پر ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے ورنہ صرف خوشگوار لا تعلقی کا ہی رستہ رہ جاتا ہے جو مکمل جدای سے بہتر ہے خاص طور پر اگر اگلی نسل کی آمد ہوچکی ہو

سارے ہی انسان کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ٹھرتے ہیں کہ ڈاکٹر کو انجینیر اور انجینیر کو وکیل اور وکیل کو موٹر میکینک اور ہر ایک کو ہر ایک کی کہیں نہ کہیں ضرورت پڑتی رہتی ہے اور جس کے پاس پیسہ ہے اس کو ہنر اور ہنر والے کو پیسے کی ضرورت اور ان سب کو خدا کی ضرورت اور خدا کو کسی کی ضرورت نہیں
اور ضرورت ایجاد کی ماں اور تجسس اس کا باپ ہو شائد اور حرص اس کی بگڑی ہوی اولاد

اور ضرورت کا یہ کھیل اس زندگی کو رکھتا ہے رواں دواں اور اگر ضرورتیں حد سے بڑھ جایں تو انسان انسان سے بد گمان اور اگر کوی ضرورتیں کم کر لے تو وہ شاداں وفرحاں اور مقصد انسان کو کوشاں رکھتا ہے اور نیک مقصد آدمی کو خوش گماں رکھتا ہے اور برا مقصد رکھتا ہے کوی تو اس کو رکھتا ہے پریشان اور عشق رکھتا ہے خلق کو حیران اور مسافر رکھتا ہے ہے سفر کا سامان اور پل کی خبر نہیں رکھتا سو برس کا سامان اور اپنے اندر اترا کوی انسان الگ ہی رکھتا ہے زمان و مکان اور شُکر کرے وہ جو پڑھے

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 251 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 212 Articles with 56920 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: