جنگ کے مہیب سائے اور ہم

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ام محمد عبداﷲ۔ جہانگیرہ
اس وقت جب کہ سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے اور فضائیں جنگ کی آہٹیں سن رہی ہیں تو کیا یہ وقت خوف، بے چینی، پریشانی ، گھبراہٹ اور اضطراب کا ہے؟ ہرگز نہیں، مشکل وقت قوموں کو متحد کرنے اور قوت ایمان کی تجدید کے لیے آتے ہیں۔ یہ وقت ہے توبہ و استغفار کا، تجدید ایمان کا، آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہونے کا، دو قومی نظریہ سمجھنے اور سمجھانے کا، نسل نو کو پاکستان کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کرنے کا، بے حیائی اور شرک و الحاد کی تشہیر کرتی ہندوستانی فلموں، گانوں، کارٹونز اور سب سے بڑھ کر ہندوانہ رسوم رواج سے جان چھڑانے کا۔

یاد رکھیے! مومن کے لیے ہر حال میں صرف خوشخبری ہی ہے۔ مشکل میں صبر کرنے پر، دکھ میں راضی برضا رہنے پر، توبہ و استغفار میں بخشش کی امید پر، زندگی میں تکبیر بلند کرنے کا فرض سرانجام دینے پر، موت میں شہادت کی نعمت پر، فتح میں عفو و درگزر اور معاف کرنے پر۔

یاد رکھیے! فتح و نصرت صرف مومن کے لیے ہے مشرک اس فتح سے تہی دامن تھے۔ تہی دامن ہیں اور ہمیشہ تہی دامن ہی رہیں گے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر کے اس کی عافیت میں نہ آجائیں۔ اﷲ تعالی پاکستان اور افواج پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 283 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 345364 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: