ایک کالم اپنی شریک حیات کے لئے

(Arif Kisana, Sweden)

ہمارے معاشرہ میں بیوی کے سوا ہر شخص کی تعریف کی جاتی ہے حالانکہ پیدا کرنے والے نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ تم ایک دوسرے کا زوج ہو یعنی دو جزو جن سے ایک جوڑا بنتا ہے۔ یہ فضیلت کسی اور رشتہ کو نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں والدین، بہن بھائیوں، اولاد، رشتہ داروں اور دوستوں کی جیسے چاہے تعریف کریں کسی کو معیوب نہیں لگے گی لیکن جونہی آپ نے اپنی شریک حیات کے لئے تعریف کے دو بول کہہ دیئے تو پھر دیکھیں کیسی درگت بنتی ہے۔ اس "رسک" کے باوجود مجھے یہ کالم اپنی رفیقہ حیات کے لئے لکھنا ہے اور انہیں سالگرہ کہ مبارک باد دینا ہے۔ قبل ازیں اخوت فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی اہلیہ کو سالگرہ پر اپنے ایک کالم کی صورت میں مبارکباد پیش کی تھی۔ انہی کی پیروی کرتے ہوئے مجھے بھی اپنی شریک زندگی سجیلا کو ان کے جنم دن 2 مارچ پر مبارکباد پیش کرنا ہے۔

محبت کیا ہے؟ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے لیکن اسے بہت مختصر الفاظ اور خوبصورتی سے جامعہ پنجاب لاہور میں شعبہ پنجابی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمن نے یوں سمجھایا جو کئی کتابیں پڑھ کر بھی شائد سمجھ میں نہ آسکے۔ گذشتہ سال وہ سویڈن تشریف لائی تھیں اور ان سے کئی نشستوں میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ محبت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محبت یہ ہے کہ جو آپ کا محبوب چاہے، آپ بھی وہی چاہو۔ جو محبوب کرے، تم بھی وہی کچھ کرو۔ اگر ایک بھوکا پیاسا ہو تو دوسرا بھی اسی حالت میں ہو۔ محبوب جس حال میں ہو، تم بھی اسی حال میں رہو، جو چیز ایک کو پسند ہو، دوسرا بھی وہی پسند کرے اور جس سے ایک کو نفرت ہو دوسرا بھی اس سے نفرت کرے اس طرح دونوں میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے اور کوئی فرق نہ رہے۔ واہ کیا خوبصورت انداز میں محبت کی وضاحت کردی یعنی "میں تے ماہیا اک جندڑی تے اونج ویکھن نو دو" (میں اور میرا محبوب یک جان ہیں صرف دیکھنے میں دو نظر آتے ہیں)۔ یہ سن کر مجھے اپنی قسمت پر رشک آیا، مجھے محبت کا دعوی ہے تو دوسری طرف سراپا عشق ہے۔ واقعی محبت ایک اعلیٰ و ارفع جذبہ ہے اور ایسی زندگی خدا کی عطا اور فضل ہے۔ خدا اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کے بندے بھی محبت الہی سے سرشار ہوتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے کہ تم وہی چاہو جو خدا چاہیے۔ اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کردو اور پھر وہ مقام آتا ہے کہ خدا ان سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ خدا سے راضی ہوجاتے ہیں۔ اخلاص ہو تو عشق مجازی سیڑھی بن کر عشق حقیقی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ محبت جینے کے آداب سکھا دیتی ہے۔ واقعی دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں اور اپنی تو کیفیت بقول فراز یہ ہے کہ
ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا

یہ ستائیسویں رمضان کی بابرکت شام تھی جب ہمارا نکاح مسنونہ ہوا اور یکم مئی 1991 کو شادی خانہ آبادی ہوئی۔ ہماری رفاقت کے ستائیس سال ہونے والے ہیں، تب سے زندگی کے دکھ سکھ، غمی خوشی اور دھوپ چھاؤں میں ایک ساتھ ہیں اور حالات کیسے بھی آئے دونوں مل کر سامنا کرتے ہیں۔ شادی کے بعد چار سال پاکستان رہنے کے بعد دونوں سویڈن منتقل ہوئے۔ ایک نیا ملک جہاں نہ کوئی جاننے والا اور نہ ہی مستقبل کے حالات کا اندازہ تھا۔ مجھ یاد ہے وہ 19 مارچ 1995 کی ایک سرد شام تھی جب ہم اسٹاک ہوم پہنچے۔ کئی اندیشے، انجانی فکریں اور نئے دیس میں اپنا مقام بنانے کا چیلنج۔ ترک وطن کرنے والے ان حالات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس دور میں جب کبھی افسردہ اور متفکر بھی ہوا، تو پاس آکر حوصلہ دیتے ہوئے کہا پریشانی کی کیا بات ہے، خدا پر بھروسہ رکھیں، ہر طرح کے حالات میں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ پھر ہر معاملہ میں میری ڈھارس بندھائی، خانگی زندگی ہو یا معاشرتی معاملات، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے تعلق ہو یا دوست احباب سے معاملات، ہم واقعی یک جان دو قالب کی صورت ہیں اور دعا ہے کہ پروردگار حسد اورنظر بد سے بچائے ۔خدا کا کرم ہے کہ ہمیں کام بھی ایک ہی ادارہ، کارولنسکا انسٹیوٹ جیسی عظیم میڈیکل یونیورسٹی میں کام ملا ہے۔ ہم خدا کے فضل و کرم اور عنائیات پر اس کے حضور شکریہ کے ساتھ جھکے ہوئے ہیں۔ جب 2007 میں اپنے گھر میں ماہانہ درس قرآن شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو سجیلا نے کہا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ہر ماہ گھر درس پر آنے والوں کے لئے مہمان داری کا فکر نہ کریں۔ الحمد للہ اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل کے تحت گیارہ سال سے مسلسل اور باقاعدگی سے ہمارے ہاں درس قرآن کا سلسلہ جاری ہے۔ سویڈن میں شوکت خانم، اخوت فاونڈیشن، سکون اور دوسرے فلاحی کاموں کا بیڑا اٹھایا تو وہ ہر مرحلہ اور ہر موقع پر میرے ساتھ ہیں۔ زندگی میں کبھی گلے شکوے نہیں کیئے، مشکل حالات صبر و برداشت سے گزارے، کبھی بڑی خواہشات نہیں کیں بلکہ ہمیشہ صرف ایک ہی خواہش کا اظہار کیا کہ یونہی پہلو میں بیٹھے رہو۔

خالق کائنات نے قرآن حکیم میں اہل ایمان کی اس آرزو کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے جس کا اظہار وہ حضور باری تعالیٰ میں یوں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے" (فرقان 74)۔ بیوی اگر دل کا قرار ہے تو شوہر کڑی دھوپ میں شجر سایہ دار ہے۔ بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر کبھی خدا ناخواستہ مالی یا صحت کی شدید پریشانی لاحق ہوجائے تو صرف میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست احباب بس تھوڑی دیر کے لئے آئے اور خبر گیری کرکے چلتے بنے، ایک دوسرے کے لئے صرف میاں بیوی ہی جیتے ہیں۔ مشاغل، عادات اور دلچسپیاں مختلف ہونے کے باوجود محبت اور خوشیوں بھری زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کو خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرنا ہوتا ہے۔ رسول اکرم کی ازدواجی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور آپ نے بیوی سے بہترین سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ قارئین اس رشتہ کو وہ اہمیت اور مقام دیں جس کا یہ متقاضی ہے۔ اپنی شریک زندگی کی تعریف کریں، اسے وہ مقام اور عزت دیں جس کی وہ حق دار ہے۔ اپنے قرابت داروں میں اپنی اہلیہ کو کبھی فراموش نہ کریں اور ہی نظر انداز کریں۔ اس کی خدمات کا برملا اعتراف کریں، ایک گھنے سایہ کی طرح اس پر چھاوں رکھیں اور اس کی ڈھال بن کر رہیں۔ میاں بیوی کے درمیان کوئی بات بھی پوشیدہ نہ ہو اور ایک دوسرے سے کبھی بھی غلط بیانی سے کام نہ لیں۔ خوشگوار اور کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے یہی اصول کارگر ہیں۔
سجیلا آپ کو سالگرہ بہت مبارک ہو!
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 526 Print Article Print
About the Author: Arif Kisana

Read More Articles by Arif Kisana: 209 Articles with 90416 views »
Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More

Reviews & Comments

you are comited with urdu culture and panjabi your service for the said people are wellcome for ever
By: M.D.FAIZI, karachi. on Sep, 10 2019
Reply Reply
0 Like
Language: